Home / Islamic History / عباسی عہدخلافت میں اسلامی تہذیب

عباسی عہدخلافت میں اسلامی تہذیب


  عباسی عہد خلافت میں  کا  ابتدا ۔

بنی عباس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت  عباس بن عبدالمطلب کی اولاد سے تھا  اور اسی دور کو عباسی دور کہتے ہیں۔ نواسہ رسول ﷺ کی شہادت  کے  بعد حامیان اہل بیت تین حصوں میں بٹ گئے تھے۔ پہلا فرقہ شیعہ (امامیہ)، دوسرا فرقہ  زہدیہ، یہاں یہ بات  قابل زکر ہے کہ زہدیہ اور شیعہ امامیہ کےعقائد آپس میں ملتےتھے ۔ زہد  بن زین العابدین کو تسلیم کرنے والے  زہدیہ کہلاتے تھے، اور تیسرا  فرقہ   کیسانیہ تھا۔

          بنی عباس کے برسراقتدار آتے ہی عربی اقتدار کو سخت دہچکا  لگا اور اس کی اجارہ داری ختم ہوگئی۔ عباسی  خلفاء نے عربی اور عجمی فرق کو مٹا کر تمام عالم  پر ایک بہت بڑا احسان کیاہے اور اس اقدام کی بدولت جملہ مسلمان  اقوام نے انہیں  دنیاوی حکمران ہونے کے علاوہ اپنا روحانی پیشوا بھی تسلیم کیا ہے۔ قوت اور اقتدار کے پیش نظر صرف شروع  کے آٹھ سال عباسی خلیفے صیحح معنوں میں حکمران کہلانے کے مستحق ہیں اور جب ہم بنی عباس کے ملکی  انتظام کا ذکر کرتے ہیں تو ہماری مراد یہی آ ٹھ خلفائ  ہوتے  ہیں باقی صرف عباسی نام کے بادشاہ تھے۔ سلطنت کی باگ ڈور ترک سرداروں اور امیروں کے ہاتھ میں ہوتی تھی،  جو اپنی من مانی کرتے خلفائ ان کے نیچے بےبس ہو کر رہ گئے تھے اور حکومت کا نظم و نسق میں انہیں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

abbasid

      عباسی عہد خلافت میں سلطنت کے انتظامی امور ۔  نظام حکومت کم و بیش  وہی تھا جو بنوامیہ کے وقت میں رائج تھا۔ صرف  چند شعبوں میں توسیع کی گئی تاکہ  کام زیادہ مستعدی اور ہوشیاری سے ہو سکے۔ بنوامیہ کے عباسیہ بھی اپنا جانشین مقرر کرتے اور خلیفہ کی وفات کے بعد جب ولی عہد سلطنت پر فائز  ہو جاتا تو سب لوگوں سے دوبارہ بیعت  لی جاتی، اسی طرح تمام افراد، سردار، فوجی جرنیل اور دیگر سلطنت  کے  اراکین ولی عہد کے سامنے پیش ہو کر اس کی اطاعت کا خلف اٹھاتے تھے۔

           عباسی عہد خلافت میں وزرا کا تقرر۔  عباسی حکومت بھی شخصی حکومت تھی۔ مجلس شوری کا وجود ناپید تھا لیکن ان لوگوں نے اپنی سہولت کےلیے ایک نیا عہدہ قائم کیا اور سب سے زیادہ قابل شخص کو وزیر مقرر کرکےتمام اختیارات اس کے حوالے کر دئیے۔ وزیر ایک طرف سے خلیفہ کا نائب ہوتا تھا۔ عہدداروں کی تقرریاں و معزولی، بیت المال کی نگرانی اور جاگیروں کی تقسیم وغیرہ سب اس کے ذمے ہوتی تھیں۔ مرکز کے تمام شعبہ جات اس کے ما تحت تصور کیے جاتے تھے۔ شعبہ کتابت برراست اس کی نگرانی میں ہوتا تھا۔ ابتدائ میں صرف ایک ہی وزیر ہوا کرتا تھا مگر بعد میں اس محکمہ کےلیے ایک علیحدہ وزیر بنا دیا گیا۔ سب سے بڑے وزیر کو وزیراعلی، مدارالہام اور امیرالامرائ کے ناموں سے پکارا جاتاتھا۔
وزرات کے دوسرےنمبر پر حجابت کا عہدہ ہوتا تھا جس کے لفظی معنی دربان کے ہیں مگر خلفائ عباسیہ کے نزدیک یہ منصب اتنا ممتاز تھا کہ اپنے معتمد خاص کو  ہی اس پر فائز کرتے تھے۔ کوئی شخص حجابت کی اجازت کے بغیر  خلیفہ سے نہیں مل سکتا تھا  اور خلیفہ کا مشیر بھی ہوتا تھا۔

          عباسی عہد خلافت میں شعبے۔   مرکزی شعبہ جات کی تقسیم اور طریقہ کار وہی تھا جو بنوامیہ نے قائم کیا تھا۔ البتہ عباسیوں نے چند ایک شعبے قائم کر کے اس کو وسعت دی اور نئے محکموں میں دیوان حکمت، دیوان کتابت اور دارالترجمہ  خاص طور پر ممتاز ہیں۔

 عباسی عہد خلافت میں مشہو ر شعبہ جا ت

  ۔     ا۔  عباسی دیوان خراج۔  بیت المال کے مصارف و محاصل مثلا خراج، زکواة، جزیہ، عشر اور ٹیکس وغیرہ کا حساب کتاب تھا۔

  ۔    ب۔   عباسی یوان کتابت یا رسائل۔عہد بنہ عباس میں اس محکمہ کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ شاہی احکامات، سیاسی عہدنامے اور غیرملکی بادشاہوں کے خطوط کا جواب تحریر کرنا اس شعبہ کے سپرد تھا۔اس محکمہ میں صرف اعلی تعلیم یافتہ اور خوش نویس  لوگوں کو ہی ملازم رکھا جاتا تھا۔

3۔       عباسی یوان البریدٰ۔ شاہی ڈاک کی روانگی اور خلیفہ کو باخبر رکھنا اس کی ذمہ داری تھی اور ڈاک تیز رفتار گھوڑوں کے ذریعے منزل بمنزل پہنچائی جاتی تھی۔ خلیفہ معتصم کےعہد میں نامہ برکبوتروں سے بھی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا۔ دیوان الزمام غیرمسلموں کے حقوق کی حفاظت کرتا ،دیوان الاقرمہ نہروں کی حفاظت کرتا اور  دیوان العوض کےماتحت اسلحہ سازی کا کام اور کارخانے تھے۔

عباسی عہد خلافت میں صوبائی نظام

         صوبوں کی حکومت گونروں کے ماتحت ہوتی تھی جہنیں خلیفہ خود منتخب کرتا تھا۔ ماتحت عملے کا تقرر گورنر کے   اپنی مرضی کے تحت عمل میں آتا تھا۔ پہلے آٹھ خلفائ کی پالیسی یہ تھی کہ کوئی بھی گورنر کسی ایک صوبے میں زیادہ دیر نہ رہتا تھا تا کہ وہ مستقل اس علاقے کا حاکم نہ بن بیٹھے لیکن بعد میں خلفائ کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اکثر گورنر اپنے  ماتحت صوبوں میں مستقل قابض ہوگئے اور خلیفہ کو انکے کاروبار میں کو خاص دخل نہ تھاصرف خلیفہ کا نام خطبوں میں لیا جاتا تھا اور ہر سال خراج کی ایک  حقیرسی رقم دارالخلافہ  میں بھیج  دی جاتی تھی۔

         عجیب بات یہ تھی کہ ان خود مختار حکومتوں کی سرکشی کو دبانے کی بجائےخلفائ انکی خود مختاری  کو تسلیم کر لیتے اور سلطان، ملک، امین الملت و یمین الدو لہ وغیر ہ خطابات سے بھی سرفراز کرتے۔غرنوی،سلجوقی،      وسلیمی حکومتیں اس قسم کی ہی حکومتیں تھیں۔

           بنی عباس  نے صوبوں کی تقسیم میں ردو بدل کر دی۔ کہیں دو صوبوں کو اکٹھا کر دیا اور کہیں ایک صوبے کے حصے بڑے کر دئیے  اور ان امیروں کو مامور کر دیا۔

            عباسی عہد خلافت میں انصاف۔  عباسی عہد میں عدل و انصاف کا بڑا معقول انتظام تھا۔ غیرمسلموں  کے مقدمات ان کے اپنے مذہبی پیشوا سنتے  اور فیصلہ کرتے  لیکن یہ رعائت صرف دیوانی مقدمات میں حاصل تھی۔فوجداری  کے لیے مذہب و ملت کی کو ئی حاص خیال نہ رکھا جاتا تھا۔ہر شہر میں ایک قاضی ہوتا  جو ملحقہ قصبوں اور دیہات میں اپنا نائب قاضی مقرر کر دیتا۔ ان نائبوں کو عادل کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

           بغداد کا قاضی، قاضی القضاد  کہلاتا تھا اور اس کی حیثیت موجودہ زمانے کے چیف جسٹس کی سی ہوتی  تھی۔ علم و فنون، صنعت و حرفت، بحری بیڑہ  محکمہ  جاسوسی جیسے  محکمے بھی بنائے۔

عباسی
عباسی

          عباسی عہد خلافت میں فوجی نظام۔ عباسی عہد میں اسلامی فوج تعداد اور سامان کے لحاظ سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی تھی۔ اموی لشکر فقط عرب سپاہیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ دیگر عناسر کو بھرتی نہیں کیا جاتا تھا لیکن عباسیوں نے عربیوں کے علاوہ خراسانیوں، ترکوں اور دیگر اقوام کو بھی  فوج میں شامل کر لیا جس کی باعث ایک تو لشکر کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا اور دوسرا ہر ملک کے اسلوب جنگ سے فائدہ  اٹھانے کا موقع مل گیا۔ سارا اسلامی لشکر دو افواج پر مشتمل تھا ، ایک باقاعدہ فوج  اور دوسری رضاکار  فوج۔

           باقاعدہ فوج تنخواہ دار تھی اور وہ فوجی چھاؤنیوں میں رہتی تھی۔ رضاکار تنخواہ نہیں لیتے تھے بلکہ جہاد کو مذہبی فریضہ سمجھ کر جنگوں میں حصہ لیتے تھے اور ان کو کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی تھی۔ لڑائی کے دوران انکو  خوراک اور اسلحہ حکومت کی طرف سے ملتا تھا اور اتنے عرصے کےلیے ان کے بیوی اور بچوں کے لیے روزینہ مقرر ہو جاتا تھا ۔ ایک جرنیل دس ہزار لشکر  کی کما ن کر تا تھا ۔

          عباسی عہد خلافت میں صنعت و حرفت اور استوار معیشت۔اس دور میں صنعت و حرفت اور تجارت  کو بڑ ا فروغ حاصل ہوا۔ انجینیروں کی مدد سے پہاڑوں سے  معدنیات  نکلوائی گیئں اور ان کے برتن، سامان حرب اور اسی قبیل کی دیگر اشیائ  بنانے کے کارخانے قائم کیے گئے۔

            عراق سے اکثر شہروں میں صابون سازی، بنورسازی اور کاغذسازی کے کارخا نے کھولے گئے۔ اسلامی سپین میں مختلف قسم کی مصنوعات تیار کی جاتی تھیں۔ قیمتی پتھر اور موتی نکالے جانے لگے۔ روئی سے کپڑا  بنانے کی صنعت نے کمال حاصل کیا۔ ریشمی اور سوتی کپڑا بنانے کے کارخانے قائم کیے گئے۔ غرناطہ کا ریشم پوری دنیا میں مشہور تھا،المدیہ میں شیشے اور کانسی کی صنعتیں لگائی گئی، الگارو اور جیان میں سونے، چاندی کی مشہور کانیں تھیں۔ طلیطہ میں فولادی تلواریں تیار کی جا تی تھیں۔

           اسلامی سپین کی برآمدات پوری دنیا میں بھیجی جاتی تھیں، ہر جگہ انکی مانگ تھی۔ شمالی  افریقہ، اٹلی، مصر،  یونان  اور شام  سے خصوصی تجارت ہوتی تھی۔

         عباسی عہد خلافت میں علوم و فنون۔ عباسی عہد  میں علوم و فنون کو بہت ترقی ہوئی۔ ہزارہا یونانی، ایرانی اور سنکرت کی کتابوں کے عربی ترجمہ کیے گئے۔ مزید برآن گرائمر، فلسفہ، ریاضی،موسیقی، طب، جغرافیہ اور احادیث کے بارے میں بہت سی قابل قدر کتب تصنیف کہ گئیں۔ تمام بڑے شہروں میں درسوتد ریس کے لیے مدارس کھولے گئے۔ چند ایک ایجادیں بھی ہوئیں، جن میں بحری کمپاس اور دور بین  قابل ذکر ہیں۔


About admin

Check Also

مسلمانوں کے زوال کے اسبا ب

مسلمانوں میں قیادت  کا فقدان۔  عباسی خلفائ  کے بعد 1256 ئ  میں  جب  منگو لیوں نے عباسی  …

Leave a Reply