مسلمانوں کے زوال کے اسبا ب


مسلمانوں میں قیادت  کا فقدان۔ 

عباسی خلفائ  کے بعد 1256 ئ  میں  جب  منگو لیوں نے عباسی  خلافت کا چراغ  گل  کیا  تو  اس کے  ساتھ  مسلمان  افراتقری کا  شکار  ہوئے۔  ایک باصلاحیت اوراعلی کردار  کی قیادت کی عدم موجودگی کی وجہ سےمسلمان خود  مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔عظیم اسلامی ریاست  چھوٹے  چھوٹے صوبوں، ریاستوں اور شہروں میں بٹ گئی۔منگولوں کی قتل و غارت کے بعد اسلامی دنیا پر ایک سناٹا  طاری رہا۔مسلمان  دانشور اور علمائ  اس قتل و غارت کے  بعد  یہ تباہی  دیکھ  کر گوشہ نشین ہوگئے۔اس  دوران اکثر لوگ  تصوف  کی  طرف مائل  ہو  گئے۔ چنانچہ  تصوف   نے  بھی مسلمانوں  کی تنہائی پسندی کی زند گی سے گریز  میں اہم کردار  ادا  کیا۔اسلامی دنیا کے اکثر علاقے طوائف الملوکی کا شکار  ہوگئے۔ اسکے بعد مختلف اسلامی علاقوں پر غیرمسلموں کا  قبضہ شروع  رہا ۔ مسلمانوں  میں اسلام  کی حقیقی  روح ناپید  ہو چکی تھی۔

zawal2

            غیرمسلم علاقوں میں اسلامی روح  کی کمی۔  بنوامیہ دور  میں خلفائ ہمیشہ اس  کوشش  میں رہے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں  کو  اپنے زیرنگیں لائیں۔ اس ذوق ملک گیری نے ان فتوحات کا جذبہ ابھارہ۔وہ  ایک وسیع  و عریض علاقے  کو  اپنے  زیرتسلط  لے آئے لیکن ان علاقوں کے نومسلم اسلامی معاشرے میں اسلام کی  حقیقی روح جاگزین نہ تھی۔ اکثر  مسلمان اعلی اسلامی تعلیمات سے بے بہر ہ تھے۔جنوب مغربی یورپ کے علاقےبزور شمشیر  مسلمان ہوئے۔ وہاں کے لوگ اخلاقیات اور اسلامی اصولوں کو زیادہ درخود اعتنائ نہیں سمجھتے  تھے۔  چنانچہ جب ان پر اسلامی حدود و قیود   کی گرفت سخت ہو گئی تو  ان لوگوں نے بھی آہستہ آہستہ مقامی  روایات اور رسم  و  رواج  اپنایا ۔

             علم و فن سے دوری۔   اسلامی معاشرے میں علم و فن سےدوری کے سبب مسلمان اپنے اسلاف  کی تعلیمات اور علوم و فنون  کو  آگے نہ بڑھاسکے۔جس کی وجہ سے وہ زمانے  کی تیزرفتاری اور ترقی کا مقابلہ نہ کر  سکے اور  دوسری غیرمسلم اقوام ان سے بازی لے گئ۔

            خانہ جنگی اور اندرونی اختلافات۔  مسلمانوں میں ہوس اقتدار  کی  وجہ سے اندرونی خانہ جنگی شروع ہو گئ۔ نظریاتی  اختلافات اور گروہی عقائد نے مسلمانوں کو  کئی گروہوں اور مسلکوں میں تقسیم  کر دیا، یہ لوگ حضور  کے بتائے ہوئے طریقے کی بجائے  فروعی اختلافات میں الجھ گئے اور  اپنے  رہبروں  کی بات  مان کر الگ الگ ٹولیوں  میں تقسیم ہو گئے۔

مسلمانوں
مسلمانوں

عیش پسندی۔مسلمان ایک عر صے تک تجارت کے فروغ اور اقتصادی خوشحالی کے باعث کافی خود کفیل تھے۔ زند گی کے تمام و سائل اور لوازمات انکو میسر تھے۔ سہولتوں نے مسلمانوں میں کاہلی اور سستی کو تقویت دی اور مسلمان آرام و سکون سے زندگی گزار نے کے دلدادہ ہو گئے ۔ نہ صرف عوام الناس بلکہ حکمران طبقہ بھی تن آسان ہوگئے۔اسلام کے ابتدائی دور میں خلفائ نے سادگی سے حکومت کی اور  اس کے برعکس حکمر انو ں نے غیر اسلامی حکمرانوں کی تقلید کرکے شاہی محل تعمیر کیے اور درباروں میں غیر اسلامی اعمال انجام دئیے  اور  اسلامی معاشرے کو تر قی دینے کے بجائے اپنی تجوریاں بھر نے لگے۔  اس کا نقصان یہ ہوا کہ شاہی خزانے امیر  سے امیرتر اور عوام غریب سے غریب تر ہونے لگے۔مسلمانوں میں احساس محرومی  پیدا ہوا اور اخلاق با ختگی کا دور شروع ہوا۔ ان کےمقابلے میں مغربی اقوام نےعلم و صنعت میں کافی ترقی کی  اورمسلمانوں کی ہی بنائی ہوئیں چیزیں خرید  کر خود  ان چیزوں پر دسترس حاصل کرنے لگے۔

            معرکوں میں ناکامی۔  اسلامی دنیا کو تین عظیم معرکوں نے زیادہ نقصان پہنچایا۔ سپین پر مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی۔ وہاں پر مسلمانوں نے ایک شاندار تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی تھی۔ وہاں پر عیسایوں کا قبضہ ہوا اس طرح مسلمان ایک عظیم علمی اور تہذیبی مرکز سے مرحوم ہو گئے۔ صلیبی جنگوں کے دوران مشرق  وسطی اور ایشیائی کوچک کے علاقوں میں عیسایوں کے داخل ہونے سے جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جو  صلیبی جنگوں کے نام سے موسوم ہے۔  ان صلیبی جنگوں میں کثیر تعداد میں مسلمان شہید ہوئے۔ مسلم علاقوں  پر عیسایوں کا قبضہ ہوا۔ ان علاقوں پر اسلامی دنیا کے عظیم تمدنی آثار موجود تھے۔  تیسری بات یہ ہے کہ منگولوں کی بےایمان یلغار کے باعث مسلمانوں کی مرکزی قیادت بے بس ہوگئ اور ہلاکوخان کے حملوں کے باعث اسلامی دنیا کا عظیم تمدن و قیادت کا گہوارہ یعنی بغداد بھی تباہ ہوا۔ ان جنگوں کے بعد اسلامی معاشرے میں افرا تفری اور بے زاری پیدا ہوئی۔

            جدید علوم و فنون اور ٹیکنالوجی سے بے خبری۔

اسلامی دنیا کے مقابلے میں یورپی اقوام نے صنعت و حرفت کی طرف زیادہ توجہ دی۔  مغربی اقوام خام مال اسلامی ممالک سے حاصل کر کے اپنی مصنوعات مسلمانوں پر بھاری قیمت کے عوض بیچتے تھے۔ مسلمان جدید   علوم و فنون اور ٹیکنالوجی سے بےخبر ہوتے گئے۔  وسائل کی کمی کی وجہ سے معاشرے میں غربت و افلاس اور تنگدستی کا دور شروع ہوا۔یورپی اقوام ان علوم میں مسلمانوں سے کافی آگے بڑھ گئ۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …

Leave a Reply