Home / Persian Poets / عبداﷲ انصاری کے حالات زندگی ABDULLAH ANSARI –

عبداﷲ انصاری کے حالات زندگی ABDULLAH ANSARI –


عبداﷲ انصاری کے حالات زندگی ABDULLAH ANSARI

                   تعارف۔    عبداﷲ انصاری کا پورا نام خواجہ عبداﷲ بن محمد انصاری تھا۔ آپ کی ولادت سال 394ھ میں حرات میں ہوئی۔ آپ الف ارسلان سلجوقی، خواجہ نظام الملک اور شیخ ابوسعید ابوالخیر کے ہم عصرتھے۔ سلسلہ نصف ابو ایوب انصاری سے ملتا ہے۔ آپ کا شمار محد ثین اور عرفائ میں ہوتا ہے۔ آپ نے نثر اور رباعیوں کی وجہ سے شہرت پائی۔ آپ کو عربی اور فارسی دونوں زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ آپ نے عربی میں بھی کتابیں لکھیں۔عبداﷲانصاری کی زندگی کا احاطہ مندرجہ ذیل میں کیا  جاتا  ہے۔

ا۔                   عبداﷲ انصاری  کی  تصانیف

ب۔           نثر کا انداز

ج۔              رباعیات

د۔                  رباعیات میں  عشق حقیقی  کی جھلک

                 عبداﷲ انصاری  کی  تصانیف۔    آپ نے فارسی زبان میں یادگار تصانیف تحریر کیں جن میں  زادالعارفین  اور کتاب اسرار قبل  ذکر اور  یادگار  ہیں۔ اس علاوہ کئی رسائل بھی تصنیف کیئے ہیں۔نثر میں آپ نے مناجات بھی لکھی ہیں جو بہت سادہ، موثر اور شیرین فارسی میں لکھی  گئی ہیں۔

                 نثر کا انداز ۔ عبداﷲ نصاری ان اولین نثر نویسوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مسجع نثر لکھی اور نثر کو دلکش اور موثر بنانے کے لیئے اس میں اشعار بھی شامل کیئے ہیں۔ یہ وہی انداز نگارش ہے جس نے سعدی کے گوہر بار قلم کے ذریعے کمال حاصل کیا اور ادب فارسی کے گلستان کی آبیاری کی۔ مثال کے طور آپ کی نثر کا معقولات کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے ۔

چو ن پیش بزرگی در آئی، ہمہ گوش باش چون او سخن گوید، تو خاموش باش۔ روزگاری او را  می جستم خود را می افتم، اکنون خو د را می  جویم او  را می یا بم ۔

عشق آمد و شد چو خونم اندر رگ و پوست

عبداﷲ انصاری
عبداﷲ انصاری

تا   کرد   مرا   تہمی  و   پر  کرد    ز   دوست

                 رباعیات۔     شیخ عبداﷲ انصاری کی رباعیات خاص طور پر مشہور ہیں۔ ان کا موضوع معرفت اور روحانیت ہے۔ آپ کی رباعیاں سادہ، روان اور موثر ہیں۔ مثال کے طور پر ۔

ازھجر ہمی سوزم از شرم خیال         در  وصل ہمی سوزم ازبیم زوال

پروانہ و  شمع را چنین باشد حال    در   ہجر   بسوزد،    وبسوزد   ز  وصال

                رباعیات میں  عشق حقیقی  کی جھلک۔    آپ باطن کی طرف مائل تھے، ظاہریت سے پرہیز کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی رباعیاں عشق حقیقی سے لبریز  ہیں  اور  پڑگنے  سے  عشق  حقیقی  کا  اثر  عیتا  ہے۔  آپ  تصوف  کی  طرف  مائل  تھے۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply