Home / Islamic History / اندلس کی اموی خلافت میں تہذیب و تمدن (Civilization ofUmayyad in Andalusi )

اندلس کی اموی خلافت میں تہذیب و تمدن (Civilization ofUmayyad in Andalusi )


ابن خلدون لکھتا ہے کہ پہلی فوج جو جبل الطارق سے گزر کر یورپ پہنچی تو اس وقت انکی تعداد بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی۔  جب 711ئ  میں دسواں خلیفہ تحت دمشق ہوا تو عرب بارہ ہزار فوج کےساتھ اندلس میں داخل ہوئے  اور مسلمانوں نے تھوڑے سے عرصے میں حکومت قائم کرلی۔

          یہ فتح نہایت ہی سرعت کے ساتھ اتمام کو پہنچی۔ تمام بڑے بڑے شہروں کی فاتح فوج کےلیے دروازے کھول دئیے اور قرطبہ، مالقہ، غرناطہ، طلیطلہ کےشہر بلا  مذاحمت فتح ہو گئے۔ عربوں نے اندلس کے باشندوں کےساتھ وہی سلوک کیا جو انہوں  نے شا م اور مصر کے لوگوں کے ساتھ کیا تھا۔

andalusi1

            زمانہ اسلام کی تاریخ اندلس کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتاہےکہ ملک کی ترقی اور تمدن کا حصہ عربوں کے ہاتھ میں رہاہے اور بریری متو سطین اور عامہ خلائق میں ملے جلے رہے، جس وقت خلافت ایک بریری خاندان میں منتقل ہو گئی تو بھی عربوں کا علمی اور تمدنی امتیاز آخر تک قائم رہا ۔اندلس 711ئ سے 756ئ تک دمشق خلفائ کے ماتحت رہا اور 756ئ میں اندلس خلافت شرقی سے علیحدہ ہو گئی اور یہاں ایک علیحدہ خلافت  قائم ہوئی جسے خلافت قرطیہ کا نام دیا گیا۔

           فتوحات سے فارغ ہونے کے بعد عربوں نے ترقی شروع کر دی۔ ایک صدی کے اندر بنجر زمینیں کاشت ہونے لگیں، اجاڑ بستیاں آباد ہونے لگیں۔ بڑی بڑی عمارتیں بن گئیں۔ دوسری اقوام کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہوگئے۔ دارالعلوم قائم کیے گئے جو بڑی مدت تک یورپ میں علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ قرطیہ علوم کے لحاظ سے تمام شہروں کا سرتاج رہا چند دارالعلوم مند ر جہ ذیل ہیں۔

        ا۔      غرناطہ کا قصر الحمد

ب۔      مسجد غرناطہ

ج۔      قرطیہ کی درسگاہ

د۔      حدیفتہ ایز ھرایا

         غرناطہ کا قصرالحمد۔  عربوں نے اپنی عمارات  میں شرقی معماروں سے کام لیا  لیکن انہوں نے اپنی فطرت صنائی کا اثر معماروں پر ایسا ڈالا اور اس قسم کی آرائشیں استعمال کیں کہ جن کی وجہ سے اناڑی سے اناڑی شخص بھی  عربی اور شرقی عمارت کے فرق کو سمجھ جائےگا۔ طلائی زمین پر پھول بوٹوں کے عوض نسخی گل کاریاں کتبوں میں ملی ہوئی قائم ہو گیں۔ پرتکلف باغ جن میں غرناطہ سلاطین کی عورتیں سیر کرنے اور پھولوں کی مہک سونگھنے آ یا کرتی تھیں۔غرناطہ میں مسجد الحرائ بھی تعمیر کرائی۔

