مغرب کی نشاة الثانیہ پر اسلامی علوم کے اثرات کے بارے میں مغربی مفکرین کے تاثرات


  رابرٹ برفلٹ۔   رابرٹ برفلٹ لکھتا ہے کہ  یورپ میں احیائے  علم و فن کی اسباب عرب اور اندلس کی تہذیب  میں پوشیدہ ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اس احیائ کا گہوارہ اٹلی تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اس کا گہوارہ اندلس تھا۔جس وقت دہشت اور بربریت کی گہرائیوں میں اترتے اترتے یورپ کی تہذیب ذلت و زوال کی آخری تہہ تک پہنچ چکی تھی، اس وقت مسلمانوں کا شہر  بغداد، قاہرہ، قرطبہ،طلیطلہ تہذیبی اور علمی سرگرمیوں کے مرکزی حیثیت سے ا پنی کر نیں بکھیر رہے تھے۔ اس حقیقت کو یوں بیان کرنا ہے کہ اندلس کے مسلمانوں نے یورپ کو دینی تاریخ میں ایک روشن ترین باب کا اضافہ کیا۔ آٹھویں اور تیرہویں صدی عیسوی ٰ کے درمیان عربی زبان بولنے والی قومیں،مسلمان،تہذیب و تمدن  کی واحد مشعل بردار رہی ہیں۔ ان قوموں نے قدیم فلسفہ اور سائنس کو سیکھا اور ان میں اضافہ کیا اور اس طرح ان کی اشاعت سے مغربی یورپ میں احیائے علم و فن ممکن ہوسکا۔

جان ولیم برلفیر ۔ جان ولیم برلفیر  لکھتا ہے۔  علم کا شوق خلفائ اور اہل دربار کے لوگوں میں سرا ئیت کر گیا تھا۔مشہور  ماہر موسیقی  زریاب کو خوش آمدید کہنے کےلیے خود خلیفہ عبدالرحمن سوار ہو کر نکلا، خلفائ اور امرائ اپنے محلات میں رہنے کے بجائے درسگاہوں اور لائبریریوں میں وقت گزارنا زیادہ پسند کرتے تھے۔

رابرٹ بریفر ۔ رابرٹ بریفر مزید لکھتا ہے کہ مجھے افسوس ہے کہ مسلمانوں کے جن اصولوں نے یورپ کے لٹریچر کو جنم دیا، انہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔ درحقیقت عربوں کا یورپ پر بہت بڑا احسان ہے۔  یورپ کی ترقی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس پر اسلامی اثر نمایاں نہ ہو ۔موجودہ دنیا  کی بڑی طاقت اور بڑا کارنامہ طبیعاتی علوم ہیں جن سے انسانی زندگی میں عظیم انقلاب برپا ہوا ہے۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ ان علوم کےلیے مغربی اقوام مسلمانوں کی احسان مند ہیں۔ اندلس کے مسلمانوں نے علوم کی تمام شاخوں میں ترقی کی  اور ایسا نظام تعلیم ایجاد کیا جس میں طالبعلم کو بیشتر علوم و فنون میں مہارت حاصل ہوجاتی تھی۔

  قرطبہ کا ابشپ الوارون۔ قرطبہ کا ابشپ الوارون لکھتا ہے کہ عیسائی نوجوان جو اہلیت اور قابلیت کے لحاظ سے ممتاز ہیں، عربی زبان اور ادیبات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ لوگ عربی کی کتابیں بڑے شوق سے پڑھتے تھے اور بڑی رقم خرچ کرکے ان کتابوں کے کتب خانے بنواتے تھے۔

 یہودیوں نے ذاتی محنت اور دینیات پر عبور حاصل کیا۔ فرانس کے یہودی خاندانوں میں یہودی علمائ نے  ان علوم کے بارے  میں  درس کا سلسلہ شر وع  کیا ۔ آہستہ  آہستہ  یہ علوم کے مما لک  میں پھیلنے  لگے۔ جرمنی، فرانس  یہاں تک کہ دور افتادہ  انگلستان میں بھی تعلیمی  ادارے  کھل گئے۔ جہاں استاد  مسلمانوں  کے علوم  اپنے  ہم و طنوں  کو  سکھانے لگے، جو اندلس اور صقلیہ  کےعلمی سرچشموں  سے فیض یاب  ہو کر  آتے تھے  ۔

 جنوبی فرانس کی خانقاہ  میں متعدد  اندلسی  راہبوں نے مل کر بارھویں صدی  عیسوی  میں  اس  خانقاہ  کو  ایسا علمی مرکز  بنا دیا۔ یہاں مسلمانوں کے  علوم  کے بارے  میں درس دئیے  جاتے تھے۔ جرمنی  کے  شہر لورین  میں دسویں صدی عیسوی میں یہ علوم پہنچادئیےگئے۔دو  سو سال بعد یہ شہر علمی مطالعہ اور تحیق  کا اہم  مرکز بن گیا تھا۔ جرمنی کے فرمانراؤں اور اندلس کے خلیفہ کے درمیان سفارت  کا سلسلہ قائم تھا, 953ئ  میں عظیم الشان بادشاہ  Ottoنے ایک راہب کو سفیر بنا کر اندلس بھیجا۔ اسکا نام جان تھا۔ وہ تقریبا تین سال قرطبہ میں رہا، عربی سیکھی اور  اپنے ساتھ  عربی علوم کی کتابیں لے  کر  جرمنی واپس چلا گیا۔اس قسم کے چار  ہزار  یہودی علمائ  کا ذکر کیا گیا ہے۔ جہنوں  نےعر بی تہذ یب کے علوم سیکھ  کر ان میں مہارت حاصل کی۔

یورپ
یورپ

  مسلمانوں نے علم  نباتات اور علم حیوانات، علم طبیعات، علم ہیت وغیرہ کے بارے میں جو تحقیقی  کتابیں تصنیف کیں اور  ان  کا  ترجمہ مختلف زبانوں میں کیا گیا۔ یہ ترجمہ مدتوں درسی  کتا بوں کے طور پر فرانس، اٹلی، جرمنی اور  یورپ کی مختلف ممالک میں پڑھایا جاتا رہا۔ان ترجموں کی بنیاد پر مغربی تہذیب کا شاندار محل  تعمیر  کیا گیا۔

        1085ئ  میں طلیطلہ پر یہودیوں کا قبضہ ہو گیا۔اب تیزی سے یہاں سے علمی خزانے یورپ کے ملکوں میں بھیجے جانے لگے۔ اوچرٹ  کی نگرانی میں طلیطلہ میں ترجمے کا ایک مرکز قائم کر دیا گیا۔ یہاں ابن رشد  کی فلسفہ کی کتابوں کے ترجمے  کردئے  گئے۔ جنہوں نے مغربی فلسفے کو بہت متاثر کیا اور  تیز ی کے ساتھ    خوارزمی، رازی، الفارابی اور القاندی  کی کتابوں کو مغربی جامہ  پہنایا  جانے لگا۔جزیرہ سیسلی اسلامی تہذیب و تمدن  کا اہم مرکز  تھا۔

        1091ئ میں جرمن فوج نےاس پر قبضہ کرلیا لیکن ان  عیسائی حکمرانوں نے یہاں کےمسلمانوں کے ساتھ  خاص رواداری  کا سلوک کیا اور اندلس کے عیسائی درند وں کے خلاف اسلامی تہذیب کی سر پرستی   کی۔ یہاں کی برتر تہذیب نے عیسائی فاتحین کو بہت متاثر کیا۔عیسائیوں کے دور میں جزیرہ نما صقلیہ یعنی  سیسلی میں مسلمانوں نے جو شہری  نظام قائم کیا تھا۔ اس نے اہل یورپ کے لیے نمونہ کا کام کیا۔تھامس بابرن انگریزی اقتصادی نظام کا بانی قرار  دیا جا چکا ہے۔ اس نے یورپ کےمسلمانوں سے یہ نظام سیکھا تھا۔

یورپ اور مغربی دنیا میں مسلمانوں کے نظام  کی ترویج   میں صیلبی جنگوں کا بڑا ہاتھ  رہا ہے جب فلسطین میں یورپی عیسائیوں کا مسلمانوں کے ساتھ   براہ راست  واسطہ  پڑا  تو عیسائی علمائ کو محسوس ہوا  کہ زور اور  زبردستی  سے اس قوم کو مغلوب نہیں کیا جاسکتا، اس لیے انہوں نے پر امن طریقوں سے مسمانوں کے دل جتنا چاہا۔چنانچہ عیسائی مبلغوں کو عربوں کی زبان میں علوم و تہذیب سکھائے گئے۔ مبلغوں کی اس مخصوص تربیت کے لیےطلیطلہ میں ایک مرکز  قائم کیا گیا اور اس  طرح عرب ممالک کے مسلمانوں اور  یورپ کے عیسائیوں میں براہ راست تعلق  قائم ہوا۔ مسلمانوں کے ممتاز تر علمی  اور  تمد ن  کے کارناموں سے وہ متاثر ہوئے۔ اس زمانے  میں عیسائیوں  کی تحریروں  پر مسلمانوں کا اثر تھا  بلکہ اس  زمانے میں یورپ میں ہر پہلو پر مسلمانوں  کی  تہذیب کے ز یر اثر تھی۔

  جارج سارٹن۔جارج سارٹن لکھتا ہے کہ انسانیت کا مشن مسلمانوں کے ذریعے ہی مکمل ہوا۔ سب سے بڑا  فلسفی الفارابی مسلمان تھا۔ سب سے بڑا  اور عظیم ریاضی دان ابو الکاہل اور ابراہیم ابن سینا مسلمان تھے۔سب سے بڑا جغرافیہ دان المسعودی مسلمان تھا  اور سب سے بڑا مورخ الطیری بھی مسلمان تھا۔


About admin

Check Also

عباسی عہدخلافت میں اسلامی تہذیب

  عباسی عہد خلافت میں  کا  ابتدا ۔ بنی عباس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت  …

One comment

  1. I have been browsing online more than 3 hours today, yet I never
    found any interesting article like yours. It is pretty worth enough for me.
    In my opinion, if all webmasters and bloggers made good content as you
    did, the web will be much more useful than ever before. http://bing.org

Leave a Reply