مغرب کی نشاة الثانیہ پر اسلامی علوم کے اثرات


ہلاکو خان کے حملوں کے بعد  اور عباسی  دور کے خاتمے پر اسلامی علوم مغرب کی طرف منتقل ہو گئے۔مسلمانوں نے ایک طویل عرصے تحقیقات اور ا نکشافات کے بعد جو احتراعات سامنے لائی تھیں وہ مغربی سائنسدانوں اور علمائ  کے لیے خام مال کی حیثیت سے میسر آئیں۔ اسی طرح سپین میں مسلمانوں نے ہر علمی پہلو پر تحقیق کی اور انکے زوال کے بعد پورے علمی دفاتر  عیسائیوں کے ہاتھ آگئے۔مسلم سپین کے اموی خلفائ نے جو کتب خانے اور درسگاہیں تعمیر کیں وہ عیسائیوں کے لیے مال غنیمت کے طور پر رہ گئیں۔  عباسی خلفائ کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں سرزمین فلسطین صلیبی جنگوں کی وجہ سے یورپی عیسائی  ا پنی فتوحات کے ساتھ ساتھ بہت سارے علمی خزانہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔صلیبی جنگوں میں سرزمین فلسطین پر کئی بار عیسائی حملوں کے بعد اسلامی علوم و فنون اسلامی  دنیا سے نکل کر مغرب پہنچے۔ مغرب والوں نے ان علوم  سے استفادہ کیا اور اس علم کو آگے بڑھایا۔

اسلامی
اسلامی

  بوعلی سینا اور امر یکہ۔

بوعلی سینا کی کتابیں القانون، الطب اور الشفائ طویل عرصے تک یورپی درسگاہوں میں  نصابی کتابوں میں شامل رہیں۔ میڈیکل کالجوں میں بوعلی سینا کی کتاب، الشفائ کو ایک اہم درجہ حاصل ہے۔صلیبی جنگوں کے دوران جب صلاح الدین ایوبی نے تاجروں کو جنوبی ایشیائ اور وسطی ایشیائ کی طرف آنے سے روکا تو انہوں نے سرزمین ہند کی طرف آنے کا متبادل راستہ ڈھونڈنا شروع کیا اور یورپی بحری بیڑے مغرب کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس خیال سے کہ وہ دنیا کے گرد چکر لگا کر واپس مشرقی ممالک اور ہند تک پہنچ جائیں گے ان بیڑوں کے مسلسل سفر کے نتیجے میں ایک  نئی سرزمین امریکہ کے نام سے دریافت  ہوئی۔ یہاں کی آب و ہوا، جغرافیہ اور پیداوار  یورپی اقوام کے  لیے فائدہ مند ثابت ہوئی،  چنانچہ امریکہ پر مختلف یورپی اقوام نے قبضہ کر کے مختلف کالونیاں بنائیں، یہاں کے مقامی لوگ  دیڈانڈ نیز کو اپنے ماتحت بنا کر اس سے کام لیتے ر ہے ۔ اس طرح  یورپی اقوام اقتصادی لحاظ سے خودکفیل بن گئے اورصلیبی جنگو ں کے دوران ان کا رابطہ اسلامی دنیا سے منقطع رہا، خود  مسلمانوں کی کاہلی، اندرونی اختلافات اور عدم  قیادت  کی وجہ سے اسلامی معاشرہ روز بروز پسماندہ ہوتا رہا۔ اسلامی معاشرے میں اعلی قیادت کے فقدان کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی، زندگی سے فرار اور علوم و فنون سے عاری ہونے کی وجہ شامل ہے، جب کہ ان کے مقابلے میں کئی دانشوروں کی تعلیمات کی وجہ سے لوگوں کا شعور بیدار ہوا۔ یورپ میں کلیسا کی اجارہ داری ختم ہو گئی۔

مذہب کو معاشرتی امور سے نکال کر الگ کیا گیا اور اسکو ثانوی حیثیت دی گئی، جب کہ مذہب میں مادیت کو  زندگی کا جزو  لاینفک تصو ر کیا گیا۔  لوگ اپنی مادی ضروریات  کی حصول کی تگ و دو میں لگے رہے۔علم و فن  کو دولت کے حصول کی خاطر ترقی دی اور اسکو کمال حد تک پہنچایا۔ابتدائ  میں یورپی علمائ نے طب، ہیت،کیمیا اور دیگر  سائنسی علوم مٰیں دسترس حاصل کرنے کے لیے  مسلمانوں کے نظریات اور فارمولوں کو بروئے کار لا کر استفادہ حاصل کیا۔ان اسلامی  علوم کو بنیاد بنا کر اس پر جدید  سائنسی علوم کی عمارت استوار کی گئی۔عیسائی ڈاکٹروں نے نظر  سے متعلق اور دور بین اور خوردبین بنانے میں مسلمان سائنسدان ابن الھشیم کی تیار کردہ تحقیقات  کو بنیاد بنا کر اس پر مزید کام کیا ۔مسلمانوں کی بنائی ہوئیں رسدگاہوں کی طرز پر لیبارٹریاں بنائیں اور سا ئنسی علو م کو ان لیبارٹریوں میں پرکھنے کےلیے طریقہ کار بنایا۔ جراحی میں یورپی طلبائ نے بوعلی سینا کی کتابوں کی مدد سے جراحت میں ترقی کی۔وہ تمام کتب خانے جو مسلمانوں نے صدیوں کی محنت و مشقت سے بنائے تھے۔ لڑایوں کی وجہ سے یا تو دریا برد کیے گئے یا پھر جلا دئیے گئے، جو  باقی بچے وہ یہاں کی بےقدری کی وجہ سے یورپ منتقل ہوگئے اور یورپ کی نشاة الثانیہ پر ان علوم و فنون کا گہرا اثر مرتب ہوا۔

مگر وہ علم کے موتی، وہ کتابیں اپنے آبائ کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتاہے سی پارہ


About admin

Check Also

عباسی عہدخلافت میں اسلامی تہذیب

  عباسی عہد خلافت میں  کا  ابتدا ۔ بنی عباس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت  …