قرطبہ کی درس گاہ۔ قرطبہ کی مشہور مسجد کو عبدالرحمن نے 788ئ میں شروع کیا، یہ عمارت جو مسلمانوں کی نظر میں مکہ معظمہ کے بعد متبرک گنی جاتی ہے، اندلس کی عربی یادگاروں میں ایک عمدہ ترین یادگار ہے۔ باوجود اس کے کہ اندلس کے عیسائیوں نے اس عمارت کی بہت بے حرمتی کی ہے۔ دیواروں کی آرائشوں اور کتبوں پر چونے کی استرکاری کر دی گئی۔ عبدالرحمن کی وفات کے بعد اس مسجد کو سلطان ہشام نے پائہ تکمیل  تک پہنچایا۔ اس مسجد کے علاوہ ہشام نے وادی الکبیر کا پل ازسر نو تعمیر کیا۔

          حد یفتہ ایزھرا یا قصر الخلیفہ۔قصرالخلیفہ کی چھت سنہری، شفاف اور مختلف الانواع سنگ مرمر کی بنی ہوئی تھی۔ دیواروں پر بھی یہی پتھر لگے ہوئے تھے۔ بیچ میں ایک بڑا سا حوض بھی سنگ مرمر کا بنا ہوا تھا، جس میں پارہ بھرا ہوا تھا اور حجرہ کی ہر طرف آٹھ، آٹھ در تھے جن کی محرابیں ہاتھی کے دانتوں اور آبنوس کی بنی ہوئی تھیں۔ ان محرابوں کے  ستو ن سنگ مر مر کے بنے ہو ئے تھے۔

           ابن حیان لکھتاہےکہ اس قصر میں 4311 چھوٹے بڑے ستون تھےجن میں1013 ستون افریقہ سے، 19 شہر روم سے آئے تھے اور 140 شہنشاہ قستنطنیہ نے عبدالرحمن کو بطور ہدیہ دئیے تھے۔ بقیہ اندلس کے مختلف خطوں سے آئےتھے۔ کل دروازے آہنی تھے  جن پر سونے اور چاندی کا کام ہوا تھا۔

عربوں کے یادگاریں طلیطہ میں۔    اس وقت طلیطہ کی ساہی اجڑا ہوا شہر کیوں نہ ہو، وہ زمانہ متوسط کے یورپ کے شہروں کی ایک بچی تصویر ہے۔ اس شہر کا عالی شان کلیسہ اور پررونق خانقاہ سیان جو آج بھی اس کی شہرت کےلیے کافی ہے۔ اس وقت طلیطہ میں عربوں کی بنائی ہوئی فصیل اور ا ن کے ہی بنا ئے ہوئے برج موجود ہیں۔

        عرب عمارات اشبیلیہ میں۔ اشبیلیہ کی ایک بہت بڑی عمارت ایک برج  ہے جسے گرانڈی کہتے ہیں۔ چند صدیوں میں عربوں نے اندلس ملک کو علمی اور مالی ترقی کے لحاظ سے بالکل بدل کر رکھ دیا اور اس کو یورپ کا سرتاج بنا دیا۔ یہ تغیر محض علمی اور مالی نہ تھا بلکہ اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے انصاری قوم کو بیش بہا انسانی خصلیتں سکھائیں اور قرطبہ میں852ئ اور اشبیلیہ میں782ئ میں مذہبی مجلس منعقد ہونا شروع ہوئیں۔ عیسائیوں کو ہر طرح کی آزادی تھی۔ وہ اکثر فوج میں ملازم ہوتے تھے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں  میں باہمی ازدواج بکثرت ہوا کرتا تھا، چنانچہ عبدالرحمن ثالث کی ماں نصرانیہ تھی۔ دلیل اس قدر کی ہے کہ وہ اقوام مفتوحہ کے مذہب کو کس قدر سے جانتے ہیں۔ عربوں میں سپاہ گری کا ایک قانون تھا اور کوئی شخص بہادر نہ کہلاتا تھا جس میں یہ دس خصلتیں نہ ہوں، یعنی نیکی، شجاعت، خوش اخلاقی، شاعری، فصاحت، طاقت جسمانی، شہسواری، نیزہ بازی، شمشیرزنی اور تیراندازی۔


About admin

Check Also

مسلمانوں کے زوال کے اسبا ب

مسلمانوں میں قیادت  کا فقدان۔  عباسی خلفائ  کے بعد 1256 ئ  میں  جب  منگو لیوں نے عباسی  …