Home / Persian Poets / شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ کی تصنیفات

شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ کی تصنیفات


شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ  کی  تصنیفات

                تصنیفات ۔    سعدی نثرو نظم دونوں کے بے نظیر اور بے بدل  استاد مانے جا تے ہیں۔ ان کی تالیفات ہر طبقہ خیال لوگوں میں یکساں مقبو ل رہی ہیں لیکن ان کے شہورہ آفاق تصانیف “گلستان” اور “بو ستان” ہیں۔ان کے علاوہ  کلیات بھی انکی  یادگار ہے ۔کلیات،عربی، فارسی، قصائد ، مراثی، غزلیات، حطابات اور ہزلیات  ﴿ہجو﴾  پر مشتمل ہے۔ آپ نے عطار کی طرز پر بندنامہ بھی تالیف کیا ہے ۔

بوستان۔ جس طرح شاہنامہ فردوسی رزم میں، مثنوی معنوی، تصوف وعرفان میں بے مثال ہے اسی طرح بوستان علم الاخلاق میں اپنی مثال آپ ہے۔  بوستان 1257ئ میں لکھی گئی ہے، جیسا کہ سعدی خود کہتے ہیں۔ بوستان میں اخلاقی مسائل  نہایت آسان  اور مواثر انداز میں بیان کیئے گئے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیئے دلچسپ حکایتیں لکھی ہیں، جن کی وجہ سے آپ کے پند  و  نصائح  دلوں پر دیرپا  اثر چھوڑ جاتے ہیں۔  بوستان حمد اور نعت سے شروع ہوتی ہے، اس کے بعد دس باب ہیں جن کے عنوانات حسب ذیل ہیں ۔

saadi-book1

ا۔                   عدل ورای و  تدبیر جہانداری

ب ۔          فضیلت احسان

ج۔              عشق ومستی وشور

د۔                  تواضع

ذ۔                  فضیلت رضا

ر۔                  قناعت

ز۔                  تربیت

س۔             شکر

ش۔             توبہ وصواب  ﴿راست ودرست﴾

ص۔           مناجات

بوستان کے چند اشعار جو عجزوانکسار کے بارے میں ہے ۔

یکی  قطرہ باران زابری چکید             خمیل شد  چوپہنائی دریا بدید

کہ جای کہ درپاست من چیستم    گرا واست حقاکہ من نیستم

چوں خود  را بچشم حقارت بدید          صدف درکنارش بجان پرورید

saadi-books

گلستان سعدی اور اخلاقیات۔  شیخ کی تمام ونثر فارسی اور عربی کی تالیفات جو ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد مرتب کی گئیں تقریبا بارہ ہیں لیکن ان میں گلستان اور بوستان کو سب سے زیادہ علمی مقام اور عالمگیر شہرت حاصل ہے۔ان دونوں میں گلستان، بوستان،سے کئی اعتبار سے فوقیت رکھتی ہے کیونکہ فارسی نظم میں اور بھی  کئی کتابیں ایسی ملیں گی جو حسن ادا اور شہرت میں بوستان کا مقابلہ کرسکتی ہیں ۔لیکن نثر میں وہ بھی وغط ونصیحت جیسے خشک موضوع پر کوئی  کتاب ایسی نظر نہیں آتی ہے جو گلستان کے پایہ کی ہو۔ یہ زندہ جاوید  کتاب 1258ئ میں لکھی گئی تھی،   تاریخ ادبیات میں سعدی کا مقام بہت بلند ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ بلندی مقام آپ کو شاعری کی بدولت حاصل ہوئی یا نثر  کی بدولت۔  ملک اشعرائ بہار لکھتے ہیں کہ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ کی شخصیت اور استادانہ عظمت کو گلستان میں دیکھنا چاہئے، اگر اس چھوٹی سے مگر گران پایہ نثر کی کتاب کا وجود باقی نہ رہتا تو سعدی کی دو تہائی عظمت جاتی رہتی اور فارسی ادب اس گراں بہا اور عظیم  ذخیر ے سے محروم رہ جاتا کیونکہ ایسی کتاب نہ عصر گزشتہ میں لکھی گئی اور نہ زمانہ آئندہ  میں لکھی جائے گی ۔

سعدی نے اس دور میں انسانی عظمت کا پرچم بلند کیا جب حملہ  مغول کے بعد انسانی جان کی کوئی  قدر و قیمت  باقی نہیں رہ گئی تھی۔ شیخ نے اس دور کے  جبرو استبدار کے جابر  حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہہ کر قلم کی آبرو  رکھ لی۔ سعدی نے ظالم  حاکموں اور جابر درویشوں کی معاف نہیں کیا ۔

معلم  اخلاق۔  معلم  اخلاق کی حیثیت سے سعدی کا درجہ بہت بلند ہے۔ سعدی نے گلستان کی نثر میں جا بجا شعر کے پیوند لگا کر نثر کے معنی کو اجاگر کیا ہے۔  اس طرح یہ کتاب ایک معجز ہ  بیان نثر نگار اور جاؤ ونگار شاعر کی نثر ونظم کا ایک دلکش امتزاج ہے۔  سعدی کا انداز بیان سادہ نہیں ہے۔گلستان کی نثر میں صنائع بدایع کا استعمال بھی ملتا ہےلیکن سعدی نے کبھی لفظوں کی خاطر معانی کا خون کبھی نہیں کیا۔ ان کے ہاں تکلف کی گرانباری محسوس  نہیں ہوتی۔ چھوٹے چھوٹے جملے ریشم کے مخچھوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔کہیں کہیں ان کا ایجاز(مختصر ) اعجاز  (عاجز ساختیں) بن جاتا ہے۔موزوں متناسب اور ہم آہنگ الفاظ ان کی نثر کا حسن بڑھاتے ہیں ۔

کتاب کے ابواب کا خلاصہ۔  ساڑھے سات سو سال سے ان دونوں کتابوں کی تعلیم ہندوستان، پاکستان، افغانستان، ترکستان وغیرہ میں جاری ہے۔  بچوں، بوڑھوں، علمائ اور مشائخ، وزرائ، سلاطین، ادیب، شاعر، درویش اور فقیر سب کے لیئے اس میں اپنے مزاج کا پورا پورا مواد موجود ہے۔ اس کی عزت وعظمت کا اندازہ لگانے کے لیئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ گلستان  کو جس قدر دوسری زبانوں میں منتقل  کیا گیا۔ اتنا فارسی کی کسی اور کتاب کو  نہیں کیا گیا ہے۔ یہ کام سعدی کے آخری زمانے میں شروع ہوگیا تھا اور آج  تک جاری ہے۔ یوں تو  گلستان کی بنیاد اخلاقیات پر ہے، جو روکھاپھیکا موضوع ہے لیکن اخلاقی کتاب ہونے کے باوجود  ہر زمانے میں مقبول رہی ہے کیونکہ اس میں روز مرہ زندگی کے حالات و واقعات نہایت فصاحت وبلاغت سے بیان کیئے گئے ہیں۔حسن بیان اور لطف  ادا نے اسے اور بھی زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے۔گلستان ایک تمہید اور آٹھ  ابواب پر مشتمل ہے۔ ابواب کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ا۔                   درسیرت پادشاھان

ب۔           اخلاق درویشان

ج۔              فضیلت قناعت

د۔                  فضیلت خاموشی

ذ۔                  عشق وجوانی

ر۔                  ضعف وپیری

ز۔                  تاثیر تربیت

س۔             آداب صحبت

saadi2

گلستان کا اسلوب تحریر۔ گلستان کے اسلوب تحریر پر کم از کم ایک مستقل باب لکھا جانا چاہئے لیکن بقدرگنجائش اس کی صرف چند خصوصیات درج کی جاتی ہیں ۔

ا۔            چھوٹے فقرات۔ سعدی عموما چھوٹے چھوٹے فقرے لکھتے ہیں لیکن بقول مولانہ جامی یہ ریشم کے لچھےمعلوم ہوتے ہیں۔ آپ کی نثر میں نظم کی سی روانی ہے ۔مثلا

اے برادر حرم درپیش است وحرامی درپس۔اگر رفتی مردی و  اگر خفتی مردی ۔

ب۔       سادگی اور شگفتگی۔ گلستان کی تشبیہات بہت سادہ اور شگفتہ ہیں جیسے دست تحیر بدندان گرفت۔

ج۔         ایجاز واختصار۔ سعدی وسیع مضامین کو مختصر سے مختصر الفاظ میں اس  طرح لاتے ہیں کہ معنی کی ایک دنیا ان میں سماجاتی ہے جیسے ایک بادشاہ کسی فقیر کی صدا سن کر کہتا ہے۔

درویش دامن بیار ،، فقیر جواب دیتا ہے ،،دامن ازکجا آرم کہ جامعہ ندارم ،،مختصر جمللے میں افلاس کی پوری  داستان  بیان کردی ہے۔

د۔           تناسب اور ہم آہنگی۔ موزوں ،متناسب اور ہم آہنگ الفاظ لانے  میں سعدی کو خاص ملکہ حاصل ہے۔ فقرے سننے سے وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو خوش آہنگ  سروں کو سننے سے پیدا ہوتی ہے۔جیسے “بکوشید تاجامہ زنان نپو شید ،،

ذ۔           امثال۔    آپ کے فقرات میں اتنا بے ساختہ پن اور حقیقت طرازی ہے کہ ان میں سے بعض کو ضرب المثل کا درجہ حاصل ہوگیا ۔مثلا

دروغ مصلحت آمیز بہ ز راستی فتنہ انگیز

تو نگری بہ ہنراست نہ بمال، بزرگی بہ عقل است نہ بسال

ر۔           مسجع اور مقفی عبارت۔سعدی نے نظم کی طرح نثر کے فقرات میں بھی اکثر ناپ تول کا خیال رکھا ہے اور قافیہ بندی کی ہے۔ اس سے فقروں میں شعروں کی سی جان پیدا ہوگئی ہے ۔مثلا

آتش کشتن  و اخگر گزاشتن ،افعی کشتن وبچہ اش  نگہداشتن کار خرد مندان نیست ،،

ز۔           نثر میں نظم کا پیوند۔  نثر میں اس خوبصورتی سے نظم کا پیوند  لگاتے ہیں کہ وہ نثر ہی کا حصہ معلوم ہوتی ہے اس سے مضمون زیادہ دلچسپ  ہوجاتا ہے ۔

س۔       عبارت۔ عبارت کو قرآنی آیات اور احادیث نبوی سے بھی زینت دی ہے، جس سے مضمون میں اور بلندی آگئی ہے۔

تصانیف میں درد کا پہلو۔  کلام خواہ کتنا ہی فصیع کیوں نہ ہو جب تک اس میں آثار نالہ نہ ہو ، دل  و دماغ کو متاثر نہیں کرسکتا ہے۔ شاعر جب خود نالہ کرتا ہے تو دوسروں کی آنکھیں بھی نمناک کردیتے ہیں۔ فرماتے ہیں ۔

گربرسد نالہ سعدی بکوہ         کوہ بنالہ بزبان صدا


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …