Home / Islamic History / خلیفہ حضرت ابوبکرصدیق کے عہد خلافت میں اسلامی تہزیب و تمدن میں ابتدائ کے مشکلات اور اُ ن کے کارنامے

خلیفہ حضرت ابوبکرصدیق کے عہد خلافت میں اسلامی تہزیب و تمدن میں ابتدائ کے مشکلات اور اُ ن کے کارنامے


خلیفہ حضرت ابوبکرصدیق کے عہد خلافت میں اسلامی تہزیب و تمدن میں ابتدائ کے مشکلات اور اُ ن کے کارنامے

            خلیفہ اول کا انتخاب۔آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد ابھی تجہیز و تکفین کا کام جاری تھا کہ یہ اطلاع ملی کہ انصار کے چند نوجوان سقیفہ بنو سا عدہ میں جمع ہو کر خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں، وہ جگہ انصار کی نشست گاہ تھی، خلافت ایک ایسا مسئلہ تھا جس کے ساتھ اُمت کا مستقبل وابستہ تھا اگر اس معاملہ میں اکابر صحابہ کرام کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی کی جاتی تو  ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی بکھر کر رہ جاتی، چنانچہ  صحابہ کرام بھی وہاں پہنچ گئے، بہت گرما گرم  بحث ہوئی، حضرت ابوبکرصدیق نے فر مایا جو کچھ آپ فرمارہے ہیں درست ہے لیکن قبائل عرب قریش کے علاوہ کسی کی امامت تسلیم نہیں کر یں گے۔ حضرت حباب بن المنذر نے دوخلفائ کی تجویز  پیش کی ایک انصار اور ایک مہاجرین میں سے لیکن یہ نا ممکن تھا۔

          حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا  اے انصار یہ درست ہے کہ اسلام کی خدمت میں آپ نے اولیت حاصل کی، کیا اب یہ چا ہتے ہیں کہ تباہی میں بھی اولیت حاصل کریں۔

abu bakar        حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا عمر اور ابوعبیدہ موجود ہیں ان میں سے جسے موزوں سمجھو اس کی بیعت کرو۔

          حضرت عمر نے فرمایا  آپ ابوبکرصدیق  کی موجودگی میں کوئی  دوسرا شخص خلافت کا حقدار نہیں، سب سے پہلے حضرت عمر نے حضرت ابوبکرصدیق  کی بیعت کی اور حضرت سعدبن عبادہ کے علاوہ سب حاضرین نے بیعت کر لی ۔

       خطبہ خلافت۔   دوسرے دن مسجد نبوی میں عام بیعت ہوئی اور اس موقعہ پر حضرت ابوبکرصدیق نے درج ذیل خطاب کیا۔

         لوگوں خدا کی قسم میرے دل میں کبھی بھی امارت کی خواہش پیدا نہیں ہوئی، میں نے کبھی خفیہ یا اعلانیہ طور پر خداتعالی سے اس کے لیے دعا نہیں کی لیکن اس خدشہ کے پیش نظر کہ کہیں فتنہ نہ برپا ہو جا ئے اس بوجھ کو     اُٹھا نے کےلیے تیار ہو گیا ہوں۔

         ابتدا ئی مشکلات۔   حضرت ابوبکر نے خلافت سنبھالی تو  کئی مشکلات نے گھیر لیا، کئی قبا ئل مرتد ہو  گئے، جھوٹے مدعیاں نبوت نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں، بعض قبائل نے زکوة دینے سے انکار کر دیا، بعض قبائل نے مدینہ پر حملہ کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ ان حالات میں میں حضرت ابوبکرصدیق  ذرا بھی نہیں گبھرائے، آپ نے فرمایا میں وہیں سے شروع کروںگا جہاں سے نبی اکرمﷺ نے چھوڑا ہے ۔

         آپ نے سب سے نبی اکرمﷺ کے تیار کردہ لشکر کو خصوصی ہدایت دے کرمنزل کی جانب روانہ کر دیا، اگر چہ اس موقع پر حضرت عمر  جیسے صحابیوں نے مہم کو نہ بھیجوانے کا مشورہ دیا تھا، حضرت اسامہ بن زید کی مہم تقریباساٹھ ﴿60﴾ دن گزرنے کے بعد کافی مال و غنیمت اور قیدیوں کے ساتھ کامیاب و کامران لوٹے،  مخالفت کرنے والوں کے تمام خدشات غلط ثا بت ہو ئے ۔

       منکرین زکوة و نماز۔        قبیلہ بن عیس  اور بنی ذبیان  نے  اپنے ساتھ دوسرے  قبائل کو  ملا کر مطالبہ کیا  کہ زکوة معاف کردی  جائے  اور   نمازوں  میں   کمی  کر  دی جائے۔  حضر  ت ابوبکر صدیق نے  جواب  دیا ،، اگر عقال  ﴿اونٹ باندھنے  کی رسی﴾  نہ دیںگے  تو  میں جہاد کروںگا ۔منکر ین   نے  جو  اب سن کر  مد ینہ منورہ  پر  حملہ  کر  دیا لیکن ناکام  رہے ۔

        جھوٹے مدعیان نبو ت۔،، آنحضرت   کی  زندگی    میں بعض  لوگوں   نے  ان  کی  کا میابی   کو  دیکھا ۔تو جھوٹے  طو ر  رپر  نبوت   کے  دعوے  کر  دیئے۔ ان  کی بنیاد  یہ تھی  کہ  جس طرح  دور جاہلیت میں  ہر  قبیلہ کا اپنا   اپنا  بت   ہو تا تھا  اسی طرح   ہر  قبیلہ  کا  اپنا پغمبر   ہو  نا  چا   ہیے ۔چناچہ  ایسے  جھوٹے ورعیان  نبو  ت   کے  خاتمے  کےلئے  خلیفہ  اول  نے حضرت ابوبکرصد  یق نے خصوصی  ہد ایا ت  دیں ۔  اسلامی لشکر  کو  11 مختلف حصوں میں تقسیم کرکےمختلف اطراف میں روانہ کر دیا گیا اورساتھ ہی لوگوں کوراہ راست پرآنےکی دعوت دی۔

حضرت ابوبکرصدیق
حضرت ابوبکرصدیق

نبو  ت کے دعوایدار  یہ  تھے ۔

۱)        اسود عنسی۔  اسکا  یمن  کے عنسی  قبیلےسے  تعلق  تھا  اس نےحضور کی  زند گی میں  نبوت کا دعوی کر لیا تھا ۔ اسودعنسی کو  ایک اپنے پیروکار  فیروز نے رات  کی تاریکی میں قتل کر دیا ۔

2)       طلیحہ اسدی۔اسکا قبیلہ بنو اسد  سے  تعلق  تھا۔ یہ حضور  کی زند گی  میں مر تد ہو گیا تھا۔ یہ ایک کاسہن  تھا، جس  نے بنی اسرائیل کے  چند فرقوں  کو  ساتھ  ملا کرنبوت کا دعوی کر لیا  تھا۔ حضرت خالد بن ولید  نے میزاخس کےمقام پر اس   کو شکست دی۔ طلیحہ  اپنے بیوی بچوں سمت شام بھاگ گیا۔بعد میں خلیفہ  دوم حضرت عمر  فاروق  کے دور   میں دوبارہ  مسلمان  ہو  کر حج کےلئے آیا۔

3)       مسیلمہ کذاب۔اس کا  تعلق  وسطی عرب  کے  قبیلہ بنی حنیفہ سے تھا۔ اس نے یمامہ میں بغاوت  کر  کےنبوت کا  دعوی کیا۔نبوت کی دعویدار  ایک عورت نے اس سے  شادی کر  لی۔ جنگ یمامہ میں  حضرت امیر حمزہ  کے  تیر   کا شکار  ہو گیا اور  فتنہ ختم  ہو گیا۔

4)         سجاح بنت الحرث۔عیسائی خاتون تھی۔سجاح اور  خالد بن ولید   کے لشکر   کا  آمناسامنا  ہو ا،   جس سے اس   کی  جماعت منتشر  ہو گئ اور  اس   نے  اسلام قبول کر  لیا۔

5)      سلمی بنت مالک۔  حضور پاک کے پاس قید ہو کر  آئی تھی ، حضرت عائشہ نے اسے آزاد   کرایاتھا۔ بعد  میں  وہ مر تد  ہو  گئی ۔ خالد بن ولید   نے اس کا مقابلہ کیا۔ یہ عورت جنگ  میں ماری گئی ۔

فتنہ ارتداد کو  مکمل طور  پر  ختم کر  کے بعد  میں  حضرت  ابوبکر  نے  فتو حات کی طرف تو  جہ دی۔

        حکو مت کا استحکام ۔  حضرت ابوبکر  صدیق اسلامی ریاست کےپہلے خلیفہ تھے جنہوں نےاپنی تدبر اور حکمت عملی  سےکام لے کر سیا ست مد  ینہ کی  حکو مت کی  بنیادیں مضبو ط اور  مستحکم  بنا  دیں۔

       زکواة کا نظام۔  بعض مسلم مما لک جن میں قیا د ت ما لکل بن نویرہ کر رہا تھا نے زکواة دینے سے انکار کر دیا۔ آپ نے بروقت کارروائی کر کے  اسلام کے ا یک بنیادی رکن کو منہدم ہونے سے بچا لیا اور سرکاری سطح پر زکواة جمع کرانے کا قا نون پاس ہو گیا ۔

          قرآن کریم کا معیاری نسخہ تیار کرنا۔ حضرت ابوبکرصدیق کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی تھا کہ آپ نے قرآن کریم کا ایک معیاری نسخہ تیا کروا کر  تمام صوبائی درالحکومتوں میں اس کی ایک ایک کاپی بھیجوا  دی۔وجہ یہ تھی کہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں کئی حفاظ شہید ہو  گئے تھے۔

         اس کےعلاوہ  مشاورتی حکومت کےنظام کی بنیاد رکھی   اور  ذمیوں سےبہتر سلوک کرنے کی ہدایات  جاری  کردی۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …

Leave a Reply