کیمیائے سعادت از امام غزالی پر نوٹ


کیمیائے سعادت از امام غزالی پر  نوٹ 

                        تعارف۔      سلجوقی دور کی ایک  زندہ  جاوید کتاب ”کیمیائے سعادت”ہے جس کے مصنف محمد غزالی ہیں۔ امام غزالی  پانچویں صدی کے بہت بڑے مفکر  اسلام رہے ہیں۔  امام غزالی  کی تصنیفات کا چرچہ ایشیاء ہی میں نہیں بلکہ  یورپ میں بھی ہوا۔ آپ کا نام  ابوحامدغزالی ہے۔ علاقہ طوس  کے ایک  گاؤں طاہران میں پیدا ہوئے سال پیدائش 450ھ اور سال وفات 505ھ ہے۔

                        ابتدائی  حالات۔      امام غزالی  کے  والد محترم سوت کا کاروبار کرتے تھے، اسی نسبت سے آپ کا خاندانی نام غزالی ہوا ہے۔  بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔والد کے ایک دوست نے امام غزالی  کو ابتدائی  تعلیم دلوائی، مزید تعلیم حاصل  کرنے کے لیئے آپ طاہران سے  جرجان چلے گئے۔ جو علم وفضل کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔  اس زمانے میں درس کا یہ قاعدہ تھا کہ استاد علمی مطالب پر جو بحث کرتا تھا  شاگرد اس کا ضروری حصہ قلمبند کرتے تھے۔ شاگردوں کی یہ لکھائی کی  تعلیمات یاداشتیں کہلاتی ہیں، چنانچہ امام غزالی  صاحب نے بھی تعلیمات کا مجموعہ تیار کیا  تھا۔

                        غزالی  کی زندگی کا  اہم موڑ۔   امام غزالی    فارغ التحصیل ہوکر جب وطن واپس آرہے تھے تو راستے میں ڈاکوں نے ان کا سارا  سامان لوٹ لیا۔ امام غزالی  صاحب کا اثاثہ بھی ڈاکوں کے ہاتھ اگیا، آپ کو تعلیمات کےلٹ جانے کا بہت رنج ہوا اس لیے ڈاکوں کے سردار کے پاس گئے اور کہا کہ میں آپ سے اپنے اسباب میں سے صرف اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے چند یادادشتیں مانگنے آیا ہوں کیونکہ انہی کی خاطر میں نے دور دراز کا سفر طے کیا یہ مجھے واپس نہ ملے تو علم کے دولت سے محروم رہ جاونگا ۔ ڈاکو ہنس پڑا اور کہا یہ تم نے کیسا علم سیکھا ہے جو صرف اپنی ہی یاداشتوں میں بند ہیں۔ یاداشتیں تمھارے پاس نہ رہے تو سمجھو تم علم سے کورے رہ گئے۔ ڈاکو نے یہ کہہ کر یادداشتیں آپ کو واپس کردئے۔ ڈاکو کا یہ سلوک آپ کےلئے درس عبرت تھا، چنانچہ انہوں نے تمام یاداشتوں کے مفہوم کو ذہن میں محفوظ کر لیا ۔

                        احادیث  کی تعلیم۔      امام غزالی  جرجان (جگہ کا نام ہے)سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد نیشائ پور چلےگئے، یہاں آپ نے امام الحرمین کی صحبت میں رہ کر حدیث، فقہ اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ فارغ التحصیل ہوئے تو اس وقت ملک شاہ سلجوقی کی حکومت تھیں اور نظام الملک طوسی وزیر اعظم تھا۔

                        عملی  زندگی۔    امام غزالی نے شروع میں نظام الملک طوسی کے دربار کا رخ کیا اور یہاں علمائ کرام کے مباحثوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں امام غزالی کے علم وفضل  کا  سکہ پورے دربار میں جم گیا۔ نظام الملک امام غزالی کے علم سے بہت متا ثر ہوا اور آپ کو نظامیہ بعداد کاصدر مدghazaliرس مقرر کردیا ۔ یہاں پر علمی خدمات کیوجہ سے آپ کی  شہرت میں  مزید  اضافہ  ہو  اور  وہاں  پر  درس و تدریس کا سلسلہ چار سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد نظامیہ بعداد کو خیر آباد کہہ کر حج کیلیے چلے گئے۔

                        شام  کا  سفر۔     امام غزالی صاحب  حج ادا  کرنے کے  بعد  شام چلے گئےاور وہاں پر جامعہ دمشق میں دو سال تک ریاضت اور مجاہدہ نفس میں مشعول رہے۔ یہ دور آپ کی معرفت کا دور تھا ۔یہاں آپ نے عربی زبان میں اپنی شہرہ آفاق کتاب “احیائ العلوم الدین” کی تصنیف مکمل کی انہوں نے مناظرہ کرنے اور شاہی درباروں میں حاضر ہونے سے توبہ کرلی۔ آپ نے ایک مدرسہ اور خانقاہ بنالی۔ لوگوں کی ہدایت اور شاگردوں کی تعلیم کا سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا ۔

                        امام  غزالی  کا  کارنامہ۔    امام غزالی نے اسلام میں یونانی فلسفے کے بڑھتے ہوئے زور کو توڑا اور اسلام کی  صحیح  روخ  کو  لوگوں  کے  سامنے  لایا۔  آپ  عالم ہوتے ہوئے تسکین قلب کے لیئے خانقاہی مسلک اختیار کیا ۔

                        اکسیر ھدایت۔  امام غزالی کی دوسری اہم تصنیف ،،اکسیر ہدایت ،،ہے جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی لیکن بعد میں خود ہی اس کا ترجمعہ فارسی میں “کیمیائے سعادت”کے نام سے کیا ۔ کیمیائے سعادت غزالی کی عربی کی تصنیف “احیائ العلوم الدین” کا فارسی زبان میں ترجمعہ و  خلاصہ ہے۔ اس عظیم کتاب کا موضوع اخلاقیات ہے اور یہ کتاب حسب ذیل چار عنوانات اور چار ارکان پر مشتمل ہے ۔

الف۔ عنوانات

ا۔                 شناختن نفس

ب۔         شناختن حق تعالی

ج۔            شناختن دنیا

د۔                شنا ختن آخرت

ب۔     ارکان

ا۔                 عبادات

ب۔         معاملات

ج۔            مہلکات

د۔                منجات

                        بظاہر  اس کتاب کا موضوع اخلاقیات ہے اور اس کی بنیاد  دین پر ہے ۔غزالی مشکل سے مشکل  بات کو چھوٹے  چھوٹے جملوں میں بڑی سہولت سے  سمجھادیتے ہیں۔ استدال کی غرض سے قرآنی  آیات اور حدیث نبوی  سے کلام کو زینت بخشی ہے۔ بعض فقرات کے آخری فعل بود ، باشد، شد، گشت وغیرہ حزف کر دیتے ہیں جس سے کلام  میں حسن پیدا  ہو جاتا ہے، کبھی کبھی فلسفانہ لکھتے کو واضح کرنے کے لیئے اس کی تشریح بھی کردیتے ہیں لیکن تفصیل میں  غیر ضروری چیزیں شامل  نہیں آنے دیتے  ہیں۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …