Home / Persian Poets / عرفی شیرازی، قصیدہ گو شاعر کی حالات زندگی پر نوٹ

عرفی شیرازی، قصیدہ گو شاعر کی حالات زندگی پر نوٹ


عرفی شیرازی،  قصیدہ گو شاعر  کی  حالات  زندگی  پر  نوٹ

               تعارف.   عرفی شیرازی ایران  کے  ایک  معزز  خاندان  میں  پیدا  ہوئے۔  عرفی کے ہم عصر نہاوندی کے قول کے مطابق عرفی کا اصلی نام خواجہ سید محمد ہے اور شبلی نعمانی نے اس کا نام محمد, جمال الدین لقب اور عرفی تخلص،عرفی شیرازی  ،شیراز کے مقتدر  گھرانے سے تعلق  رکھتا تھا۔  عرفی کا باپ شیراز کے دارالحکومت میں ایک معزز عہدے پر فائز تھا۔ عرفی نے اسی مناسب سے اپنا تخلص عرفی لکھا تھا۔ عرفی شیرازی  کی  زندگی  کا احاطہ  مندرجہ  ذیل  میں   کیا  جاتا  ہے۔

ا۔                   تعارف

ب۔           خود  ستا  شاعر

ج۔              خودی

د۔                  عرفی شیرازی کے متعلق معاصرین کی رائے

ذ۔                  زور کلام

ر۔                  علامہ محمد اقبال کی نظر میں عرفی شیرازی کی رفعت خیالی

ز۔                  کلام کی خصوصیات

س۔             خیال بندی

ش۔             الفاظ  کے نئے مفہوم

ص۔           نئی تراکیب

ض۔           اظہار فضیلت

ط۔                 فلسفانہ رموز

                 عرفی شیرازی خود  ستا  شاعر۔        عرفی شیرازی فطرتا مغرور  اور خودستا تھا  چونکہ ایران کے اکثر شعرا معمولی خاندانوں سے تھے مثلا خاقانی بڑھی تھا۔  فردوسی باغبانی کرتا تھا۔  باقر  کاشانی خردہ فروش تھا ۔برخلاف اس کے کہ عرفی شیرازی ایک معزز خاندان سے تھا اس تخلص میں بھی  فخر  کی  ادا قائم رکھی،  ورنہ ایران کے شعرائ میں نسب کا فخر شاذ  و  نادر پایا جاتا ہے۔  عرفی کی طبیعت میں انانیت اور خودداری تھی، اس لیئے وہ قصیدہ نویسی کو پسند نہیں کرتے تھے۔وہ خود کہتے تھے ۔

قصیدہ کار ہوس پیشگان بود عرفی

توز قبیلہ عشتمی  وظیفہ  ات غزل است

عرفی شیرازی
عرفی شیرازی

                عرفی شیرازی خودی ۔    عرفی شیرازی نے قصائد لکھے خوب ہیں۔ جیسے کہ عرفی کی خود پسندی اور بد  دماغی  مشہور ہے، قصیدہ  میں پہلے اپنی تعریف کرتا ہے  اور اس کے بعد ممدوح کی۔ عرفی شیرازی جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ  بہت نخوت پسند اور خود ستا تھا، ساتھ ہی وہ احساس  برتری کا شکار بھی تھا، اس لیئے سب اسے نا پسند کرتے تھے اور جب موقع ملتا اس پر طنز بھی کرتے تھے۔  بیماری کی حالت میں جب لوگ اس کی عیادت کو آئے تو دل سے صاف نہ تھے اور طنز آمیز  باتیں کرتے رہے۔ عرفی شیرازی یہ سب کچھ سنتا اور پیچ وتاب کھا کر رہ جاتا۔  اس کیفیت کو ایک قطع کی صورت میں لکھا ہے اور ان سب کے جواب میں جل کر کہتا ہے ۔

خدای  عز  و  جل صحتم دید بینی

کہ این منافقہ گان راچہ آورم بر سر

                 عرفی شیرازی کے متعلق معاصرین کی رائے۔   عرفی شیرازی کے  بارے  میں  ہم  عصر  شعراء  نے اپنی  خیالات  کا  اظہار   مندرجہ  ذیل    الفاظ  میں  کیا  ہے۔

الف۔        فیضی جو دربار اکبری کا ملک الشعرائ  رہا تھا،  وہ  ذیل میں  عرفی کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔

“اس فقیر (یعنی فیضی (نے مضمون آفرینی کی بلندی، بیان کی قدرت، الفاظ کی چاشنی، فکر کی تیزی اور خیال کی بلندی جو عرفی کے کلام میں دیکھی ہے، کسی اور کے کلام میں نہیں دیکھی”۔

ب۔           عرفی کے بارے میں عبدالقادر  بدایونی لکھتے ہیں ۔

“عرفی کا کلام کتب فروش گلی گلی و کوچہ بہ کوچہ بیچتے پھرتے ہیں اور عراق اور ہند کے لوگ اسے تبرک کے طور پر لیتے ہیں”۔

                زورکلام ۔اس کی ابتدا نظامی نے کی اور عرفی شیرازی نےاس کو درجہ کمال تک پہنچایا ۔الفاظ کی شان وشوکت، بندش کی چستی، مضمون کا زور، تشبیہات کی اثر آفرینی، خیال کی بلندی اس کے ہاں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں مثلا ۔

چمن آید بچمن  بحرِ تماشای جمال

بلبل آید  بر بلبل بتمنای غزل

                 عرفی شیرازی کے اشعار الفاظ کا شکوہ، بندش کی چستی، لفظوں کی درو بست نے شعروں میں زور کلام کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ مضمون اور بیان کا زور ذیل کے شعر میں ہے۔

من قیامت ذار عشقم دیدہ کوتا ہ بنگرد

صد بہشت و دوزخ ازھر گو شہ صحرای من

مفہوم۔  میں عشق اور محبت کی قیامت زار ہوں، میرے ہر گوشہ صحرا میں سینکڑوں بہشت و دوزخ ہیں۔ دیکھنے  والی آنکھ کی ضرورت ہے ۔

                علامہ محمد اقبال کی نظر میں عرفی شیرازی کی رفعت خیالی۔   عرفی شیرازی کے رفعت خیال کا یہ عالم ہے کہ جب اس کا تخیل پرواز کرتا ہے تو آسمان کی اونچی حدوں تک جا پہنچتا ہے۔ رفعت خیالی عرفی شیرازی کا وہ جو ہر ہے جس کی تعریف علامہ اقبال نے بھی کی ہے۔

محل ایسا کیا تعمیر عرفی کے تخیل نے

تصدق  جس پہ حیرت خانہ سینا و فارابی

          عرفی شیرازی کلام کی خصوصیات۔      یوں  تو  عرفی شیرازی فارسی کی خصوصیات اپنے ساتھ ایران سے لے کر آیا تھا لیکن جب عبدالرحیم  خان خانان، ابوالفتح گیلانی اور فیض فیاضی کے افکار واشعار سے متاثر ہوا تو وہ فکری اعتبار سے یہاں کا شاعر ہوکر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایران اسے پاک وہند کا شاعر لکھتے ہیں۔  ڈاکٹر رضا زادہ شفق لکھتے ہیں کہ عرفی شیرازی کا اسلوب بیان ایک خاص انداز رکھتا ہے جسے شیوہ ہندوستانی کہا جاتا ہے۔ویسے عرفی شیرازی نے رباعیات،مقطعات اور غزلیات سبھی کچھ کیں لیکن پاک وہند کی فارسی شاعری کی تاریخ میں اسے جو مقام قصیدہ سرائی میں حاصل ہوا وہاں وہ یکتای روزگار نظر آتا ہے یعنی اس صنف میں عرفی شیرازی کا ثانی نہیں ہے۔  ابو الفضل،  بدایونی، فیضی اور نہاوندی  نے اس کے کمال سخن وری کی بہت تعریف کی ہے ۔

                 خیال بندی ۔ عرفی شیرازی کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت خیال بندی ہے کسی سادہ خیال کو تشبیہ کے زور سے وسعت دے کر حد ادراک تک بڑھا  کرلے جانا خیال بندی ہے۔ خیال بندی سبک ہندی کا خاصہ ہے۔ یہ خصوصیت عرفی شیرازی کے کلام میں یعنی انتہائی گہری صورت میں نظر آتی ہے۔ عرفی کا شعر ۔

مشت سوزن بدیم زان مژہ باریختہ اند              گریہ از پارہ دل دو ختہ پیرا ہن چشم

مفہوم۔     مژ گان دلدار سے مٹھی بھر سوئیاں اس لیئے میرے دل میں ڈال دی گئی ہیں کہ خیاط گریہ سے کیا جائے کہ دل کے ٹکڑوں کو سی کر آنکھوں کے لیئے پیراہن بنا دے ۔

         الفاظ  کے نئے مفہوم ۔ عرفی شیرازی بعض اوقات عام الفاظ کو خاص اور بلند معنی ادا کرنے کا ذریعہ بناتا ہے ۔ مثلا

زلال چشمہ امید نقد  اکبر شاہ            طراز دولت جاوید شاہ  زادہ سلیم

اکبر کو شہزادہ سلیم سے جو محبت ہے اور اس سے جو امید یں وابستہ ہیں ان کےپیش  نظر  سلیم  کو  نقد اکبر شاہ کہا  جاتا  ہے۔  نقد  ایک  عام  لفظ  ہے  جو  سودا  سلف  یا  بنیئے  کے کاروبار سے تعلق رکھتا ہے، اس لفظ کو بنیئے کی دکان سے اٹھا کر کہاں کا کہاں پہنچا دیا ہے ۔کسے خیال آتا ہوگا کہ نقد اکبر شاہ کہہ کر شہنشاہ اکبر کا سرمایہ حیات بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔

                 نئی تراکیب ۔ عرفی شیرازی نے کئی تراکیب وضع کرکے فارسی زبان کے سرمائے میں اضافہ کیا ہے۔

مرا چو دوش بدوش ادب بدید استاد           بہ لطف خاص بدل گردد  التفات عمیم

مثال.     ادب واخترام سے کھڑے ہونے کے لیئے دوش  بدوش ادب   ایستادن کی ترکیب واضع کی ہے ۔

             اظہار فضیلت ۔ عرفی شیرازی سے پہلے قصیدہ نگار یہ جراءت نہیں کرسکتے تھے کہ اپنے ممدوح کی مدحت سرائی کے علاوہ کوئی اور بات کہہ سکے، لیکن عرفی شیرازی کے ہاں یہ بات نہیں تھی، جہاں کہیں شاعرانہ عظمت کے اظہار کا موقع ملتا، دل کھول کر  کرتا تھا۔

             فلسفانہ رموز۔ عرفی شیرازی نے جس قدر فلسفیانہ خیالات ادا کیئے، کسی شاعر نے ادا  نہیں کیئے۔ اس کے ساتھ یہ خصوصیت ہے کہ شاعرانہ طرز ادا نہیں جانے دیتا، عرفی شیرازی عرفان اور ذوق کو اسلام یا کفر میں محدود نہیں سمجھتا  ہے۔ اس کے نزدیک ہر جگہ حقیقت کا پر تو نظر آتا ہے۔ اس خیال کو اوروں نے بھی ادا کیا تھا لیکن عرفی شیرازی نے ایک عجیب تشبیہہ سے اس کو صاف دکھا دیا ۔

عارف ھم ازاسلام خراب ست وھم از کفر             پروانہ چراغ حرم ودید ند  اند

مفہوم۔     یہ ظاہر ہے کہ پروانہ صرف چراغ ڈھونڈتا ہے، وہ خواہ حرم میں جلتا ہو یا بت خانے میں، بت شکنی پر لوگ ناز کرتے ہیں لیکن ایک عارف کو نظر آتا ہے کہ بت شکنی سے کیا فائدہ۔اسی بنا پر عرفی کہتا ہے ۔

رفتم بہ بت شکستن وھنگام باز گشت             پا برھمن گز اشتم از ننگ دین خویش

مفہوم۔     میں بت توڑنے تو گیا تھا لیکن جب واپس چلا تو اپنا دین برہمن کے ہاں چھوڑ آیا۔ عام مسلمان جس طرح کعبہ کے ساتھ پیش آتے ہیں، اس میں اور بت  پرستی میں مشکل سے فرق کیا جاسکتا ہے۔

              اسرار و رموز۔     عرفی شیرازی قصیدے کو محض ممدوح کی تعریف تک محدود نہیں رکھتا بلکہ زندگی کے فلسفیانہ اسرار ورموز بھی بیان کرتا ہے۔

ا۔                   خودی ۔  خودی  پر  عرفی  کا  ایک  شعر  ملاحظہ  فرمائے۔

سسر روحانیاں  داری ولی خود را ندیدستی             بخواب خود در آتا قبلہ روحانیاں بینی

مفہوم۔    تجھے حق شناس لوگوں کی صحبت کی خواہش ہے لیکن تو نے خود اپنی طرف کبھی توجہ نہیں کی، اگر دوسروں سے بے نیاز ہو کر اپنے آپ کو دیکھ پائے تو تیری ذات خود حقیقت شناس لوگوں کے لیئے قبلہ گاہ بن جائے  گا۔

ب۔       انسان خود اپنی تقدیر کا معمار ہے ۔

زتر تیب  نظام آفرینش چون نہ آگاہ                 خوادس  را از تاثیر نجوم آسمان بینی

مفہوم۔    تو محض کائنات کے نظام سے آگاہ نہیں ہے، اس لیئے زمانے کے حادثات کو سیاروں کی گردش کا نتیجہ خیال کرتا ہے۔ اگر  تو نظام کائنات سے واقف ہوتا تو تجھے یہ معلوم ہوجاتا کہ یہ سارے واقعات انسانوں کے خود پیدا کیئے ہوتے ہیں۔

ج۔         علوہمت۔      عرفی شیرازی اپنے اشعار میں خود آگاہی کا احساس دلاکر جدوجہد کا درس دیتا ہے ۔

گہر جویئد غواصان فطرت  در  تہ دریا                      تو در  فکر ھمیں دالم کہ  از دریا کراں بینی

مفہوم۔    رمو فطرت  ڈھونڈنے والے سمندر کی تہہ میں موتی ڈھونڈتے ہیں، تو اس فکر میں رہتا ہے کہ دریا سے کنارے پر پہنچ جائے ۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply