the Era of fourth Islamic Calafat Hazrat Ali (R.A) in Urdu


خلیفہ چہارم حضرت علی کے دور خلافت میں تہذیب و تمدن اور ان کے کارنامے

                        حضرت علی کے پانچ سالہ دور میں کافی اتار  چڑھاو رہی اس لئے آپ ملک کے نظم و نسق کی طرف متوجہ نہ ہوسکے، تاہم عمال کی نگرانی  اور رعایا کی سوچ سے آپ کبھی بھی غافل نہ ہوئے۔سلطنت کے  امور میں آپ حضرت  عمر کے نقش قدم پر چلتے رہے۔انتظامی معاملات میں آپ شوری کے اصول کو پسند کرتے تھے۔

          فوج کا نظام اور اخلاقی تربیت۔    حضرت علی فوج کی اخلاقی تربیت  پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ فتح حاصل کرنے کے بعد درگزر سے کام لیتے تھے۔   حضرت علی اپنے ساتھیوں  کو بڑی سختی سے ہدایت کرتے تھے کہ شکست خوردہ دشمن کا تعاقب نہ کریں اور نہ ہی زخمیوں پر گھوڑے دوڑا یں۔مغلوب دشمن کے مال کو لوٹنے کی بھی اجازت نہ تھی۔

         عدالتی نظام کی بہتری۔    حضرت علی نے عدالتی نظام کو بہتر بنایا۔ قاضی اور  عدالت خود مختار تھے جس کی مثال انہوں نے خود  ہی قائم کی۔ ایک مرتبہ آپ کا زرہ ایک یہودی نے  چرایا۔آپ نے قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائیر کرایا اور اپنے بیٹے حضرت امام حسن کو بطور گواہ پیش کیا۔  قاضی نے آپ سے کہا کہ بیٹا باپ کے حق میں بطور گواہ نہیں بن سکتا ہے، اس کے بعد قاضی نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا،  حضرت علی خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ نے فیصلہ بخوشی قبول کرلیا۔  یہودی اس بات پر اس قدر خوش ہوا کہ وہ مسلمان ہوگیا۔

        عمال کا محاسبہ۔  حضرت علی  اپنے مقرر کردہ عمال کا سختی سے محاسبہ کرتے تھے۔ چنانچہ آپ نے ایک مرتبہ ایک عورت کی شکایت پر ایک عامل کی سخت سرزنش  کی۔ اسی طرح سے آپ نے اپنے دست راست چچازاد بھائی حضرت عبداﷲ ابن عباس سے بھی  بیت المال کی رقم خرچ کرنے کے بارے میں سخت محاسبہ کیا۔ آپ نے جنگ صفین کے موقع پر اپنے ایک جان نثار سالار اشعت بن قیس کو ایک شکایت کی بنا پر معزول  کردیا۔

          بیت المال کا درست استعمال۔    حضرت علی بیت المال کا روپیہ خرچ کرنے میں بڑی احتیاط کرتے  تھے۔  آپ اپنے ذاتی گزارے کے لیئے بیت المال سے بہت کم تنخواہ لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے بھائی حضرت عقیل نے بیت المال سے کچھ رقم قرض لینے کی خواہش کی۔ آپ نے ان کی درخواست کو ناجائز قرار دیتے ہوئے  رد کردیا۔

علی
علی

          ذمیوں کے  حقوق۔    ذمیوں کے حقوق کے سلسلہ میں آپ  حضرت عمر کے طرز عمل کو بطور مثال اپنے سامنے رکھتے تھے۔ ذمیوں کو آپ کی دور حکومت میں مکمل حقوق حاصل تھے۔

          دارالخلافہ کی تبدیلی۔    حضرت علی نے انتظامی سہولت کے پیش نظر دارالخلافہ کو مدینہ منورہ سے کوفہ تبدیل کردیا۔لیکن وہاں غدار صفت لوگوں نے آپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔اختلاف امت کے المیہ کا آغاز ہوگیا۔مسلمان مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔حضرت علی نے بڑے ہمت و  استقلال سے حالات کا مقابلہ کیا۔

حضر  علی  (رض)  کےکارنامے

(1)     عہد رسالت  میں حضرت  محمد (ص)کے  کارناموں سے حضر علی واقف ہے، جب آنحضرت  نے نبوت  کا دعوی  کیا۔ آپ  نے  کم عمر  ہونے   کے باوجو د آپ  کے دعوے  کی  تصد یق کی۔

(2)     مدینہ  میں آنحضرت  کو دشمنان اسلام  کے خلاف جتنی لڑائیاں لڑنی پڑیں ان  سب  میں  حضرت علی نے بہادری کے  جوہر دکھائے۔ آپ  نےبدر  کی جنگ میں ولید بن عتبہ اور  جنگ خندق  میں مشہور یہودی پہلوان عمر  و  بن عبدود کو  واصل جہنم کیا۔

(3)     خلفائے راشدین کے دور  میں حضرت علی مجلس مشاورت کے ایک اہم رکن رہے۔ ہر مسئلہ پر  آپ   کی رائے سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔

(4)     حضرت علی بحثیت خلیفہ حضرت عمر کے نقش  قدم پر چلتے  رہے۔ آپ کو نمائشی کاموں سے سخت  نفرت تھی۔ آپ  نے اپنے  طرزعمل سے جمہو  ری روح کو  زندہ رکھا۔  بیت المال کو آپ نے  ہمیشہ قوم کی امانت سمجھا اور اس  کی تقسیم  میں آپ  نے  کھبی کسی سے کسی  قسم  کی  رعایت نہیں  کی۔ بدقسمتی  سے عنان  حکومت سنبھالنے کے  بعد آپ   کو حضرت امیرمعاویہ اور  عمر و  بن العاص  جیسی شخصیتوں سے واسطہ پڑا۔ اس لیے آپ کا سارا عہد خلافت مختلف  فتنوں کو رفع کرنے میں صرف ہوا۔ فارس اور گرد و نواح میں بغاوتیں ہوئیں۔ آپ نے انکا قلع قمع کیا۔ خارجیوں کےفتنے کا سدباب کیا لیکن مرتے دم تک حضرت امیرمعاو یہ کی سرکوبی نہ کرسکے اور مصر کا صوبہ بھی آپ کے قبضہ سے نکل گیا۔ مجموعی طور پر آپ کا دورحکومت ناکامی کی تصویر بنا رہا مگر آپ کے ذاتی تقدس اور پارسائی کے باعث آنے والی نسلیں آپ کے گھرانے کو عزت احترام سے دیکھتی رہیں گی۔

          جنگ صفین حضرت علی اور امیرمعاویہ کی کشمکش۔ تحت خلافت پر بیٹھتے ہی حضرت علی نے عہدعثمان کے بڑے بڑے عمال معزول کر کے نئے حاکم بھیج دئیے، جس کی وجہ سے تمام صوبائی مرکز میں شورش برپا ہو گئی۔ شام کے حاکم امیرمعاویہ نے معزو لی کے ا حکام تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور حضرت عثمان کے خون آلودہ کپڑے اور حضرت نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں شام کے صدر مقام  دمشق میں منگوا  کر جامع مسجد میں لوگوں کو دکھا دکھا کر اپنا حامی بنا لیا۔

          جنگ جمل۔ حضرت علی کو اس بات کی خبر ہوئی تو فورا شام پر حملہ کرنے کےلیے روانہ ہوئے مگر اسی اثنائ میں خبر ملی کہ حضرت عائشہ صدیقہ کی سرکردگی میں ایک فوج مکہ سے بصرہ کی طرف بڑھ رہی ہے چنانچہ             شام کا ارادہ ترک کر کے اپنی جماعت کو لے کر بصرہ کی جانب روانہ ہوئے۔

        خارجیوں کے خلاف جنگ۔ حضرت علی کے حامیوں کی ایک بہت بڑی جماعت صفین کی لڑائی کے بعد ثالثی کے مسئلہ پر ان سے الگ ہو گئی اور حضرت علی اور حجرت امیرمعاویہ کو واجب القتل قرار دینے لگے۔ حضرت علی نے انہیں سمجھانے اور منانے کی بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ بات چیت کی ناکامی پر نہروان کےمقام پر خارجیوں کو شکست ہوئی۔

پولیس کا نظام۔ حضرت علی نے فوجی  چھاؤنیوں میں اٰضافہ کر نے کے بعد  محکمہ پولیس  جس کی بنیاد   حضرت عمر کے زمانہ  میں رکھی گئی تھی، اس کی تکمیل کی اور باقاعد  پولیس کے دستے کا قیام عمل میں آ یا۔ جس کو اشرطہ کہتے تھے اور اس کے افسر اعلی کو صاحب اشرطہ کہتے تھے۔ انکی ڈیوٹی حفظ امن و امان اور جرائم کی روک تھام کے علاوہ منڈیوں کی دیکھ بھال شامل تھی۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …

Leave a Reply