غزنوی دور کا شاعر ابولقاسم حسن ابن احمد عنصری کی حالات زندگی


غزنوی دور کا  شاعر ابولقاسم حسن ابن احمد عنصری کی حالات زندگی

                        عام بیان۔    سلطان محمود کو ادبیات فارسی سے بہت لگاو تھا. وہ علما اور شعرا کی دادو دہش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتا تھا اس لئے دربار غزنی علم وفضل کا دربار کہا جاتا تھا۔ یہاں پر چار سو شعرائ جمع تھے ان میں سے ایک  کا  نام  عنصری  تھا۔ 

ابتدائی  حالات۔    ابولقاسم حسن ابن احمد عنصری 961ئ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا وطن بلخ تھا اور آپ کا والد پیشے  کے  اعتبار سے تاجر تھا۔ آپ نے خود بھی وہی پیشہ اختیار کیا لیکن ایک سفر میں چوروں نے اس کا سارا ساما ن لوٹ لیا اس نقصان کے بعد وہ علم و ادب کی طرف مائل ہوگیا۔ اس
کو شعر گوئی کا فطری ذوق تھا اس لیے دوران تعلیم ہی شعر کہنے لگا اوراس میں بہت شہرت پائی۔

islmic

                        عملی  زندگی۔  عنصری نے اپنے ایک ممدوح امر نصر کے توسط سے سلطان محمود غزنوی کے دربا ر تک رسائی حاصل کی۔ سلطان محمود کے دربار میں پیش ہونے کے بعد روز بروز عنصری کو سلطان کا زیادہ تقریب حاصل ہوگیا تھا یہاں تک کہ ملک الشعرائ کا لقب پایا۔  سلطان نے لطف و  کرم کے ساتھ ساتھ اس کو  انعامات  سے بھی  خوب نوازا ۔  دربار کے تمام شعرائ اس کا احترام لازم سمجھتے تھے۔ اسی طرح دربار میں اُس کا مرتبہ اور بھی بڑھتا گیا۔ وہ رودکی طرح بڑے جلال کی زندگی بسر کرنے لگا تھا، چنانچہ حقانی نے   اُ س  کے  بارے  میں  کہا ہے  کہ

شنیدم کہ نقرہ زد دیگ دان        ز  زر ساحت آلات خو  ان عنصری

                        عنصری  کی  شاعری۔  آپ کے اشعار کا بہترین حصہ اُس کے قصائد ہیں۔ عنصری پر جو انعام و اکرام کی بارش ہوتی تھی، ان کا اکثر تذکروں میں ذکر آیا ہے۔ ہنددوستان کی ایک فتح پر عنصری نے دس اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ لکھا اور کہا جاتا  ہے  کہ  اس کے صلے میں اس کو سو تھیلیاں  اشرفیوں کی اور دس غلام عطاء ہوئے۔ عنصری کے مال و دولت کا یہ  عا لم تھا کہ اس کے ہاں چاندی کے دیگچوں میں  کھانا پکتا اور سونے کے برتنون میں کھایا جاتا  تھا۔

شنیدم کہ نقرہ زد دیگ دان        ز  زر ساحت آلات خو  ان عنصری

                        ہم عصر شعرائ۔   تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ محمود کے دربار میں چار سو سات شاعر  جمع تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام عنصریalts کے ہم عصر تھے، ان میں خاص   طور پر قابل ذکر  فردوسی ،فرخی،عسجدی ، زینتی علوی ، منو چہری افغانی اور رازی ہیں۔ یہ سب شعرائ عنصری کے اخلاق کی بلندی اور علم و فضل کی برتری کی وجہ سے اس کے دل سے مدح خوان تھے۔

عنصری  کے  مدوحین۔  آپ کے  زیادہ  تر اشغارسلطان محمود  غزنوی،  اُس  کے  بھائی  میر  نصر  سلطان،  بیٹے سلطان مسعود اور بھا ئی امیر یوسف کی مدح میں لکھےگیے ہیں۔ ان قصیدوں میں اپنے ممدوحون کے اوصاف، اُن کی  فتوحات اور کارنامون کو نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اکثر قصیدوں میں آپ نے داد سخن دل ہے اور نہایت دقیق معانی کو بہترین روان انداز اور محکم بندش میں ادا کیا ہے۔ اس کی طرز ادا نہا یت دلکش ہے اور قطعی طور پر چوٹی کے قصیدہ گو شاعروں میں رودکی کے سوا اس کا ہم پلہ شاعر پیدا نہیں ہوا ہے۔ رودکی فضل  و کمال میں آپ سے بڑھ کر تھا۔ اس کے فضل اور برتری کا عنصری نے خود اغتراف کیا ہے ۔

غزل رودکی وار نکو بود        غزلہائی من رود کی وار نیست


About admin

Check Also

کیمیائے سعادت

شاہنامے فردوسی کا تاریخی پس منظر

  شاہنامے فردوسی کی تاریخی اہمیت۔     شاہنامہ فردوسی ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ اس …