مولانا جلال الدین رومی کا نظریہ تصوف تاریخ کی روشنی میں


مولانا جلال الدین رومی  کا  نظریہ  تصوف  تاریخ  کی  روشنی  میں

           نظریہ تصوف ۔  صوفی  بزرگوں میں سے ذوالنون مصری، سلطان  ابراہیم ادہم،  بایزید بسطامی، شبلی اور محمد بن حسین بن منصور حلاج رومی کے عزیز  بزرگ تھے۔ ان کے متعلق حکایات مثنوی کے مختلف دفتروں میں ملتی ہیں۔ بایزید بسطامی  اور حلاج  مولانا جلال الدین رومی کے نظر یہ تصوف سے وہ ہم آہنگ تھے۔انہوں نے انا الحق کی جابجا تشریح کی اور توضیع کی ہے ۔

         مثنوی معنوی کے اہم مو  ضوعات

ا)         سعی و عمل۔  مولانا جلال الدین رومی عام صوفیہ کی طرح رضا ء بالقضاء کے قا ئل نہیں  یعنی صرف توکل کر کے  سعی و عمل چھوڑ کر    گوشہ نیشین ہو جائے،  وہ جدو جہد اور عمل  کی تاکید کر تے ہیں۔

اندر  ین رہ می تراش   و می خراش             تا دم آخر دی  فارغ مباش

ب)         جبر و  اختیار۔    اگر چہ مولانا جلال الدین کہتے ہیں جبرو اختیار کا مسلہ پیچیدہ ہیں  لیکن انہوں نے بہت سی مثالیں دے کر کچھ سمجھانے کی کو شش کی ہے اور  اختیار کے حق میں انہوں نے اپنے رائے کا اظہار کیا ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ ایک تو جبلی طو  ر پر انسان کو  نیکی و بدی احساس عطائ ہو تا ہے۔ ادمی کو اختیا ر حاصل ہے کہ وہ نیکی کا راستہ اختیار کریں یا برائی کا،  کیونکہ اگر کسی کام میں آدمی کو ارادہ  یا اختیار حاصل نہیں  تو ہر اس اعمال و احکامات  و مکافات  کا قانون بے کار ہوتا ہے۔ اس کو عذاب و ثواب دینے کا حق بھی نہیں رہتا ۔ اگر کوئی ادمی یہ کہے کہ وہ مجبور ہے، اس کی قسمت میں جو کچھ لکھا ہے، وہ ہو کر رہے گا، پھر اس میں کچھ عمل دخل نہیں ہے اس سے تو خدا کے قہار و رحم  پر حرف آتا ہے۔  کائنات کی کوئی شے  اپنے اعمال کے جوابدہ  نہیں رہتی، دنیا کا سارا نظم وضبط بے معنی ہو جاتی ہے۔ خدا کو غیب  کے علم کا پتہ ہوتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ تمام اسرار کائنات سے آگا ہ ہے۔  اس نے کائنات کو چلانے کیلیے قوانین و نظم ضبط نافذ کیے ہیں۔ ان ہی کے مطابق سارا نظام چلتا ہے۔ ہر کام کی کوئی نہ کوئی علت ہوتی ہے۔ انسان ان سب قوانین سے آگاہ نہیں ہے۔  اسے معلوم نہیں کہ ائندہ اس پر کیا گزرے گا ، اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں  کہ وہ اپنے مستقبل کیلے محنت کرے  نہ اور رضا الہی پر چھوڑدے۔  وہ خیر کا بدلہ ضرور دے گا۔ ظلم کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ خدا ان کی مدد کرتا ہے  جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ آﷲ کی رضاء طلب کرنے والوں کیلیے  خدا خود ان کا دوست و بازو  بن جاتا ہے  ۔

درد خرد جیر از قدر رسوا ترست                 زانکہ جیری حسن خود را منکرت

ج)         عشق۔   عشق ارزو ہے،  کسی کو حاصل کرنے کا شدت عمل ہے۔ اگر مقصود عالی ہو تو عاشق قربانی دینے کیلے امادہ ہوتا ہے۔  وہ تمام قوتوں کو اس کے حصول کیلے  مرکوز کر تا ہے۔  اس میں ایسی قوت آجاتی ہے کہ بقول رومی۔۔۔

عشق جو شد بحر را  مانند دیگ        عشق سائدہ  کوہ راہ  مانند ریگ

د)         عشق ایک ایسا عزم بالجزم اور کام کرنے کا بے پناہ تڑپ ہے  کہ وہ زندگی کو گوناگوں اعمال میں ایک حرکت  و تعبیر پیدا کر نے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ رومی کہتے ہیں کہ۔۔۔۔

از محبت تلخہا شرین شود             از محبت مس ہا زرین  شود

از محبت درد ہا  صافی شود          وز محبت درد ہا شافی شود

ذ)         اگر عشق کا مطمع نظر باری تعالی ہو ، انسان تمام علایق سے کٹ کر اس کی طرف لگ جا تا ہے۔ تمام رکاوٹوں کو دور کر تا ہے  یعنی تمام نفسیاتی خواہشات  اور اخلاقی  ضمیمہ حوس،  حسد، کینہ  کٹ جاتے ہیں۔ یہ گویا عشق  کی بر کت اور اس کا ثمر ہے۔ اس لیے مولانا جلالالدین عشق کو کہتے ہیں۔

شاد باش اے عشق خود سودای ما                               اے طبیب جملہ علت ہای ما

 اے دوای نخوت و  ناموس  ما                                      ای تو افلاتون  و  جا لینوس  ما

ر)         رومی نے اکثر جگہ عشق کو آگ سے تشبیہ دی ہے۔ عشق ایسا شعلہ ہے جو چیزوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور عاشق ایسا فولاد ہیں جو آگ میں داخل ہوتا ہے۔ آگ کی تب و تاب و سوز سے  گرم ہو جاتا ہے  اور گویا اس کے مثل ہو جاتا ہے۔ یہی خیال عاشق کا ہے، وہ آتش عشق یعنی محبوب حقیقی میں  اپنے آپ کو اس قدر  مدغم  کر دیتا ہے  کہ محبوب کی تمام صفات  یعنی  گرمی و روشنی سے منصف ہو جاتا ہے۔ دوسرے معنوں میں  اس میں اوصاف خداوندی    پیدا ہو جاتا ہے۔

رنگ آہن  محو رنگ آتش است                      ز آتشی   می لا فد و آہن وش است

ز)         عشق میں  ایک منزل یہ بھی آتی ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر  محبوب کی  ہستی میں کھو جاتا ہے۔  وہ آب خود نہیں رہتا ہے ہمہ تن وہی ہو جاتا ہے۔ حسین بن منصور کی بھی یہی کیفیت تھی  کہ وہ ہستی خداوندی میں اس قدر جذب ہو گئے تھے  کہ وہ اپنی انا فنا کر کے بقاء حاصل کر چکے تھے۔ اس لیے جب انہوں نے انا الحق کہا  تو وہ خود نہیں بول رہے تھے بلکہ خدا بول رہا تھا۔ اس نقطہ کو ظاہر پرست نہیں سمجھ سکتے ہیں۔  مولانا جلالالدین اس حقیقت کو جانتے تھے  اور کہتے تھے۔   گفت منصوری  انا لحق  و برست ۔

س)         عقل و ایمان۔      مولانا جلالالدین کے نزدیک عقل کی کیفیت اور افادیت مسلم ہے لیکن عقل و شک و گمان  و است

مولانا جلال الدین
مولانا جلال الدین

دلال سے کام لیتی ہے اور کشف حقائق میں  عاجز رہتی ہے۔ عشق یا علم ایمان    ایسی قوت ہے۔ جو اصل حقیقت کو مشاہدہ کر نے سے حاصل ہوتی ہے۔  رومی کہتے ہیں  ۔

علم جو پای   یقین با شد بدان           و آن یقین    جوپای دید ست و عیان

ش)         عقل مفید ہے لیکن عشق اور ایمان کے بغیر  تباہی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ عقل اور عشق میں تصادم سے عقل راہ عشق میں کام نہیں آتی۔

ص)      رومی اور مسلہ ارتقاء۔   مولانا جلالالدین فرماتے ہیں کہ اے انسان  تو جیسے جماد تھا ، پھر نبات ہوا،  بعد میں حیوان  اور پھر علم وا یمان  والا انسان بنا۔  ان کا خیال یہ ہے کہ یہ ارتقاء رکے گا  نہیں   بلکہ انسان فرشتہ بن جائے گا  اور اس کا مقام اسمان میں ہو گا  اور اس کے بعد فرشتگی سے بھی بالاتر ہو کر  بحر پیکران میں جا ملے گا۔ دوسری جگہ مولانا کا نظریہ ہے۔

من آن روز   بودم کہ اسما نبود                        نشان از وجود مسما نبود

نما شد مسما واسما پد ید                                 در آن روز کا نجا من و  ما نبود

ض)      اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان روح تھا اور ارواح میں خدا کے قریب تھا،  پھر انسان کو جسم عطا ہوا اور وہ مادی زندگی سے آلودہ ہو کر اس دنیا میں آ گیا۔ آپنے مرکز سے جدا ہو گیا۔ دنیا کی دلچسپیاں اسے خدا سے غافل کر دیتی ہیں اور وہ ان میں الجھ کر اپنی اصلیت سے دور ہو جاتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت سے با خبر روح اپنے اصل کی طرف جانے کے لیے بے قرار رہتی ہے اور  اس جسد عنصری سے آزاد ہو کر پھر اپنے مقدس عالم ارواح میں چاہتی ہے مولانا جلالالدین اپنی مشنوی کا آغاز تمشلا اس بے قررار روح کی فریاد سے کیا ہے ۔

بشنو از نی چو ں حکایت می کند             و  ز   جدا ئیہا شکایت می کند

ط)      وحدت الوجود و وحدت الشہود ۔   وحدت وجود کا مطلب یہ ہے  کہ خدا ایک ہے۔ اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ خدا کا کوئی اور شریک بھی نہیں۔ اہل تصوف کا یہ عقیدہ ہے کہ ہمہ اوست، کائنات میں صرف خدا  ہی کی ذات ہے اس کے سو ا اور کچھ نہیں۔ جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے سب خدا ہی خدا ہے۔ کائنات کی تمام اشیائ جو جسم اختیار کیے ہوئے محدود صورت میں ہمیں  نظر آتی ہیں، یہ سب خداوندی کی مظاہر ہیں۔ صوفیا کا یہ عقیدہ  ہمہ اوست  کہلاتا ہے۔ اسے نظریہ وحدت الوجود بھی کہتے ہیں۔  وحدت وجود میں شخصیت فنا ہو جاتی ہے۔ وحدت شہود میں شخصیت قائم رہتی ہے۔ مشلاَ چراغ، آفتاب کی روشنی میں کم ہو جاتا ہے لیکن اپنی روشنی قائم رکھتا ہے اور لوہا آگ میں آگ کی طرح سرخ ہو جا تا ہے لیکن وہ آگ نہیں بن جاتا۔ جب یہ صفات نہیں رہتی تو لوہا اپنی ہستی الگ قائم رکھتا ہے۔ مولانا جلالالدین کی مثنوی میں وحدت الوجود  اور وحدت الشہود دونوں قسم کے خیا لات کا اظہار ہوا ہے۔ مشلّا وحدت الوجود کے متعلق ان کا اشعار ۔

جملہ معشوق است و عاشق پردہ ای

ظ)      وحدت شہود کے متلق آہن اور آہن کی مشال مثنوی میں مو جود ہے ۔۔۔

رنگ آہن محو رنگ آتش است                زآتشی می لا فد وہ آہن وش است

چون بہ سرخی گشت ہمچو  زرکان                     پس انا النار است لافش بیگمان

ع)      مرد خدا ۔       انسان روحانی مراحل طے کر کے ایک ایسے اونچے مقام تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہمہ تن صفات خداوندی سے متصف کر تا ہے۔ وہ راضی بہ رضائے خداوندی ہوتا ہے۔ جو شخص خدا کو اپنا لیتا ہے۔ خدا اس کے اندر قوت و تا ثیر  پیدا کر تا ہے  کہ وہ جہاں کو مسخر   کرنے اور اس پر حکمرانی کرنے کے قابل ہوجائے۔۔۔

ہر کہ عاشق شد  جمال زات را                   اوست سید جملہ  موجودات را

غ)      جدوجہد۔   مولانا جلالالدین جدوجہد  کو زندگی   کیلئے بہت ضروری سمجھتے ہیں۔ توکل  تو ان کا ایمان ہے لیکن ان کے نزدیک توکل کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ انسان کو شش چھوڑدے  اور ہاتھ پاؤں توڑکر بیٹھا رہے بلکہ توکل سے مراد یہ ہے  کہ صوفی کوشش کر تے ہوئے  نظر خدا   پر رکھے  اور اس کے عقیدے سے اس کے دل میں  ایک اعتماد پیدا ہوجائے۔ مولانا فرماتے ہیں ۔

گفت پیغمبر    بہ آواز بلند                       با توکل  زانوی  اشتر   بہ بند

رمز  الکاسب   حبیب اﷲ شو             از توکل  در سبب غافل شو

ف)      معاشرتی اصلاح۔    مولانا نے انفرادی اور اجتماعی  اخلاق و کردار   سنوارنے کے لیے  جو نصیحتیں   کی ہیں۔ وہ معاشرتی اصلاح کے لیے   بڑا سرمایہ ہے۔ مثنوی ایسے جواہر بے بہا معمور ہے۔

مثنوی کی خصوصیات

ا۔         تشبیہات۔     مثنوی کی سب سے بڑی خصوصیت مولانا جلالالدین کا طرز استدلال  اور سمجھانے کا طریقہ ہے۔ مولانا جلالالدین کو یہ احساس ہے  کہ فلسفیانہ  موضوع گہرائی کے باعث  آسانی سے سمجھ نہیں آتا،  اس لیے وہ جب  کوئی بحث چھیڑ تے ہیں تو تشبیہات اور تمثیلات  کے زریعے قارئین کو ذہن نشین  کرواتے ہیں ۔

ب۔         اگرچہ مولانا جلالالدین سے پہلے فرضی حکایتیں لکھ کر  اخلاقی مسائل کی تعلیم  دی جاتی تھی  لیکن مولانا جلالالدین نے فلسفیانہ  شعور اور شاعرانہ   صلاحیتوں  کی بدولت اس طریقہ تعلیم کو کمال کے مر تبے تک پہنچادیا ہے۔

ج۔         جن جن مسائل پر  مذہبی  یا عقلی لحاظ سے لوگوں کو اختلاف ہے، ان کو مولانا جلالالدین مناظروں کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ مسائل کے منفی اور مثبت دونوں پہلوں پر  پرزور دلائل دیتے ہیں، پھر محققانہ انداز میں  خود فیصلہ دیتے ہیں، جس سے تمام غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔

د۔         مولانا  ہدایت اور تعلیم کو سخن پردازوں  اور  شاعری  کی  نسبت  زیادہ  اہمیت  دیتے  ہیں۔ ان  کے

  پیش  نظر  عالم و عارف بھی ہیں اور مبتدی اور عالی بھی۔ ان کا روئے سخن سب کی طرف ہے۔ اس لیئے زبان بھی ایسی استعمال کی ہے جو سب کی سمجھ میں آسکے۔

ذ)         مثنوی میں قرآنی معارف کی بہت شرح وبسط سے تفسیر کی گئی  ہے۔ یہاں تک کہ مثنوی کا آغاز بھی قرآن مجید کے انداز سےہوا ہے۔ کلام مجید کے شروع میں سورت  فاتحہ ہے جو کلام مجید کا لب و  لباب ہے۔ اسی طرح (نے )کو روح انسانی قرار دے کر تصوف اور معرفت کا محاصل ابتدائی چند اشعار میں پیش کردیا گیا ہے۔ باقی کے تمام دفاتر  انہی اشعار کی تفسیریں ہیں ۔اس لیئے مولانا  روم کے ہم وطنوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے ۔

مثنوی معنوی مولوی                      ہست قران در زبان پہلوی

مثنوی کے حوالے سے مولانا جلال الدین رومی کے تصور عشق پر تبصرہ

ا۔         موضوع عشق۔     مثنوی میں مولانا روم نے کئی ایک موضوعات کو  چھیڑا ہے، جن میں سے ایک موضوع عشق کا بھی ہے۔ دیگر شعرائ کے برعکس مولانا روم نے اظہار  عشق میں کسی الہام سے کام نہیں لیا بلکہ طریقت و معرفت کے اسرار و   رموز  برملا  کہے  ہیں۔مولانا کے کلام میں  کوئی شبہ نہیں رہتا   کہ مولانا عالم مجاز میں  سخن سرائی کررہے ہیں۔ عالم حقیقی میں ان کا عشق بھی حقیقی ہے اور بیان بھی حقیقی ہے۔ہم پہلی مرتبہ  عشق حقیقی کا برملا نغمہ مولانا ہی کی زبان سے سنتے ہیں ۔

عشق ہای کز بی رنگی بود عشق بنود عاقبت لنگی بود

عشق بر مردہ  نبا شد پائیدار           عشق را بر حی وبر قیوم دار

               فکر انسانی اس وقت  تک الجھن کا شکارنہ  ہوئی جب صوفیائ  عاشقانہ  واردات کا ذکر مجازی رنگ میں کیا کرتے تھے لیکن جب ذات باری کا عشق  اپنے حقیقی  خدوخال کے ساتھ  شعرو نغمہ کا موضوع بنا تو  اس میں مافوق الطیعاتی  عناصر بھی شامل ہوگئے ۔اور موضوع نازک تر ہوگیا ۔اور موضوع عشق  کو سمجھانے میں مشکلات سامنے آئیں ۔

             عشق  حقیقی۔    مولانا جلالالدین کو ذات خدا وندی سے عشق کا جزبہ  اتنا تیز اور گہرا ہے کہ جگہ جگہ عشق کی کیفیات بیان کرتے چلے جاتے ہیں لہزا مثنوی کا کوئی  دفتر ایسا نہیں جس کے صفحات پر عشق  اور کیفیات عشق کا بیان  بکھرا نہ  ہو۔ لیکن اظہار و بیان کی  تمام فصاحتوں کے باوجود اپنے آپ کو شرمندہ عشق سمجھتے ہیں کیونکہ اسے پوری طرح بیان نہیں کرسکتے ۔

ہر چہ گویم عشق را  شرح وبیان     چو بعشق آیم خجل باشم از  ان

             روح انسانی۔     روح انسانی روح مطلق کا حصہ ہے۔  اس دنیا میں وہ رہ کر  مضترب  اور  بے تاب ہے اور اپنے منبع وماخوز سے مل جانا چاہتی ہے لیکن جب انسان دنیا وی دھندو میں پھنس جاتا ہے تو اس کی روح تکبر و نخوت، لالچ وجاہ  طلبی جیسی آلود گیوں میں مبتلا ہوجاتی ہے جو انسان کو منزل پر پہنچنے سے روکے رکھتی ہے۔عشق ایک معالج ہے جو ہمیں عیبوں سے نجات دلا سکتا ہے ۔

شاد باش اے عشق خوش سوائے ما اے طبیب جملہ علت ہای ما

اے دوای نخوت وناموس  ما             اے تو  افلاطون و جا لینوس ما

             دنیا کی پے در پے مشکلات سے انسان دل برداشتہ ہوکر حوصلہ ہار بیٹھتا ہے، لیکن جن کے دل عشق سے مالا مال ہیں وہ صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں عشق ان کی تمام مشکلات حل کرنے والا اور ان کی تلخیاں شیر ینیوں میں  بدلنے والا ہے۔ عشق کی بدولت ان کے دکھ درد شفاء   پاتے ہیں اور ان کے راستے کے کانٹے گلستان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔    مولانا  فرماتے ہیں ۔۔۔

از محبت تلخ  ہا شیرین شود           از محبت مس ہا زرین شود

از محبت درد ہا صافی شود            وز محبت درد ہا شافی شود

از محبت دار تختی می شود            وز محبت بار  بختی می شود

               اس دنیا  میں جو کچھ ہے عشق ومحبت کا مظہر ہے اور ہر مخلوق کے دل میں فراق وجدائی کی بے تابی موجود ہے۔ یہ تڑپ اور بے تابی حرکت اور ترقی کرنا سکھاتی ہے۔بے مایہ ذرہ چاہتا ہے۔ بڑھ بڑھ کر آفتاب تک پہنچے ایک بیج بڑھ کر درخت  بننا چاہتا ہے۔قطرہ چاہتا  ہے چل چل کر سمندر   واصل ہوجائے۔ گو یا اس طرح ہر چیز  ترقی کی منازل طے کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے منبع  ماخز سے جا ملے۔   یہی وہ عشق ہے جس کی بدولت  جسم خاکی کو افلاک پر پہنچنے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

جسم خاکی از عشق برافلاک شد      کوہ در رقص آمد و چالاک شد

عشق جان طور آمد عاشقان            طور مست وخر موسی صاعقا

             عشق  اور  انسانی  روح  کا  رشتہ ۔صوفیا  کا عقیدہ ہے کہ انسانی روح ایک ابدی اور غیرقانونی عنصر ہے  جسکا براہ راست ذات خداوندی سے تعلق ہے۔ یہ تعلق  بالکل ایسا ہی ہے جیسا جزو  کا  کل کے ساتھ ہوتا ہے۔ صوفیاں جہاں ذات خدا وندی  کو روح مطلق سمجھتے ہیں  وہاں اسے حسن مطلق بھی کہتے ہیں۔ حسن مطلق  ایک سر چشمہ  ہے جس سے حسن کے چشمے  پھوٹتے  ہیں اور کائنات میں پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی روح اپنے اس اضطراب اور بے چینی کو  صوفیانہ اصطلاح میں عشق کہا جاتا ہے۔  اس سورت میں روح انسانی عاشق ہے اور ذات باری محبوب۔  پہلے  زمانے  کے صوفیاء اس  تعلق کو مجاز کے پردے میں بیان کرتے تھے۔ یہ صوفی زلف کا بھی ذکر  کرتے تھے اور خال و رخ کا بھی۔  ان کے کلام میں ساقی کا بھی ذکر آتا ہے تو اس سے  ظاہریت کا وہ پردہ مراد ہوتا ہے جس نے حقیقت کو چھپا رکھا ہے۔ اسی طرح چمکتے  دمکتے  رخ کا جب ذکر آتا ہے تو اس سے حسن ذات حق مراد ہوتا  ہے، جوصفات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔  نشہ شراب سے وہ کیف  ومستی مراد  ہے جو تصور محبوب میں غرق ہوکر سالک کو حاصل ہوتی ہے۔ اس قسم کے طرز بیان سے اکثر لوگوں کو یہ شبہ  ہوتا ہے کہ شاعر کا موضوع سخن مادی محبت ہے۔ مولانا کے اس شعر سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے ۔

سرپہنان است اندر ز  بر ویم          فاش اگر گویم جہاں برہم زنم

             شاعری  میں  راہ  طریقت  کے  اسلوب  کا  مطلب۔    راہ طریقت میں ایسا  مقام بھی آتا ہے کہ اگر اسے واضح طور پر بیان کیا جائے تو ظاہر بین لوگ راہ طریقت کے سالک کو دار  و  رسن کا مستحق  سمجھتے ہیں اس لیئے ابو سعید  اور حکیم تنائی نے بھی یہی اسلوب اختیار  کیا۔  حافظ شیرازی بھی شاہراہ طریقت پر گامزن ہوئے تو انہوں نے بھی اپنے واردات وبیان کے لیئے یہی اسلوب اختیار کیا۔  مولانا نے عام روش سے ہٹ کر وادی عشق میں طبع آزما ئی کی اور اسرار و رموز  اس لیئے واضح طور پر بیان کیئے تاکہ عام لوگ اس شک وشبہ میں نہ رہیں کہ شاعر کہتا کیا ہے اور اس کا اصل مقصود کیا ہے۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply