غزنوی دور میں فارسی اد ب کا دور


غزنوی  دور  میں فارسی  اد ب کا دور

                        سبکتگین ۔ سبکتگین کی سلطنت میں غزنی اور خراسان کے علاقے شامل تھے جب سبکتگین نے غزنی کی حکومت سنبھالی اور ساما نیوں سے آزاد ہوکر غزنو یہ کی بنیاد رکھی تو اُس نے ملک کے حدود کو وسیع کرنے کے لئے ہندوستان کا رخ کیا اور راجہ جے پال کو شکست دے کر پشاور پر قابض ہوگیا۔ اس سے غزنوی سلطنت پشاور سے خراسان تک پھیل گئی ۔

                        سلطان محمود غزنوی۔سبکتگین کے بعد سلطان محمود غزنوی تخت نشین ہوا۔ یہ وہ جلیل القدر  بادشاہ تھا جس کے نام کا ڈنکا دور دور تک بجتا رہا، سلطان محمود غزنوی نے حکومت سنبھالی تو آل سامان کی حکومت ایل خان کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی، صفاریہ خاندان  کا نام بھی مٹا چاہتا تھا، اس سلطنت کا آخری دعویدار عمرولیث کا پوتا خلف بانو تھا جس نے محمود غزنوی کے ہاتھوں شکست کھائی اور حکومت صفاریہ کا خاتمہ ہوگیا۔سلطان محمود غزنوی مطمئن ہوکر غزنی واپس آ  گیا۔ چند ہی سال گزرے تھے کہ محمود غزنوی نے بخارا اور سمر قند  کے علاقے بھی فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کرلیئے، اب محمود غزنوی ایران کی مہم سے فارغ ہوکر غزنی واپس چلا گیا جہاں اس نے 1030ئ میں وفات پائی۔عہد غزنویہ کا  دور سبکتگین سے شروع ہوا، محمود غزنوی کے زمانہ میں اسے عروج حاصل ہوا اور محمود کے جانشین مسعود کے زمانے میں عہد غزنویہ کا ایران میں خاتمہ ہوگیا ۔

                        عہد غزنویہ میں فارسی علم وادب۔عہد غزنویہ میں بھی عہد سامانیہ کی طرح علم وادب کو بہت ترقی ہوئی۔ یہ عہد اگرچہ کم مدت  کا تھا لیکن شعروسخن کی ترقی اور شعراءکی اہمیت کی وجہ سے ایران کا روشن ترین عہد سمجھا جاتا ہے۔ شعرو تاریخ کا زندہ جاوید کارنامہ یعنی شاہ نامہ فردوسی اسی عہد کی عظیم ترین یادگار ہے۔

                        محمود غزنوی کی علمی خدمات۔  سلطان محمود غزنوی خود  بھی ایک عالم شخص تھا۔ اس نے علم فقہ میں تغریدنی الفروغ  ایک کتاب تالیف کی جو دینی مسائل پر مشتمل ہے، محمود نے غزنی میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا جس کے ساتھ ایک عجائب خانہ بھی ملحقہ تھا، اس میں نادر کتابیں جمع کی گئی تھیں۔ محمود غزنوی کو ہندوستان کی فتوحات سے جوگراں بہا خزانے ہاتھ لگے انہیں وہ ترویج علم کے لئے بڑی فیاض سے خرچ کرتا تھا، یہی  وجہ ہے کہ علمائ اور شعرا خود بخود اس کے دربار میں کھینچے چلے آتے تھے ۔

                        محمود غزنوی اغواء کنندہ علمائ تھا۔پروفیسر براؤن محمود غزنوی کو اغوا کنندہ علمائ لکھتے ہیں، بہر حال اس میں شک نہیں کہ سلطان محمود غزنوی کو جہاں کہیں علماء کا پتہ چلتا انہیں اپنے دربار میں لانے کی کوشش کرتا تھا۔ خوار زم میں مامون  بن مامون کے دربار میں علمائ کا جمگھٹا رہتا تھا، محمود غزنوی نے  ان علمائ کی شہرت سنی تو اُس  نے اپنے دربار میں بلانا چاہا، ایلچی بھیج کر شہزادہ مامون سے خواہش کی کہ ان علمائ کو دربار غزنی میں بھیج دیا جائے، بظاہر تو یہ  خواہش تھی لیکن حقیقت میں حکم تھا۔  مامون نے ڈر کر ان علمائ کو اپنے دربار سے رخصت کردیا۔ ابوریحان البیرونی،  ابوالحسن خمار  اور ابو نصیر عراق نے جو محمود غزنوی کی داد و دہش کے فسانے سن چکے تھے غزنی کا رخ کیا۔ بوعلی سینا اور ابو سہیل مسیح غزنی آنے پر رضامند نہ تھے، یہ دونوں خوا رزم سے پیدل نکل پڑے۔راستے میں گرد غبار کا طوفان اٹھا Mahmood Ghaznaviجس سے ابو  سہیل مسیح ہلاک ہوگیا اور  بو  علی  سینا  روپوش  ہوئے،  جب سلطان محمود نے بوعلی سینا کے روپوش ہونے کی خبر سنی تو سخت برہم ہوا اور اس کی تصویر یں ایران کےطول وعرض میں بجھوادی  اور حکم دیا کہ جہاں کہیں بھی ہو اس کو غزنی بھجوادیا جائے ۔ قابوس نے بوعلی سینا  کو دربار غزنی بھیجنے کی بجائے اپنے ہاں بڑے احترام وعزت سے رکھا  اور وہاں وزارت کا عہدہ بھی ملا اور صبح کی نماز کے بعد عظیم فلسفانہ کتاب شفاء کے دو صفحے لکھا کرتا تھا۔

                        سلطان محمود غزنوی کی فارسی  ادب  کی  سرپرستی ۔ 

سلطان محمود غزنوی کی سرپرستی کی وجہ سے فارسی شاعری نے اس عہد میں بڑی ترقی کی۔ سلطان محمود غزنوی کے فرزند اور وزرائ بھی شاعری سے لگاؤ رکھتے تھے انہوں نے شعراء کی بہت قدر افزائی کی، سلطان محمود غزنوی کی زندگی جنگ وجہاد میں گزری، لوگوں کو اس مقصد کے لیئے ذہنی طور پر تیار کرنے کی ضرورت تھی اور سلطان محمود غزنوی کے شعراء نے اس فرض کو بخوبی انجام دیا ۔ محمود غزنوی اس وجہ سے بھی شعرا کی قدر کرتا تھا ۔

                        فارسی  شاعری  کا  سنہرا  دور۔    غزنوی عہد کو فارسی شاعری کا سنہرا عہد گنا جاسکتا ہے۔ شاہنامہ فردوسی  فارسی شاعری کا اتنا بڑا شاہکارہے کہ اس دور کو فردوسی کے نام سے منصوب کیا جاسکتا ہے۔ فردوسی نہ صرف ایران کا اولین بڑا شاعر ہے بلکہ اس نے ایران پر  عربوں کے حملہ آور فوجی آثار اور افکار پھیل جانے کے بعد شاہنامہ کو ازسر  نو  لکھنا شروع کیا اور اسے ختم بھی کیا۔ فردوسی نے اپنے شاہنامہ کے ذریعے پچھلی تاریخ کو زندہ کیا۔

                        شعراء  کی  شہرت  کا  زمانہ۔    غزنوی دور کی عظمت کا زمانہ فردوسی کی شہرت کا زمانہ ہے، اس دور میں بڑے بڑے شاعر پیدا ہوئے لیکن قومی ادبیات کے لحاظ سے فردوسی اس دور کی اہم شخصیت شمار  کیا جاتا ہے ، جزئیات نگاری شاہنامہ فردوسی کی ایک اہم خصوصیت ہے، اس دور کے دوسرے اہم شعرائ عنصری اور فرخی ہیں، ان دونوں کے قصائد فارسی شاعری کی تاریخ میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس عہد میں فارسی شاعری کی ترقی کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ سامانی دور میں اس  ترقی کی راہ ہموار ہوچکی تھی ۔نظم ونثر میں شاہنامہ فردوسی کی ابتدا ئ ہوچکی تھی۔ بلخی نے اس کی ابتدا ئ کی اور دقیقی نے اسے آگے بڑھایا اور فردوسی نے اسے کمال تک پہنچایا۔عنصری اور فرخی کی قصیدہ گوئی کا راستہ رودکی نے صاف کردیا تھا۔عنصری اور فرخی قصیدہ گوئی کے علاوہ غزل گوئی کی طرف متوجہ ہوئے ۔اسی دور کے شعرائ کے کلام میں واقعہ نگاری اور فطرت نگاری کی عمدہ  مثالیں ملتی ہیں ۔عنصری اور فرخی کے قصائد میں مناظر فطرت کی فنکارانہ تصویر کشی ملتی ہے۔اس طرح اسی دور میں قصیدہ گرائی کو بھی زیادہ عروج ہوا اور نامور قصیدہ گو منظر عام پر آگئے ۔ابوالقاسم، عنصری ،محمود،  محمداور مسعود کا درباری شاعر تھا۔ وہ لفظوں کی دروبست ،مضمون آفرینی،  پرواز تخیل اور علمی فضیلت کی وجہ سے بر آمد روزگار تھا ۔اس کے اشعار کا نمونہ۔

جہدکن تاچون سخن گردی نوی باشدسخن

رنج برتا چون سحر گردی نوی باشد سخن

زور خفتن و  از  دیر   برخاستن   ہر  گز

نہ ملک  پا  بد  مرد  و  نہ  بر  ملوک  ظفر

                        عنصری  کا  قصیدہ۔    عنصری نے 180 اشعار کا قصیدہ لکھا جس میں محمود غزنوی کی تمام لڑائیاں نہایت تفصیل سے بیان کی۔  بدایعی  بلخی  نے  نوشیروان  کا  نصیحت  نامہ  نظم کیا۔  اسدی  طوسی  نےلغات فارسی کی تدوین کی ۔تاریخ واخلاق کے علاوہ محمود غزنوی کے شعرائ نے اصل فن کو ترقی دی اور شاعری کو اس قابل کردیا کہ جس قسم کے مطالب چاہیں ادا کرسکے۔ واقعہ نگاری،  معاملہ بندی ،اظہار جزبات،  قدرتی مناظر کی تصویرکشی ،  عرض شاعری کی جتنی انواع ہیں سب ان کے ہاں پائی جاتی ہیں ۔

                        محمود غزنوی کے  دربار  کے  نامور  شعراء۔      محمود غزنوی کے شعرائ اگر چہ بے شمار تھے لیکن جن ناموروں کو محمود غزنوی نے اپنے  خاص  شعراء  میں شامل  کیا  تھا وہ یہ ہیں عنصری ،فردوسی ،اسد ،  عسجدی  اور منوچہری  وغیرہ ۔ محمود غزنوی خود بھی فارسی میں شعر  کہتے تھے اور فارسی نثر پر بھی خاص مہارت رکھتے تھے۔ سلطان محمود غزنوی کے جانشینوں میں سے بعض  جسے  سلتان  مسعود،  ابراہیم  اور  بہرام  شاہ  نے بھی شاعروں اور ادیبوب کی سر پرستی کی اور حوصلہ افزائی کی لیکن وہ اس سلسلے میں سلطان محمود غزنوی کے درجہ پر نہ پہنچ سکے۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply