Home / Persian Poets / شاہنامے فردوسی کا تاریخی پس منظر

شاہنامے فردوسی کا تاریخی پس منظر


  شاہنامے فردوسی کی تاریخی اہمیت۔ 

   شاہنامہ فردوسی ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں فردوسی نے ایران کیلئے داستانی بادشاہ کیو مرث سے لیکر آخری ساسانی بادشای یزد گردسوم تک پچاس بادشاہوں کی سر گزشت لکھی ہے۔ اس کا آہم ترین حصہ کیافی بادشاہ کیکا وس کے بارے میں ہے۔ رستم اسی عہد میں ہوا۔ یہی کردار اور اس کے متعلقہ روایات شاہنامہ کی جان ہے۔ واقعات لکھتے وقت فردوسی قابل اعتماد ماخذوں سے کام لیا ہے ۔

شاہنامہ  ماہرین  کی  نظر  میں

الف۔       ڈاکٹر صنعا شاہنامے کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ  شاہنامہ بیان میں اپنی مثال آپ ہے۔ کئی سو سال گزر جانے کے بعد بھی وہ کم وبیش ہر  ایرانی کیلیے قابل فہم ہے البتہ اس قدر بیان کرنا ضروری ہے کہ شاہنامہ ferdosiمیں  فوق العادہ واقعات کا ذکر آتا ہے مثلا  طہورث کا دیوں پر غلبہ پانا اور ان سے تیس زبانیں سیکھنا،  جمشید کا دیوں سے محل تعمیر کروانا، ضحاک کے کندھوں سے سانپوں کا ابھرنا، زال کا سیمرع کی اغوش  میں تربیت پانا وغیرہ۔ ان غیرحقیقی واقعات کیوجہ سے بسا اوقات شاہنامہ پر حرف گیری کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات نہیں بھولنی چاہے کہ قدیم زمانے میں ایران کی کوئی مستند  تاریخ نہیں تھی۔

ب۔         اوستا، خدائی نا مک،   یادگار زریزان  اور  کارنامک آرد شیر پایکان ایسی کتابیں ضرور دستیاب ہوئی تھیں۔ ان کتابوں میں بادشاہوں کے حالات اور واقعات درج ہوتے تھے اور متعدد فوق العادہ اور غیر حقیقی باتیں ان سے منسوب کی جاتی تھیں۔ فردوسی کو شاہنامہ کی تیاری میں یہی تاریخی مواد میسر آتاہےجسےاس نےجوں کا توں نظم کردیا   ہے۔  اس  قسم  کی  غیر  حقیقی  روایات زمانہ  قدیم کے لوگوں کے  انداز  فکر اور قوت تخیل کا پتہ دیتی ہے،  غالبا قوت  تخیل  کی بدولت قوموں کی ابتدائی تا ریخ میں فوق العادہ واقعات کی رنگ آمیزی ہوتی رہی ہے ۔

                        شاہنامے  کا  تاریخی  پس  منظر۔    شاہنامہ ایرانی بادشاہوں کی صرف منظوم تاریخ ہی نہیں بلکہ تمام خصوصیات کے ساتھ ایک رزمیہ ہے جسے دنیا کے عظیم زرمیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مافوق الفطرت واقعات، شجاعوں کے مبالغہ امیز کارناموں اور حد انتقام کی حکایات سے معمور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسا نگار خانہ ہے جس میں قدیم ایرانی تمدن و ثقافت اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ جلوہ گر ہے۔    شاہنامہ قدیم ماخز پر مبنی ہونے کی بنائ پر تاریخی اہمیت کا حامل ہے شاہنامہ میں اخلاق و تہذیب کے  مسائل  کچھ  اس  طرح  بیان کئے  گئے  ہیں  کہ  اس  زمانے  کی  تہذیب و تمدن کا پورا پورا نقشہ سامنے اجاتا ہے مثلا  یہ بادشاہوں کے دربار کیوں لگتے تھے، عوام کے آداب بجا لانے کے طریقے کیا کیا تھے۔ زمینداری کیلئے کیا قواعد تھے، لگان کیسے مقرر کیا جاتا تھا، تجارت کون لوگ کرتے تھےاور تعلیم کا طریقہ کار کیا تھا، شادی بیا ہ کی رسوم کیا تھیں، آداب شکار کیا تھے، محفلیں کیسے لگتی تھیں، امراء اور عوام کے لباس کس قسم کےہوتے تھے ۔ کیا ان مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد شاہنامہ کو محض ایک زرمیہ داستان کہنا مناسب ہے ۔

       شاہنامہ کی ترتیب۔    شاہ نامہ خداوند تعالی کی تعریف وثنا سے شروع ہوتا ہے، اس کے بعد  عقل ودانش  کا بیان ہے۔پھر رسول اور صحابہ کرام کا ذکر ہے اور اس کے بعد شاہ نامے کا مواد فراہم کرنے کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تاریخ ایران کیومرث سے شروع ہوتی ہے جو ایران کا اولین بادشاہ ہے، اختتام تک پچاس  بادشاہوں  کی سرگزشت بیان کی گئی ہے ۔شاہنامہ کا خاتمہ ساسانی دور کے آخری بادشاہ یزدگرد اور عربوں کی فتح پر ہوتا ہے ۔

  شاہنامہ کی ادبی اہمیت۔عربوں کی فتح کے بعد رفتہ رفتہ عربی زبان ایران کےطول و عرض میں رائج ہوگئی اور ایران کی اپنی زبان فارسی قصہ ماضی بن کر رہ گئی ۔آخر جب خلافت عباسیہ میں ملکی حکومتیں قائم ہوئیں تو فارسی زبان کا بھی احیاء  ہوا۔ فردوسی نے اس دور میں خالص وطنی  نقطہ نظر سے ملکی تاریخ شاہنامہ کی صورت میں مرتب کی اور اس طرح ایران کی زبان اور قومی تاریخ دونوں کو ایک نئی زندگی بخشی ۔عربوں کے عہد خلافت میں جو فارسی لکھی جاتی تھی اس میں بیشتر الفاظ عربی کے ہوتے تھے۔ فردوسی کے نزدیک غالبا ایسے الفاظ عرب غلبے کا نشان تھے۔اس لئے اس نے کوشش کی کہ ان الفاظ سے اجتناب کیا جائے چنانچہ اس نے عربی کے الفاظ وہیں استعمال کیئے ہیں جہاں ان کا استعمال نا گزیر تھا۔ گویا فردوسی نے فارسی زبان کو سہل، روان اور خالص ملکی زبان کی صورت میں پیش کرکے آنے والے ادیبوں کے لئے ایک نئی شاہراہ کھول دی۔ ذیل کے اشعار آغاز آفرینش اور عناصر کی ترتیب کے متعلق ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ فردوسی نے کس طرح عربی کے الفاظ دانستہ چھوڑ کر فارسی کے الفاظ استعمال کئے ۔

از آغاز  باید کہ دانی درست                              سرمایہ گوہران از نخست

گریزدان ز ناچیز   آفرید                                   بدان تا توانائی آمد پدید

شاہنامہ کے ادبی محاسن

ا۔          واقعہ نگاری

ب۔         منظر کشی

ج۔          تشبیہ و  استعارہ

د۔          ا یجاز  و  اختصار

ذ۔          جزبات نگاری

                شاہنامہ کے مطالب۔ شاہنامہ یوں تو ایک زرمیہ مثنوی ہے لیکن اس میں جنگ وپیکار  کے علاوہ مطالب کا اتنا تنوع موجود ہے کہ ہر شخص اپنے ذوق کے موافق سامان مہیا پاتا ہے ۔

ا.        اﷲ تعالی کی تعریف وثنا اور عقل وفرد کی ستائش

ب۔       دلیری اور بہادری کی داستانیں

ج۔        ایران کی تاریخ اور ملی افسانے

د۔         بندو نصائح،بادشاہوں ،وزیروں ،۔۔۔والدین وغیرہ

ذ۔         فلسفیانہ رموز۔       گردش دوراں ہمیشہ کسی کے موافق نہیں ہوتی، موت کا ذائقہ سب نے چکھنا ہے ۔

                        فردوسی کی تصنیفات۔    کہا جاتا ہے کہ فردوسی نے شاہنامہ کے علاوہ ایک عشقیہ مثنوی  یوسف زلیخا شاہنامے ہی کی بحر میں لکھی تھیں۔مثنوی یوسف زلیخاکے مقدمے میں لکھا ہے کہ مصنف نے عراق عرب کے سفر  کے دوران کچھ عرصہ بغداد میں قیام کیا۔ یہاں اس نے بہاالدولہ ویلمی آل بویہ کے وزیر ابو علی حسن موفق 393ھ کی فرمائش پر یہ حکایت نظم کی۔  اس کا مصنف ابوالموید بلخی ہے۔ دوسری کا مصنف بختیاری ہے۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …