Home / Persian Poets / نظام الملک طوسی کی تصنیف سیاست نامہ یا سیرالملوک ﴿سلجوقیہ ﴾

نظام الملک طوسی کی تصنیف سیاست نامہ یا سیرالملوک ﴿سلجوقیہ ﴾


نظام الملک طوسی کی تصنیف سیاست نامہ   یا   سیرالملوک ﴿سلجوقیہ 

        تعارف۔    سیاست نامہ یا سیرالملوک نظام الملک طوسی کی تصنیف ہے۔ نظام الملک طوس کے قریب قریہ رادگان میں پیدا ہوئے۔ طوس میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ عہد سلاجقہ میں تیس سال تک وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہے۔ نظام الملک کی قابلیت تدبر انتظامی وعسکری صلاحیت کی بنا پر مملکت سلجوقیہ کو وسعت ہوئی۔وہ 455 ھ میں اسماعیل فدائی کے ایک فدائی کے ہاتھوں مارے گئے ۔

         نظام  المک  کا  تعلیمی  کارنامہ۔  نظام الملک ایران کے عظیم الشان وزرائ میں سےشمار ہوتے تھے۔ وہ علمائ، فقہا اور عرفائ کا بہت خیال رکھتے  تھے، انہوں نے تعلیم عام کرنے کے لیئے نظامیہ  مدارس قائم کیئے۔ اس مضمون میں سیاست  نامہ  کو  مندرجہ  ذیل  نقاط  میں  بیان  کیا  گیا  ہے۔


ا۔          کتاب کی وجہ تسمیہ

ب۔         کتاب کے  چیدہ چیدہ نقاط

ج۔         سیاست نامہ براؤن کی نظر میں

د۔          سیاست نامہ کا انداز تحریر

            کتاب کی وجہ تسمیہ۔  نظام الملک نے یہ کتاب سلطان ملک شاہ کی فرمایش پر تالیف کی جو پچاس ابواب پر مشتمل ہے۔ نظام الملک نے اپنی عہد وزارت کے طویل عرصے کی تجارت کو کتاب کی صورت میں مرتب کرکے اس کا نام سیاست نامہ یا سیر الملک یا  پنجاہ فعل رکھا ۔

                        کتاب کے  چیدہ چیدہ نقاط۔  نظام الملک نے کتاب میں امور مملکت  داری کے متعلق سیاسی، دینی اور تاریخی نقطہ نظر سے بحث کی گئی ہے۔ بادشاہ کی رعایا پروری، عدالت گستری اور انصاف  حکام وعمال، قاضی و محتسب اور دوسرے منصب داروں کے فرائض بیان کیئے گئے ہیں۔ دربار داری اور مجالس شاہی کے آداب ومراسم پر گفتگو کی گئی ہے۔

سیرالملوک
سیرالملوک

         سیاست نامہ براؤن کی نظر میں۔    براؤن کے خیال میں یہ کتاب آئین جہانداری کے موضوع پر مشرق کے عظیم ترین وزیر کے نظریات کی آئینہ دار ہے۔ اس میں انبیائ کے قصص اور عادل بادشاہوں کی  حکایات بھی ہیں۔ اختصار کے باوجود اپنے اندر گرانقدر مواد رکھتی ہے۔ اس کتاب کے سات ابواب نظام الملک نے غیر اسلامی فرقوں کی تردید میں لکھے  ہیں۔ اس نے اسماعیلی عقائد پر کڑی تنقید کی ہی ہے اور انہیں مزدک  کا جانشین بتایا ہے جس کی تعلیم نسل انسانی کے لیئے تباہ کن ثابت ہوچکی ہے۔

         سیاست نامہ کا انداز تحریر ۔ اس کتاب کا طرز  تحریر میں سادگی اور  روانی قابل ذکر ہے۔ اس کتاب کی عبارت کی سادگی اور روانی آج بھی  اسی طرح برقرار ہے۔ اس کے جملے مختصر لیکن بہت واضح ہیں۔ تاریخی غلطیوں کے  باوجود  فارسی  نثر کی کتابوں  میں سیاست نامہ براؤن کی پسندیدہ  کتاب ہے۔بعض  لوگ اسے  تالیف کی بجائے نظام الملک  کی تدوین کہتے ہیں۔  سیاست  نامہ  میں کہیں کہیں  عربی کے الفاظ بھی آئے ہیں جو اس سے پہلے کی کتابوں  میں دیکھنے  میں نہیں آئے ہیں۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply