غزنوی دور کا نثر کشف المحجوب ﴿داتا گنج بخش﴾


(غزنوی دور کا نثر    کشف المحجوب  (داتا گنج بخش

                   عام  بیان۔      لاہور پر غزنویوں کی حکومت ڈیڑھ سو سال سے ذیادہ عرصے تک رہی۔ اس زمانے میں یہاں فارسی ادب کا رواج ہوا۔ بہت سے فارسی شعرا کے نام ملتے ہیں جن کا تعلق اس دور سے تھا۔ علمائ بھی یہاں آئے اس کے باوجود بھی اس دور کی فارسی نثر کا ذیادہ سرمایہ ہم تک نہیں پہنچا۔ اس دور کے اہم ترین نثر نگار حضرت داتا گنج بخش نظر آتے ہیں جن کی مشہور کتاب کشف المحجوب ہے ۔ حضرت داتا گنج بخش کی کتاب کشف المحجوب کا احاطہ مندرجہ ذیل میں کیا گیا ہے۔

ا۔                   داتا گنج بخش کا تعارف

ب۔           لاہور آنے کا مقصد

ج۔              تنصیفات

د۔                  داتا گنج بخش کی علمی بصیرت

ذ۔                  گنج بخش کا لقب

ر۔                  کشف المحجوب

ز۔           کتاب کے مندرجات

س۔       زیور تصوف

ش۔       کتاب کے اقتباسات

                 داتا گنج بخش کا تعارف۔      حضرت داتا گنج بخش کا نام سید علی کنیت ابوالحسن اور لقب گنج بخش تھا۔ آپ کا خاندان ہجویر میں رہتا تھا جو غزنی سے بہت قریب ہونے کی وجہ سے اس کا ایک محلہ سمجھا جاتا تھا۔ غزنی افغانستان کا ایک مشہور شہر ہے، آپ کی پیدائش غالبا وہیں ہوئی۔ اس کے بعد آپ کا خاندان حلاب آگیا۔یہ قصبہ غزنی سے ہجویر کی  نسبت ذیادہ قریب ہے یہی وجہ کہ ان کو علمی ہجویری یا حلابی کہتے ہیں۔ آپ کے والد کا نام بھی عثمان حلابی مشہور ہے۔ آپ حسنی سید ہیں ۔

کشف المحجوب
کشف المحجوب

                 لاہور آنے کا مقصد۔    آپ 430ھ کے  لگ بھگ تبلیغی مقصد کے لیئے لاہور تشریف لائے۔ ان سے پہلے سید اسماعیل بخاری یہاں دعوت اسلام دے چکے تھے۔ غزنویوں کے مسلسل حملوں کی وجہ سے ہندو مسلمانوں سے متنفر ہوچکے تھے۔ ان پر مسلمانوں کی قوت کا رعب تو بیٹھ چکا تھا لیکن ان کے دل میں اسلام سے دشمنی کے جذبات  بھرے  ہوئے  تھے۔ داتا  صاحب نے ان کٹھن حالات میں اپنا  مشن بڑی خوبی سے پیش کیا۔   465 ئ کے صفر کی انیسویں  تاریخ کو آپ کا وصال لاہور میں ہوا ۔

                 تصنیفات۔        آپ نے منہاج الدین، کشف الاسرار، کشف المحجوب اور دیوان علی تصنیف فرمائے جن میں سے منہاج الدین اور دیوان علی تو کہیں نہیں ملتے، البتہ کشف المحجوب اور کشف الاسرار موجود ہیں۔

                داتا گنج بخش کی علمی بصیرت۔    حضرت  داتا گنج بخش رحمتہ اﷲ علیہ کی معلومات  دین اور خیالات تصوف اس قدر بلند پایہ ہیں کہ جب آپ نے لاہور کی اقامت اختیار فرمائی تو محمود غزنوی کی طرف سے ظاہری حاکمان لاہور اور ملتان کو ہدایت دی گئی کہ وہ اہم معاملات سلطنت میں آپ کی ہدایت کے مطابق کار فرماہوں۔

                 گنج بخش کا لقب۔     ارباب تصوف کا اعتقاد ہے کہ ہر ایک ملک اور قصبہ کا جس طرح حاکم ظاہری ہوا کرتا ہےویسا  ہی  ایک  حاکم باطنی بھی ہوتا ہے، جس کو قطب کہا جاتا ہے۔ چنانچہ جب خواجہ معین الدین چشتی کو دربار رسالت  سے ہندوستان کی ولایت حاصل ہوئی تو حکم ہوا کہ پہلے جاکر سیدعلی ہجویری کے روضہ مبارک پر اعتکاف کرنا اور ان سے فیض حاصل کرکے راجپوتانہ  کے صحرا میں جاکر اسلامی جھنڈا نصب کرنا۔ چنانچہ آپ خشکی کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے اور لاہور پہنچ کر ایک کوٹھڑی میں چالیس دن تک معتکف رہے اور جب یہ چلہ کاٹنے کے بعد آپ باہر نکلے توبے ساختہ منہ سے نکلا۔

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

ناقصاں را پیر کامل ،کاملاں را راہنما

                عام لوگ خیال کرتے ہیں کہ گنج بخش کا خطاب اس شعر سے شروع ہوا حلانکہ آپ نے اپنی تصنیف کشف الاسرار میں لکھا ہے۔ اے علی تجھے خلقت گنج بخش کہتی ہے اور تو ایک دانہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتا اس بات کا خیال ﴿مخلوق تجھے گنج بخش کہتی ہے﴾ ہر گز دل میں نہ لاو ورنہ محض دعوی اور غرور ہوگا ۔گنج بخش یعنی خزانہ بخشنے پر قادر تو وہی  پاک ذات ہے اس کے ساتھ شریک نہ کرنا ورنہ تیری زندگی تباہ ہوجائے گی۔بے شک وہ اکیلا خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس وقت کے عوام  بھی آپ کو اسی لقب سے یاد کرتے تھے اور آپ کے فیوض و برکات اور دینی اور دنیوی کرامات نے پورے پنجاب کو فیض یاب کیا اور ان کی اس روحانی سخاوت کے نتیجے میں دنیا انہیں داتا گنج بخش کے لقب سے یاد کرتی ہے۔

                کشف المحجوب.     کشف المحجوب فارسی زبان میں تصوف کے موضوع پر لکھی جانے والی ایک قدیم اور اہم کتاب ہے۔ غزنی کے ایک بزرگ ابو سعید غزنوی داتاصاحب کے ساتھ تشریف لائے تھے انہوں نے آپ سے تصوف اور صوفیائ  کے بارے میں چند سوالات پوچھے تھے، داتا صاحب نے یہ کتاب انہی سوالات کے جواب میں لکھی۔ اس میں حقیقت پر سے پردے اٹھائے گئے ہیں اس لیئے اس کا نام کشف المحجوب رکھا گیا ہے۔

                 کتاب کے مندرجات۔    شیخ علی ہجویری کا جو مقام بزرگان ہند میں ہے اس سے عالم واقف ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں تصوف کے وہ مقامات سمجھائے ہیں اور راہ سلوک کی منزلوں اور طریقت کے معارف وحقائق کی وہ گرہ کشائی کی ہے جو ان سے پہلے تصوف کی کسی کتاب میں نہیں تھی۔یہ کتاب پڑھ کر انسان کے دل پر محبت الہی کا فیضان اور اسرار خدا وندی کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ کتاب اس پیرائے میں لکھی ہے کہ دل و دماغ وجد کرتے ہیں اور روح پر کیف طاری ہوجاتی ہے۔

                زیور تصوف۔    تصوف  کی اصل حقیقت اس کتاب کو پڑھ کر معلوم ہوسکتی ہے۔ 9سو سال سے تمام خانقاہوں میں اس عظیم الشان کتاب کو زیور تصوف کا درجہ حاصل ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں ہونے کے باعث عوام کی دسترس سے باہر تھی۔ اب نہایت سادہ اور عام فہیم ترجمے کے ساتھ ناظرین کے لیئے شائع کی گئی ہے۔

                 کتاب کے اقتباسات۔    یہ کتاب 134 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں تصوف کی مبادیات، دوسرے حصے میں صوفیائےکرام کے احوال اور تیسرے حصے میں تصوف کے مسائل اور اصطلاحات صوفیہ کا بیان ہے۔ دوسرے حصے میں تقریبا 130 صوفیائ کے حالات لکھے گئے ہیں۔ داتا صاحب نے یہ بلند پایہ کتاب بڑے عالمانہ انداز میں لکھی ہے۔کسی موضوع پر لکھنے سے پہلے آیات قرآنی، پھر احادیث  رسول  اور  آخر میں اقوال بزرگان لائے ہیں۔ انہوں نے ہر مسئلے پر تفصیلی بحث کی ہے جہاں بھی انہیں دوسروں کے ساتھ اختلاف ہے وہاں انہوں نے کھول کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ اوقاف نے کشف المحجوب کے ایک قدیم ترین نسخے کو بڑے اہتمام سے 1948ئ میں شائع کرایا ہے اور ایک نسخہ ژوکو فسکی کی نگرانی میں روس سے شائع ہوا۔پروفیسر نکلسن نے اس کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا۔ اس کتاب کا طرز  تحریر مجموعی طور  پر سادہ ہے لیکن تصوف کے موضوع کی وجہ سے اس میں عربی کے الفاظ کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔ اس میں کہیں کہیں جملوں میں  موزونیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ موزونیت صوفیانہ کتب کی ایک اہم خصوصیت ہے۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply