مولانا جلال الدین رومی اور مثنوی معنوی MAULANA JALAL UD DIN ROMI


مولانا جلال الدین رومی  اور مثنوی معنوی 

           تعارف۔      مولانا جلال الدین رومی 1207ئ میں بلخ (افغانستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار ایران  کے صوفی شاعروں میں بہت  بلند مقام پر ہوتا ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد عربی  النسل تھےاور عرب سے آکر بلخ میں آباد  ہوئے۔ مولانا یہیں پر  پیدا ہوئے۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ روم  (ترکی) میں گزرا۔ اس لیئے آپ نے مولانائے روم کے نام سے شہرت پائی۔ آپ کا خاندان علم وفضل کی وجہ سے بہت مشہور تھا ۔آپ کی مثنوی معنوی ایک زندہ جاوید یادگار ہے جو زمانہ حال ومستقبل کے طالبان معرفت کے لیئے ہمیشہ شمع ہدایت کاکام دے گی۔ تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ آپ کے خاندان نے بڑے بڑے محدث اور فقیہ پیدا کیئے۔

         خاندانی پس منظر۔   مولانا جلال الدین کے والد محمد بن حسین خطیبی  جو بہائ الدین والا کے نام سے مشہور ہوئے اپنے وقت کے بہت بڑے عالم  تھے۔ وہ درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ان کے علم و فضل کی وجہ سے خوازرم کے حکمران سلطان علاؤالدین محمد کو آپ سے بڑی عقیدت تھی۔ اہل بلخ تو ان کے شیدائی تھے۔ جب وہ وعظ کرتے تو خواص وعام ان کے وغظ میں شریک ہوتےتھے۔

           بلخ سے ہجرت۔     شیخ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں عقیدت مند آپ کے درس سے مستفید ہونے کے لیئے کھینچے چلے آتے تھے۔ ایک دن  خوارزم کے بادشاہ سلطان علاوالدین مولانا بہاؤالدین کے پاس گیا تو ہزاروں، لاکھوں آدمیوں کا مجمع تھا۔خوارزم کے بادشاہ نے حد سے زیادہ  بھیڑ دیکھ کر امام رازی سے کہا کہ کس غضب کا مجمع ہے۔ امام صاحب موقع کے منتظر رہتے تھے۔فرمایا ہاں اور اگر ابھی سے تدارک نہ ہوا تو پھر   مشکل  پڑے گی۔خوارزم کے بادشاہ نے امام صاحب کے ہاتھ سے شاہی خزانے اور قلعہ کی چابیاں بہائ الدین کے پاس بھیج دئے اور کہلابھیجا کہ اسباب سلطنت میں سے صرف یہ کنجیاں میرے پاس رہ گئی ہیں وہ بھی حاضر ہیں۔ مولانا نے فرمایا اچھا جمعہ  کو وعظ کرکے یہاں سے چلا جاؤں گا۔ جمعہ کے دن شہر سے نکلے۔ خوارزم کےشاہ کو خبر ہوئی تو بہت  پچھتایا اور حاضر ہوکر منت سماجت کی لیکن وہ ارادے سے باز نہ آئے ۔یہ واقعہ 1220ئ میں پیش آیا اس وقت مولانا جلال الدین کی عمر بارہ سال تھی ۔

           انتقال۔      جلد وطنوں کا یہ قافلہ نیشاپور سے گزر کر بغداد آیا پھر مکہ معظمہ گیا اوریہاں سےچل کر یہ لوگ روم ﴿ترکی ﴾ کے شہر ملاطیہ پہنچے، جہاں یہ چار سال رہے پھر لارندہ گئے، جس  کو آج کل قزمان کہتے ہیں۔ یہاں ان کا قیام سات سال تک رہا۔ اس عرصے میں مولانا جلالالدین نے شادی کی اور دو بچے بھی ہوئے۔ اس کے بعد یہ لوگ قوتیہ آئے یہاں تھوڑے ہی عرصے بعد مولانا  بہاو الدین کا انتقال ہوگیا۔

مولانا جلال الدین
مولانا جلال الدین

           زندگی میں انقلاب کی وجہ۔   شیخ برہان جو شیخ طریقت بھی تھے۔ ان سے مولانا جلال الدین نے صوفیانہ طریقت پائی اور سلوک کی منزلیں بھی انہیں کی رہنمائی میں طے کیں۔ سید برہان کی وفات کے بعد مولانا جلالالدین ان کے جانشین بنے اور درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا۔  اسی اثنا میں مولانا جلال الدین کی ملاقات قوتیہ میں ایک درویش سے ہوئی، جس نے مولانا جلال الدین کی زندگی کو ہی بدل ڈالا۔ یہ درویش شمس الدین بن علی بن ملک داد تبریزی تھے۔شمس الدین بہت ضعیف اور نحیف شخص تھے لیکن ان کے بیان میں کشش اور ان کی شخصیت میں جاذبیت تھی۔ وہ درویشوں کی تلاش میں شہر شہر گھومتے پھرتےتھے۔ یہی تلاش انہیں قوتیہ میں بھی لے آئی۔  مولانا جلال الدین نے شمس کو دیکھ کر یہ محسوس کیا کہ یہ وہی فوق العادہ انسان ہے جن کی مدت سے تلاش تھی۔ مولانا جلال الدین نے شمس کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہیں گھر لے گئے۔ یہاں سے مولانا جلال الدین کی زندگی میں ایک بہت بڑا انقلاب پیدا ہوتا ہے۔شمس تبریز  کی ملاقات سےپہلے آپ مدرسے کے تعلیمی مشاغل میں مصروف رہتے تھے اور لوگ اکتساب فیض کرکے بہت خوش اور مطئمین تھےلیکن اب آپ نے تعلیمی مشاغل سے ہاتھ اٹھالیااورنغمہ نے کی اندرونی آواز پر کان لگادیئے۔اہل قونیہ مولانا کی اس قلبی کیفیت کو دیکھ کر سخت رنجیدہ ہوئے  اور شمس تبریزی کو برا بھلا کہنے لگے۔ شمس کو ان کی باتیں ناگوار گزری اور وہ وہاں سے اٹھ کر دمشق چلا  گیا۔ مولانا جلال الدین نے اپنے بیٹے سلطان ولد کو ان کے پیچھے بھیجااور پھر ان کو منت سماجت کرکے قونیہ لے آئے۔ ذوق سماع  کی  محفلیں پھر سے بپاہونے لگیں۔

         عشق  حقیقی۔    اہل قونیہ کو دل سے نہ بھایا کہ اجنبی شخص مولانا جلال الدین پر اس قدر چھاجائے کہ وہ اپنے ارادت مندوں کو بھول ہی جائیں۔ چنانچہ انہوں نے شمس تبریزی کے خلاف ہنگامہ کھڑا کردیا۔ جب اہل ظاہر کی مخالفت بڑھتی دیکھی تو شمس وہاں سے غائب ہوگئے اور کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ کہا گئے۔ مولانا جلالالدین کو اپنے پیر کی صحبت سے محروم ہوجانے کا سخت رنج تھا۔  ہر وقت انہی کی یاد رہتی تھی۔ سلطان ولد اپنی مثنوی ابتدانامہ میں لکھتے ہیں کہ مولانا جلالالدین نے اسی رنج فراق میں صوفیانہ غزلیات کا ایک دیوان پیر کے نام سے تصنیف کیا تھا۔  مولانا جلال الدین کو مدت تک شمس کی جدائی نے بے قرار رکھا۔ ایک دن اسی جوش وخروش  کی حالت  میں گھر سے نکلے، راہ میں شیخ صلاح الدین زرکوب کی دکان تھی۔ وہ چاندی کے ورق کوٹ رہے تھے۔  مولانا جلالالدین پر ہتھوڑی کی آواز نے سماع کا اثر   پید ا کیا۔ وہیں کھڑے ہوگئے اور وجد کی حا لت طاری ہوگئی۔ وہ  مولانا جلالالدین کی حالت دیکھ کر اسی طرح ورق کوٹتے رہے،  یہاں تک کہ بہت سی چاندی ضائع ہوگئی لیکن انہوں نے ہاتھ نہ روکا۔ آخر شیخ باہر آئے مولانا جلال الدین نے انہیں آغوش میں لے لیا اور اس جوش ومستی میں دوپہر سے عصر تک یہ شعرگاتے رہے۔

یکی گنجے پدید آمد از  ین دکان زرکوبی

زہی صورت، زہی معنی،وہی خوبی، زہی خوبی

           اولاد۔      مولانا جلال الدین کے دو فرزند تھے۔ سلطان ولد اور علاوالدین محمد۔   سلطان ولد راہ سلوک میں اپنے  والد کے پیر و تھے۔  حسام الدین کی وفات پر انہی کو  آپ کا خلیفہ بننے کی سعادت حاصل ہوئی  اورعلاوالدین محمد آپ کا فرزند وہی ہےجس کے متعلق کہاجاتاہے کہ شمس تبریزی کاخون اس کی گردن پرہے ۔

         مثنوی معنوی۔   مثنوی دس سالوں میں یعنی 662 ہجری سے672 ہجری کو پایہ تکمیل تک پہنچی اس مثنوی کے محرک حسام الدین مولانا جلال الدین کے مرید خاص تھے۔ مولانا جلال الدین بولتے جاتے اور حسام لکھتے جاتے۔ اس کی درمیان میں ذوجہ کی وفات اور مولانا جلال الدین کی بیماری پر سلسلہ تالیف رک بھی گیا۔کل چھ دفتر مکمل ہوئے۔

        مثنوی میں تسلسل۔   مثنوی ابواب و حصوں میں مرتب ہیں جیسے جیسے موضوعات ابھرتے رہے، ان پر اظہار خیال ہوتا رہا۔  ایک موضوع کے  درمیان  دوسرے  موضوع آگئے تو پھر سلسلہ کلام پہلے سے ملا دیا جاتا ۔

       کلام کی خصوصیت۔  مولانا جلال الدین کے  کلام میں مثنوی گنجیہ معارف اور خزینہ اسرار ورموز تصوف سے ہے۔ اس میں قرآن اور حدیث، اقوال عرفائ سے استفادہ کیا ہے۔ اخلاق و عرفان  و فقہ و کلام کے بے شمار مسائل زیر بحث آئے ہیں۔ خدا کائنات وحیات کے متعلق فلسفیانہ اور حکیمانہ نکات بیان کیئے گئے ہیں۔ روحانی زندگی  کا اعلی تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب علم کا ہدایت نامہ اور زندگی کا منشور ہے۔ مولانا جلال الدین نے مثنوی میں اکثر  حکایات اور تمثیلات سے کام لیا ہے۔ کہانی یا تمثیل بیان کرکے نتیجہ اخز کیا ہے اور منطقی استدلال سے اپنے فکرو خیال  کو معطر کیا ہے۔ ماقبل اخلاقی وعرفانی مثنویوں کی طرح  مثنوی معنوی، حمدو ثنائ، نعت، معراج ، منقبت، مرشد ، مدح سلطان  جیسی تمہیدات کے بغیر  غیر رسمی طور پر شروع کی گئی ہے لیکن آغاز میں ہی مطالب مثنوی کا لب لباب پیش کردیا ہے۔

           شہرت کا سبب۔     مولانا جلال الدین   کےمثنوی کی عالمگیر شہرت کا سبب اس کا سوز واخلاق ہے جو ہر حساس  دل کو متاثر کرتا ہے۔مثنوی اگر ایک خاص لہجے  میں بانسری سے ہم آہنگ پڑھی  جاتی رہی ہے اس لیئے سننے والوں کو یعنی پوری جماعت کو وجد میں لاتی رہی ہے۔ مولانا روم نے دفتر چہارم کے نثری دیباچہ میں مثنوی کے متعلق لکھا ہے کہ یہ دوستوں کے لیئے نور ہے اور اخلاق کے لیئے خزانہ۔

       مولانا کی شاعری پر رومی شعراے کا اثر۔    مولانا جلال الدین صوفی شعرائ میں سے شنائی اور عطار سے متاثر ہیں چنانچہ انہوں نے مثنوی میں شنائی کو حکیم غزنوی کہہ کر پکارا ہے۔ مولاناجلال الدین کے اشعار کو بھی جزو مضمون بنا دیا ہے۔ عطار  کی بعض حکایات کو بھی اپنا لیا ہے۔ مولانا روم لکھتے ہیں ۔

عطار  روح بود وشنائی دو چشم او   ما ز پی شنائی وعطار آمدیم


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply