Home / Islamic History / عہد رسالت پر مفصل نوٹ ۔ حضوراکرم ﷺ اور عربوں کی حکومت کی ابتداء

عہد رسالت پر مفصل نوٹ ۔ حضوراکرم ﷺ اور عربوں کی حکومت کی ابتداء


عہد رسالت پر مفصل نوٹ ۔ حضوراکرم ﷺ اور عربوں کی حکومت کی ابتداء

حضوراکرم ﷺ اور عربوں کی حکومت کی ابتداء۔ 

                حضور ﷺ کی ابتدائی زندگی مبارکہ۔مورخین  عرب نے حضرت محمد  کی پیدائش کے وقت کے مختلف  عجائبات کا وقوع میں آنا بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں  کہ حضور  کی ولادت کے وقت دنیا متزلزل  ہو گئی اور مجوسیوں کے آتشکدے کی آگ  بجھ گئی۔شیاطین آسمان سے نیچے گرا دیے گئے ۔شہنشاہ  خسرو  کے قصر  کے چودہ کنگرے  نہایت زور سے گر پڑے اور  اس  کی آواز  دور تک گئی، گویا اس تباہی کا نمونہ تھا جو کل سلطنت  ایران پر عنقریب آنے والی تھی ۔

         حضور ﷺکی پر ورش۔   حضور ﷺکی پہلی پر  ورش والدہ نے  کی اور اس  کے  بعد عربوں کی ایک  رواج کی وجہ سے جو اس   وقت بھی موجود تھا ۔اور  اب بھی  ہے آ پ ﷺ ایک بدوی قبیلے  میں بھیج دیئے   گئے۔اس  قبیلہ میں آپ ﷺ  تین  سال رہے ۔ ،،مو رخین ،،لکھتے   ہیں  کہ  حضر ت محمد ﷺکی  مو جودگی کی وجہ سے ایسے عجائبات واقع  پزیر ہوئے جن سے  اس  قبیلہ کے لوگوں پر   خو ف بیٹھ  گیا  اور  پھر  وہ حضور  اکرم  ﷺ کو زیادہ دن نہ  رکھ  سکے۔

والدہ اور  داداجان کی  وفات کے  بعد آپﷺ  کی پرورش حضرت ابوطالب  جو آپ  کے  چچاتھے۔ جو تجارت کی وجہ سے ہمیشہ سفر میں رہا  کرتے تھے ۔ 20 سال کی عمر  میں ایک لڑائی  جو قریش اور  دوسرے  قبیلے کے  درمیان ہوئی شریک  ہوئے اور  اس وقت بھی آپﷺ  نے  وہ  قابلیت دکھائی جسکا ظہور آئیندہ  ہونے  والا تھا۔

        آپ ﷺ نہایت نیک سیرت اور آپ  کی  نیکی اور آپ ﷺکے اخلاص کی وجہ سے قبیلہ قریش میں آپﷺ کو  امین  کا  خطا ب دلو ایا  گیا  تھا۔

        حضرت خدیجہ سے25سال کی عمر   میں شادی کی۔حضرت  خدیجہ  کی عمر 40برس تھی۔ جب  تک آپ  زندہ رہیں، حضو ر  اکر م  نے  کو ئی اور نکاح نہیں کیا۔ جب آپﷺ  کی عمر 40 سال  ہو گئی  تو غار حرا میں  عبادت   میں مصروف تھے تو جبر  یل علیہ اسلام آکر  اور  )وحی  کے  ذریعے)کہا۔

                 پڑھ  نا م اس  خدا کے جس  نے  انسان کو  پیدا  کیا اور جس نے انسان کو وہ سکھایا  جو  وہ نہیں جا نتا تھا۔ آپ ﷺ گھر تشریف لائے اور حضرت  خدیجہؓ سے ذکر  کیا۔ آپ ﷺکابھا ئی ورقہ جو  مشہور عالم تھا اس   نے تائید   کردی، پھر   آپ ﷺ  کو اطمینان  ہوا اور  آپؓ نے اپنی  خوشی  کا اظہار  کیا۔ ابوالفدا لکھتے   ہیں, اس  کے  بعد سلسلہ  وحی برابر  جاری  رہا ۔

                        جب آپ ﷺ نے اعلانیہ طور پر نبوت کا اعلان کیا تو قریش آپ ﷺ کے دشمن بن گئے، حتی کہ آپ ﷺ کو مارنے تک کی بھی دھمکیاں دی لیکن آپ ﷺ نے فرمایا۔

                        “اگر میرے  دشمن آفتاب کو میرے  دائیں ہاتھ پر اور  چاند کو میرے بائیں  ہاتھ پر رکھ دیں پھر بھی اپنے کام سے باز نہیں آوںگا ۔

حضوراکرم ﷺ
حضوراکرم ﷺ

                توحید کا پیغام۔مورخین اسلام لکھتے ہیں کہ جب بادشاہ حبش  نے مذہب جدید  کی نسبت سوال کیا اس وقت جعفرطیار  حضرت مابﷺ  کے بھائی نے جواب دیا۔

                        “ہم جہالت کی تاریکی میں پڑے  ہوئے تھے اور بتوں کو پوجتے تھے کسی قانون کے پابند نہ تھے، اتنے  میں خدا نے ہم میں سے ایک شخص کو پیدا کیا جو ہماری قوم کا ہے نسبتا نجیب ہے اور اپنی خوبیوں کی وجہ سے معزز اور محترم ہے، اس پیغمبر  ﷺ نے ہمیں خدا کی توحید کی تعلیم دی اور سکھایا  کہ اپنے آباو اجداد کے خیالات اور اوہام کو چھوڑ  دیں اور بتوں کی پرستش ترک کریں۔ اُس نے ہمیں برائی سے بچنا ، قول کی سچائی، معاملات میں راست بازی اپنے والدین اور ہمسایہ کے ساتھ احسان کرنے کی تعلیم دی۔اُس نے ہمیں عورتوں کی آبرو پر حملہ کرنے سے اور یتیم کا مال کھانے سے منع کیا۔ اُس نے ہمیں نماز ، روزہ، زکوات  کا حکم دیا  اور ہم نے اُس کی رسالت کو مان لیا۔

        آپ ﷺ کفار کی سختیوں کو نہایت نرمی سے سہتے تھے اور کلام اﷲ کی فصاحت اور بلاغت ہر روز  نئے مسلمان پیدا ہوتے تھے ۔آپ ﷺ کی بعثت کو دس سال ہوئے تھے آپ ﷺ کے چچا اور  حضرت خدیجہؓ انتقال کر گئے، جب کفار کے حملے بڑھ گئے تو طائف  تشریف لےگئے کچھ عرصہ  بعد طائف سے مکہ  واپس تشریف  لے آئے۔

         زمانہ ححج میں آپﷺ نے ہمیشہ قبائل کو اسلام کی دعوت دی تھی کیونکہ ان قبائل  کو اہل مکہ کے ساتھ سخت رقابت تھی  اور ان میں خود بھی ایک پیغمبر کی خبر موجود تھی۔آپ ﷺ کی تقریر  کا اُن پر بہت اثر ہوا  اور اُنہوں نے بلا تامل اسلام قبول کیا اور کہا کہ یہ وہی پیغمبر ہے  جس کا انتظار تھا۔  مکہ  کے لوگوں میں سے کچھ لوگ  حضور ﷺ کی مذہب  جدید کی تقریر سننے آئے جو تقریبا سادہ اور صاف تھے۔

         اﷲ وحدہ لا شریک  کو ماننا، زندگی عاقبت کا اعتقاد جس میں بروں کو سزا ملے گی اﷲ کی مرضی پر تسلیم و رضا صبح وشام  طہارت کے بعد نماز پڑھنی، ہر قسم کا نیک کام کرنا  حضرت محمدﷺ کو اﷲ کا رسول ماننا اور آپ ﷺکی اطاعت  کرنا ہے۔ اس سادہ تقریر  کا اثر مدینے والوں پر اس قدر ہوا کہ اُنہوں نے  اسلام قبول کیا  اور قریش مکہ نے جب یہ خبر  سنی تو برہم ہو گئے۔ حضور ﷺ کے جانی دشمن بن گئے  اور قتل کا ارادہ کیا  اور آپ ﷺ کو اس بات کی خبر اُس وقت ملی جب  اُن کے مکان کا  محاصرہ ہو چکا تھا، لیکن آپﷺ تاریکی  کے پردہ میں اپنے آپ کو بچاتے  ہوئے اپنے رفیق  حضرت ابوبکرصدیقؓ کے ساتھ یثرب چلے گئے  اور اُس دن سے  اُس شہر کا نام مدینتہ النبی ہو گیا۔ حضور ﷺ کی ہجرت  کا زمانہ عربوں کے لیے ایک نیا سن بن گیا اور اسی تاریخ 622ء  سے پہلا سال  ہجری  شروع ہوا۔

       آپ ﷺ کی ہجرت  مدینہ کے بعد کے واقعات۔  حضور ﷺ نے مدینے  میں آنے کے بعد  مذہب کی تکمیل شروع کر دی  اور قرآن بھی جو اُس وقت  ناتمام حالت میں تھا ، بتدریج اور مشکل مواقع پر نزول وحی کے ذریعے  سے پہنچا  البتہ اصولی مسائل وہی رہے جو پہلے سے قائم ہو چکے تھے۔ ارکان اسلام  کو آپ ﷺنے بتدریج متعین کیا ۔ موذن کے آذان سننے پر پانچ وقت نماز پڑھنا، رمضان میں تیس روزے رکھنا، زکوات  دینا  شامل تھے۔ہجرت کے بعد آپﷺ نےمتعدد لڑائیاں لڑی جن میں جنگ بدر اور جنگ خیبر شامل ہیں۔حضور ﷺ کو یہودن زینب نامی عورت کے ہاتھوں زہر والا گوشت کھلانا  اور حضور ﷺ کا بچ جانا  لیکن اس زہر کا اثر تین سال تک محسوس ہوتا رہا۔جب مسلمانوں کی آبادی بڑھ گئی تو پھر دس ہزار فوج لیکر مکہ فتح  کرنے کے ارادے سےگئے  لیکن آپﷺ کا نام اتنا بڑا تھا کہ آپﷺ بلا جنگ کے مکہ میں داخل ہو گئے۔آپ ﷺ  نے مکہ کے لوگ جو بیس برس سے آپﷺ کے جانی دشمن تھے نہایت انسانیت  کا برتاو کیا  اور آپ ﷺ نے بڑی مشکل سے  انصار کے جوش اور جہاد سے بچایا اور اس پر اکتفا  کیا کہ خانہ کعبہ کے تین سو ساٹھ بتوں کو توڑ کر  اس عمارت کو کعبہ اسلام بنایا  جو آج تک ہے۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …