فاطمی دور خلافت میں مصر کی تہذیب و تمدن


مصر کی تاریخ۔

مصر کی تاریخ تقریبا آٹھ  ہزار سال پرانی ہے۔ دریائے نیل کے کنارے مصری تہذیب و تمدن  نے صدیوں  کے عروج و زوال  دیکھے۔ اس سرزمین پر پانچ ہزار سال پہلے کے آثار بھی موجود ہیں۔ فراعنہ مصر نے یہاں پر ایسی عظیم یادگاریں تعمیر کیں جو آج تک صالم ہیں۔مصر میں رامیسں فرعون کی قبر اور اس کی حنوظ شدہ لاش احرام مصر میں اب تک موجود ہے۔ قدیم بابلہ، یونانی اور آشوری تہذیب کی طرح مصری تہذیب بھی اپنا ایک درخشان دور گزر چکی ہے۔ یہ تہذیبی دور مختلف حکومتوں اور ادوار  پر مشتمل ہے۔ فراعنہ مصر کے بعد پورے مصر پر مشہور زمانہ ملک قلوپطرہ کی حکومت تھی۔ جب یونانیوں نے قلوپطرہ کو شکست دی۔ تو ایک عرصے تک یہ سرزمین یونان کے زیر اثر رہی، پھر ایرانیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ ایرانیوں  کے قبضے کے بعد سکندر اعظم  نے اس کو اپنے قلمرو میں شامل کر لیا۔یہ سرزمین جب رومیوں کے قبضے سے چلی گئی، تو یہاں پر عیسائیوں کا غلبہ رہا۔ خلفائے راشدین کے دور میں جب اسلامی فتوحات کا دائرہ چیلا تو مصر اسلامی خلافت میں شامل ہو گیا۔خلفائے راشدین کے دور میں مصر کا حکمران گورنر ہوتا تھا جو خلیفہ وقت کے تابع ہوتا تھا۔

          مصر  کی تہذیب و ثقافت پر اسلامی تہذیب و ثقافت کا اثر۔

    مصر  کے باشندے  قبل از اسلام مختلف قسم کے عقائد رکھتے تھے۔ عیسائیوں کے قبضے کےباعث یہاں کے بیشتر  باشندے  عیسائی ہو گئے تھے۔ دریائے نیل کے کنارے ساحلی علاقے کافی سرسبز و شاداب تھے۔ دریائے نیل سے نہریں نکال کر آب رسانی کا ایک جال بچھایا گیا۔ پانی کی وافر مقدار کی بدولت یہاں پر مختلف قسم کی فصلیں کاشت کی گئیں۔ مسلمانوں کو اس سرزمین کا کافی زرمبادلہ ہاتھ آتا تھا جس دور میں عباسی خلفائ  بغداد میں حکومت کرتے تھے۔ شمالی افریقہ میں ایک نئی سلطنت  کی بنیاد رکھی گئی جو  تاریخ میں فاطمی خلافت کے نام سے مشہور ہے۔

           فاطمی خلفائ کا یہ دعوی تھا کہ چونکہ وہ حضرت فاطمہ ة زہرہ کے بطن سے ہیں اس لیے خلافت کے اصل وارث وہی ہیں۔ ابتدا میں شمالی افر یقہ کے شہر قیروان میں انکا قبضہ تھا، بعد میں انکی فتوحات کا دائرہ پھیل گیا اور بحیرہ  روم  کے کچھ جزائر شا م، مصر، لیبیا اور جزیرة سارڈینیا  پر انکا قبضہ ہو گیا۔انہوں نے مصر کے شہر قاہرہ کو اپنا دارالحلافہ بنا لیا۔ اس دور میں بغداد کا شہر  اپنی شان و شوکت اور  خوشحالی اور ترقی میں اپنی مثال آپ تھا لیکن فاطمی خلفائ نے بہت ہی کم عرصے میں قاہرہ کو  دنیائے اسلام کا ایک عظیم شہر اور عراق کے شہر بغداد  کے ہم پلہ بنا دیا۔

فاطمی خلفائ نے بہت ہی کم عرصے میں نہ صرف سیاست کے میدان  میں بلکہ علمی اور معاشی لحاظ سے بھی عباسیوں سے بازی لےگئے۔  فاطمیوں نے اپنے زیر اثر علاقوں کو معاشی اور علمی لحاظ سے اہم مقام بخشا۔

              فاطمی خلفائ  خود علم و ادب کے دلدادہ تھے  اور ان کے وزرائ بھی علم دوست  تھے، چنانچہ  بیشتر  علمی کاوش خود خلیفہ کی زیرنگرانی انجام پائی تھیں۔مصر  پر اسلامی تہذیب و تمدن کے عروج میں فاطمی خلیفہ عزیز بااﷲ کا  بڑا ہاتھ ہے۔ عزیز با اﷲ نے قاہرہ  شہر میں ایک  عظیم شاہی کتب خانے کی  بنیاد  رکھی۔ اس  وقت اس  کتب  خانے میں دو  لاکھ کے  قریب کتابیں موجود  تھے۔ ہر کتاب کے کئی نسخے موجود تھے ۔

  قرآن پاک کے دو  ہزار  چار سو 2400 قلمی  نسخے  موجود تھے  جن پر سونے اور  چاندی سے  کشیدہ کاری کی گئی تھی۔  تاریخ  طبرانی کا اصل نسخہ جو  مصنف کے ہاتھوں سے لکھا ہوا تھا۔ اسی شاہی کتب خانے میں موجود ہے۔ اس شاہی کتب خانے کا اپنا مہتمم تھا اور خلیفہ اس کی تر قی اور انتظام پر کافی رقم خرچ کرتا تھا.

       بیت الحکمت۔  فاطمی خلیفہ الحکیم اﷲنے بیت الحکمت کی بنیاد  رکھی، چونکہ فاطمی خلفائ اسماعیلی عقیدے کے پیروکار تھے، چنانچہ انہوں نے بیت الحکمت میں بیشتر  اسماعیلی عقائد کا پرچار کرنے والے رکھے تھے۔ اس بیت الحکمت میں علمی بحث ومباحثے ہوئے تھے۔ جن میں خود خلیفہ بھی حصہ لیتا تھا۔ اس  بیت الحکمت میں علم نجوم،منطق، فلسفہ ہیئت اور طب جیسے  علوم کی تدریس ہوتی تھی۔ دور دراز  علاقوں سے  علمائ اور  طالب علم اپنے  علم کی  پیاس  بجھانے کے  لئے یہاں کا  رخ کرتے تھے۔ بیت الحکمت گویا  ایک لحاظ سے تحقیقی ادارہ تھا، جس میں زیادہ تر  نظری علوم پر  بحث کی جاتی تھی۔ بعد میں جتنے  خلفائ آئے انہوں  نےیکے  بعد یگرے  شاہی  کتب خانے اور  بیت  الحکمت کی  ترقی اور  وسعت کی کاوشیں کیں ۔

فاطمی
فاطمی

            جا معتہ الازہر۔  مصر میں  فاطمی  خلفاء  کی ایک یادگار جامعتہ الازہر  ہے۔ اس  کی تعمیر فاطمی خلیفہ معزالدین باﷲنے شروع کی۔ اس ادارے کی تعمیر کا  مقصد بیش رفتہ علوم کی ترویج اور  تر قی تھا۔ فاطمی خلفاء نے علمی میدان میں تین اہم اور عظیم کارنامے انجام دئیے، جن میں ایک شاہی کتب خانے کا قیام تھا۔  اس کتب خانے کا  قیام عزیز باﷲ کے دور  میں عمل میں آیا اور مستنصر باﷲنے اس شاہی کتب خانے کو مز ید تر قی دی، اس میں چھ لاکھ کتب مو جود تھیں۔ دور دراز  علاقوں سے لوگ مطالعہ اور تحقیق کے لیے شاہی  کتب خانے کارخ کرتے تھے۔ یہ کتب خانہ اسلامی د نیا کے عجائبات میں شا مل ہے۔

         فاطمی خلفائ کی عظیم یادگار  جو اس  وقت تک صیحح اور صالم ہے، قاہرہ کی یونیورسٹی جامعہ الازہر ہے۔ جامعہ الازہر فن تعمیر   کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس یونیورسٹی میں  ریاضی، علم ہیت، فلسفہ اور الہیات  کا درس دیا جاتا تھا۔ اسماعیلی خلفائ کی دعوت کا مرکز بھی یہی جامعہ الازہر ہے۔ جامعہ الازہر میں جو اساتذہ  پڑھانے پر مامور تھے ان کو کثیر تنخوائیں دی جاتی تھیں تاکہ وہ دوسرے ممالک کارخ نہ کریں۔ دعوت کی خاطر اسماعیلی علمائ طالب علموں کو تاویلات منطق اور فلسفہ کا درس دیتے تھے۔ جا معہ الازہر  کے علاوہ فاطمیوں نے  قاہرہ کے بازاروں کو فن تعمیر کے لحاظ سے منفرد بنایا۔ فاطمی خلفائ کے دور میں کئی نامو ر سائنسدان اور دانشور بھی پیدا ہوئے جن میں ابن الھشیم جس نے کتاب المناظر تحریر کی، جو نظر اور روشنی کے متعلق ہے۔

            فاطمی خلفائ کے زوال کے بعد جب ترکوں نے مصر پر قبضہ کیا، تو انہوں نے شاہی کتب خانے کو لوٹ لیا۔کتب خانے سے کتابیں نکال کر گھروں میں جلاتے تھے۔ کتابوں کی جلدوں سے چمڑے نکال کر جوتے بناتے تھے۔ مصر کے ایک خاص مقام پر کتابوں کا انبار لگا ہواتھا،جو جنگ کے بعد شاہی کتب خانے سے لوٹی گئیں تھیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی  کے دور میں فاطمیوں کی علمی خدمات کے بعد کسی نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا ۔ فاطمی دور میں مصر کی خو شحالی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

1۔      زرعی پیداوار۔    فاطمیوں کے مقابلے میں عباسی خلفائ صرف زرعی اور تجارت سے ملکی خزانے بھرتے تھے جبکہ فاطمیوں نے کئی ذرائع بروئے کار لائے۔دریائے نیل کے کنارے زمینوں کو قابل کاشت بنا کراس ملکی پیداوار میں اضافہ کیا۔دریائے نیل کی سالانہ طغیانی کے باعث مصر کا بیشتر حصہ سیراب ہوتا تھا۔ زرعی پیداوار سے جو آمدن حاصل ہوتی تھی، اسکا بیشتر حصہ علمی خدمات پر صرف ہوتا تھا۔

2۔              مصر کی بندرگاہیں۔  مصر کی سب سے قدیم اور عظیم بندرگاہ اسکندریہ ہے۔ یہ شہر جو دریا کے کنارے واقع ہے۔ ایک اعظیم  تجارتی مرکز کا درجہ رکھتا تھا۔فرانس، اٹلی اور روم کے تجارتی بیٹے اس بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے تھے۔ ہندوستان کا مال و تجارت اسی راستے سے یورپ منتقل ہوتا تھا۔ اس تجارت کی بدولت حکومت کو زیادہ آمدنی ہاتھ آتی تھی چنانچہ نامہ خسرو ایک جگہ لکھتے ہے کہ عالم اسلام کی تاریخ میں فاطمی دور کے علاوہ اس نے کہیں بھی اتنی خوشحالی اور مال و دولت نہیں دیکھی۔دولت کے لحاظ سے مصری باشندے  خوشحالی اور تابندہ دور سے گزر رہے تھے۔ فاطمی خلفائ کی خدمات کے اثرات اب تک مصر سے  کے سما ج پر مر تب ہیں ۔


About admin

Check Also

عباسی عہدخلافت میں اسلامی تہذیب

  عباسی عہد خلافت میں  کا  ابتدا ۔ بنی عباس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت  …

Leave a Reply