Home / Persian Poets / فارسی شاعر اور شاہنامہ کا خالق ابو القاسم فردوسی فردوسی کی حالات زندگی

فارسی شاعر اور شاہنامہ کا خالق ابو القاسم فردوسی فردوسی کی حالات زندگی


ferdosi

فارسی  شاعر  اور  شاہنامہ  کا  خالق  ابو  القاسم  فردوسی فردوسی  کی  حالات  زندگی 

                        عام بیان۔    یوں تو دربار غزنی میں چارسو شعراء موجود تھے لیکن جو شہرت وعظمت اُن میں سے شاہنامہ کے خالق فردوسی کے حصے میں آئی ہے وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوئی ہے۔ فردوسی ایران کی تاریخ اور داستان کو زندہ کرنے والا اور فارسی زبان میں نئی جان ڈالنے  والا  ایران  کا  سب سے  بڑا  شاعر ہے۔  علم شعر  تاریخ اور اخلاق کے اعتبار سے فردوسی عہد غزنویہ کی تمام ادبیات کا محور نظر آتا ہے،اس لئے اس کو  اگرفردوسی عہد کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔

                فردوسی کی حالات زندگی۔اُس کا شاعر انہ لقب فردوسی اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ اس کے تخلص اور کنیت پر کسی محقق کو اختلاف نہیں لیکن اس کے نام اور اس والد کے نام پر تذکرہ نویسوں میں اختلاف ہے. فردوسی علاقہ طوس میں طاہران کے قریب ایک گاؤں ریگبار میں پیدا ہوئے ۔وہاں ان کے آباؤ اجداد کھیتی باڑی کرتے تھے لیکن تیموری شہزادہ بایسنفر مرزا نے جو شاہنامہ کا مقدمہ لکھا ہے، اُس میں فردوسی کے گاؤں کا نام  شاداب رقم کیا ہے۔بہر حال یہ مسلم ہے کہ فردوسی طوس کے علاقے کا رہنے والا تھا۔ یہ وہی مردم خیز خطہ ہے جس نے امام غزالی جیسے محقق طوسی اور نظام الملک جیسے نامور عالم پیدا کیے۔فردوسی کی تاریخ پیدائش نہ تو روایتوں کے  ذریعے اور نہ ہی شاہنامہ کے زریعے سے پتہ چل سکی لیکن یہ بات ختمی طور پر کہی جاتی ہے کہ شاہنامہ 1009 عیسوی میں مکمل ہوا کیونکہ خود فردوسی کی شہادت اس سلسلے میں موجود ہے۔

ز ہجرت شدہ پنج ہشتاد بار                کہ من گفتم این نامہ نا مدار

                        شاہنامہ  لکھنے  کے  محرکات۔  شاہنامے کے بعد اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ فردوسی شروع شروع میں طوس میں کھیتی باڑی کا کام کر تا تھا ۔  اُسے ہر طرح کی اسائشیں حاصل تھی، جوانی بھی اس نے راحت اور آرام میں بسر کی۔ وہ طاہران  کے ایک باغ میں رہتا تھا جہاں اس کے دوست اس کے پاس آتے جاتے تھے اور وہ بہت اطمینان سے زندگی گزارتا تھا۔ اس دوران وہ شاہنامے کےلکھنے میں مصروف تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی۔ خیال تھا کہ شاہنامے کا کچھ صلہ ملے تو وہ اس سے بیٹی کا جہیز تیار کرے گا۔ بالا آخر شاہنامہ مکمل ہوگیا، اس کی تیاری میں اس نے کوئی کسر اٹھانہ رکھی ۔

                        شاہنامہ  کی  تکمیل۔  نظام غروضی سے  پتہ چلتا ہے کہ فردوسی نے خود ہی شاہنامہ لکھنا شرووع کیا تھا۔ فردوسی کے اشعار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب شاہنا مہ مکمل ہوگیا تو پیری اور ناتوانی نے اس کو  گھیر  لیا  تھا،  خوشحالی کی جگہ افلاس  نے لے لی تھی۔اسی اثنائ میں ایک دوست نے مشورہ دیا کہ شاہنامے کو کسی بادشاہ کے حضور میں پیش کیا جائے۔چنانچہ فردوسی نے سلطان محمود کی شان میں قصیدہ لکھ کر اس شاہنامے میں شامل کیا اور دربار غزنی میں رسائی حاصل کی۔ فردوسی کچھ مدت تک دربار غزنی میں شاہنامہ سنا کر داد و تحسین حاصل کرتا رہا لیکن جب انعام واکرام کا وقت آگیا تو دربار  میں حسدکرنے  والوں نے بد گوئی کی جس کیوجہ سے بادشاہ بددل ہوگیا اور فردوسی کو توقع کے خلاف ساٹھ ہزار اشرفیوں کے بجائے بیس ہزار درھم ملے۔

                        انعام پر فردوسی  کا  رد  عمل۔    نظامی عروضی لکھتے ہیں کہ فردوسی باردشاہ اس سلوک  سے افسردہ ہوا، غسل کرنے کیلئے ایک حمام میں گیا، غسل سے فارغ ہو  کر باہر آیا، عطار سے ایک گلاس شربت پیا اور بادشاہ کا انعام حمامی اور عطار میں تقسیم کر کے دربار غزنی سے نکل گیا ۔

                        مایوسی  کے  اسباب۔    انعام واکرام کے سلسلے میں فردوسی کی محرومی کے کئی اسباب بیان کیے گیے ہیں جن  مین  سے  چند  مندرجہ  ذیل  ہیں۔

ا۔           فردوسی شیعہ اور محمود سنی تھا لیکن یہ وجہ کچھ معقول نہیں کیونکہ کئی ہندو، عیسائی ، اور یہودی بھی دربار محمود میں موجود تھے ۔

ب۔         فردوسی نے اپنے ایک کلام میں حاسدوں کی بدگوئی کی طرف اشارہ کیاہے ۔

ج۔            شاہنامے میں حسب و نسب کو بہت اہمیت دی گئی ہے لیکن چونکہ محمود کسی عالی نسب و  خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا اس لیے حسب و نسب کی فضیلت کا ذکر  اُسے اساس کمتری کا احساس دلاتا تھا۔

د۔                ایک بڑی وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ محمود کی نظروں میں شاہنامہ کی زیادہ اہمیت نہ تھی کیونکہ اس میں ایران کے قدیم جلیل القدر بادشاہوں کا ذکر تھا۔

ذ۔                شاہ نامہ پیش کرتے وقت دربار میں فردوسی کا کوئی حامی وزیر نہ تھا۔ بحر حال وجہ کوئی بھی ہو فردوسی کو اس بے مثال کارنامے کا کچھ صلہ نہیں ملا اور محمود کے دامن پر نا انصافی کا اتنا بڑا دھبہ لگ گیا  جو شاید ہمیشہ قائم رہے گا۔

                        تلافی۔  تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ ایک دفعہ محمود ہندوستان کی مہم سے واپس آرہا تھا اور راستے میں کوئی  ہندوستانی راجہ کا قلعہ تھا، محمود نے راجہ کو پیغام بھیجا کہ حاضر ہوکر اطاعت بجا لائے۔ راجہ کے جواب میں دیر ہوئی تو محمود نے اپنے وزیر حسن مہمندی سے کہا اگر جواب ہماری منشائ کے مظابق نہ ہوا تو حسن مہمندی نے بے ساختہ طور پر کہا ۔

اگر خیز  بکام من آید جواب      ہمیں گر زو میدان افرا سیاب

                        شعر  سننے  پر  ‏محمود  کا  رد  عمل۔    محمود نے سنا تو پوچھا کہ یہ شعر کس کا ہے اس میں شجاعت اور مردانگی نظر آتی ہے۔ حسن نے جواب  دیا  کہ  یہ شعر  اُس بد نصیب کا ہے جس  نے پچیس سال محنت کرکے شاہنا مہ لکھا لیکن دربار غزنویہ سے محروم و نا مراد لوٹا ۔ محمود نادم ہوا اور کہا کہ غزنی پہنچ کر مجھے یاد کرانا ۔حسن مہمندی نے غزنی پہنچ کر محمود کو یاد دلایا اور ساٹھ ہزار اشرفیاں فردوسی کو بھجوادی گئی لیکن جب اُس کے شہر میں انعام ایک دروازے سے داخل ہوا تو دوسرے دروازے سے فردوسی کا جنازہ شہر سے باہر نکل رہا تھا۔ بالا آخر محمود کا یہ انعام فردوسی کی بیٹی کو پیش کیا گیا لیکن اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ محمود نے حکم دیا کہ اس رقم سے فردوسی کے نام پر کاروان سرائے بنادی جائے۔بعض تذکرہ نویسوں کے  بیان کے مطابق فردوسی کی وفات 1040ئ میں ہوئی۔

                        فردوسی کی وطن پرستی۔  فردوسی محب وطن شاعر تھے، ایران کی سرزمین سے اُسےبے پناہ عقیدت اور محبت تھی۔ وہ  ایران کے لئے ہر  چیز  قربان  کرنا  چاہتا تھا،  اس کا مقام دربار  غزنویہ  کے  دوسرے  شعراء سے مختلف ہے۔  اگر چہ دوسرے  شعراء  ایرانی  النسل  تھے اور  شاعر  بھی  تھے  لیکن  ان  کی  شاعری  دربار محمود  تک محدود تھی  جب  کہ اس کے برعکس فردوسی کی نظر میں نہ تو محمود تھا، نہ غزنی اور نہ ہی ہندوستان، بلکہ اُس کے پیش نظر صرف ایران تھا۔ اس نے جو کچھ لکھا ایران کے عشق میں سرشار ہوکر لکھا۔ اس کو اپنے بزرگوں کی سرزمین سے انتہا درجے کا عشق ہے۔ جہاں کہیں بھی ایران کے  کسی شکست کا ذکر آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ زخم خوردہ دل کی صدائیں ہیں جو مجسم ہو کر شعر بن گئی ہیں۔

دریغ است ایران کہ ویران شود                کنام پلنگان و شیران شود

ھمہ جا ی جنگی سواران بدی                        نشتنگہ شد پاران   بدی

کنون جای شخصی وجای بلاست             نشتنگہ تیز چنگ اژدھا ست

                        عربوں کے ایران پر حملے کا ذکر کرتا ہے تو اس قت فردوس کے رگ و پے سے نفرت کے فوارے گرتے نظرآتے ہیں۔

ز شیر شتر و خوردن و سو سمار                                 عرب را   بجای رسید است کار

کہ تاج کیان را کنند آرزو                                      تقدیر تو اے چرخ گردوں تغو


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply