شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ کی حالات زندگی


شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ  کی  حالات  زندگی

                        عام  بیان۔    اﷲ تعالی نے دنیا میں ہر طرح کے انسان پیدا فرمائے ہوئے ہیں اور کتنے ہی انسان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عمدہ   کارناموں کی وجہ سے شہرت حاصل کی ہیں لیکن ایسے خوش قسمت افراد بہت کم ہیں  جن کے یاد گار کارنامے لوگوں کو ہمیشہ فیض پہنچاتے رہے ہیں۔ حضرت شیخ سعدی ان بزرگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں ایسے متعدد کارنامے انجام دئے جن سے دنیا  ہمیشہ فیض یاب ہوتی رہی ہے اور انشائ اﷲ ہوتی رہے گی ۔

                        ایلخانی فتنہ کے ہاتھوں جب جب سرزمین ایران بے گناہوں کے خون سے لالہ زارتھی، گھر ویران اور مسجدیں تباہ  ہوئی علم و ادب کے مراکز فنا ہوئی، کتاب خانے نذر آتش ہوئے، بڑے بڑے عالموں کو بے دردی سے شہید کیا گیا ہے، اسی زمانے میں ایک ہی  نادرہ  روز گار ہستی وجود میں آئی  جس کے ادبی کارناموں نے  اہل ایران کے مجروح دلوں پر مرہم کا کام کیا،  یہ بزرگوار ہستی شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ ہیں۔

                        تعارف۔    آپ کا اسم گرامی شرف الدین ہے، لقب مصلح الدین اور سعدی تخلص ہے۔ آپ شیراز (جگہ)میں پیدا ہوئے۔ سال پیدائش کسی قدیم تذکرے میں بھی نہیں ملتا،  ایران کے ایک جدید سوانخ  نگار کہتے ہیں  کہ سعدی تقریبا 1184ئ میں پیدا ہوئے  اور 691ھ اور 694 ھ کے مابین فوت ہوئے۔   شیخ سعدی کے سونح لکھنے والوں نے کہا ہے کہ شیخ نے اپنی زندگی میں چار کام کئے  ہیں،  تقریبا تیس سال تک تعلیم حاصل کر تا رہا ، تیس سال سیرو سیا حت کی  ، تیس سال تصانیف کی ہیں اور بقیہ زندگی گوشہ نشینی میں گزاری  ہے۔ غرض شیخ نے اپنی زندگی اچھے کاموں میں صرف کی ہے۔  شیخ کے والد عبداﷲ شیرازی  شیراز کے حکمران سعد زنگی کے ساتھ ملازم تھے، چونکہ شیخ کو بچپن ہی سے ادب اور شعرو شا عری کا شوق تھا

اس لیے     بچپن سے ہی حاکم وقت  کی مناسبت سے آپ نے سعدی تخلیق تجویز  فرما لیا تھا ۔

                ابتدائی تعلیم۔    آپ کا خاندان علم و فضل کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ اس خاندان کے اکثر افراد علماء دین تھے جب کہ وہ خود لکھتے ہیں ۔

ہمہ قبیلہ من عالمان دین بودند              مرا معلم عشق تو شاعری آمو خت ۔

                        آپ نے ابتدا ئی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، کہیں یہ سلسلہ ذیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا  کیونکہ آپ بچپن ہی سے پدری شفقت سے محروم ہو گئے جیسا کہ وہ کہتا ہے ۔۔۔

مرا باشد از درد طفلان خبر                            کہ در طفلی از سر بر ختم پدر

من آنگہ کہ سر تا جو ردا شتم                        کہ سر در کنار   پدر دا شتم

                        اعلی  تعلیم۔        والد کے وفات کے بعد آپ نے شیراز کے علما  سے تحصیل علوم کی اور شیراز سے چل کر بغداد آئے۔ وہاں عبدالرحمن بن جوزی مشہور استاد سے فقیہانہ تعلیم پائی اور یگانہ روزگار عارف شیخ شہاب الدین سہر وردی سے بھی آپ نے کسب فیص کیا۔

                        سیر و سیاحت۔    آپ  نے  جب اسلامی سلطنت کا بغداد میں زوال دیکھ لیا اور ہلاکو خان کی بربریت اور ظلم سے بغداد کی پرسکون فضاء کو برباد  کر دیا   تو   شیخ نے سیر و سیا حت کا ارادہ کیا۔ آپ کسی ایک جگہ کے قیام پر مطمئن نہ ہو سکتے تھے، وہ اطراف عالم کو  دیکھنے کے آرزو مند تھے ۔ ذیل کے اشعار آپ کی اس آرزو کی ترجمانی کرتے ہیں۔

ٍبہیچ یارمدہ خا طر و بہیچ دیار                         کہ برو بحرو  فراخ ست و  آدمی بسیار

                        آسیری۔  بغداد سے نکل کر آپ نے سیر سیا حت شروع کی اور  شام ،فلسطین،  مکہ مکرمہ،  ایشائے کو چک اور شمالی افریقہ تک ہو آ ئے ۔ کہا جا تا ہے کہ آپ نے سیاحت کے طویل سفر میں چودہ حج کیے۔ بو ستان کے بعض حکا یات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ نے تر کستان اور ہندو ستان کا بھی سفر کیا۔ ایک  انگریز سوانح نگار لکھتاہے کہ ابن بطو طہ کے علاوہ اور کوئی مشرقی  سیاح ایسا نہیں ملتا ہے جو  شیخ سعدی سے سیا حت میں آگے ہو۔ ایام سفر میں شیخ نے بڑی بڑی مصیبتیں جھیلی ہیں ۔ ایک دفعہ شیخ اہل دمشق سے ناراض ہو کر فلسطین کے صحرا میں چلے گئے اور وہی  رہنے لگئے۔ وہاں عیسائیو ں نے شیخ کو گرفتار کر لیا۔ اس وقت وہاں شیخ کے حفا ظتی انتظامات کے سلسلے میں خندق کے کھدائی کا کام ہو رہا تھا۔ چنانچہ یہودی قیدیوں کے ساتھ شیخ کو بھی کھدائی کے کام پہ لگا دیا۔ آخر ایک شناسا نے زر فدیہ دے کر آزاد -کرایا ۔آپ کے اشعار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قید کے ساتھیو ں نے بھی آپ کی اصلاح نفس میں مدد دی ۔

گر آئینہ از آہ گردو سیاہ                     شود روشن آئینہ  دل ما

                        حوصلہ مندی۔  سعدی نے زندگی کے تلخ حقا ئق کو خندہ پیشانی سے بردشت کیا اور کبھی شکوہ  شکایت سے زبان و قلم کو آلودہ نہیں کیا۔ کبھی کچھ زکر بھی کیا تو اس انداز سے کہ پڑھنے والوں کو اس سے سبق حاصل ہو ۔ ایک حکا یت میں لکھتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میرے پاوں میں جوتا بھی نہ رہا ۔ پیسے پاس نہیں تھے کہ جوتا خرید لیتا، اسی حالت میں جب میں کو فہ میں آیا تو وہاں ایک شحص کو دیکھا جس کے پاوں ہی نہیں تھے۔ آپ نے اﷲ کا شکر اد ا کیا کہ جوتا نہ سہی  پاوں تو ہے۔سیا حت کے دوران آپ کو جو پریشانیوں کا سامنا ہو، اس سے نہ صرف آپکو صبر وتحمل کی قوت حاصل ہوئی بلکہ آپکی طبیعت میں گداز بھی پیدا ہوا۔ اس گداز کا یہ نتیجہ ہے کہ آپ کے کلام میں بہت اثر پایا جا تا ہے جو پڑھنے والوں کے دل و دماغ میں سحر کر دیتا ہے۔

ہر کسی را نباشد   این  گفتار       عود  ناسوختہ  ندارد  بوی

                        کلام میں سوز۔  کلام خواہ کتنا ہی  فصیح  نہ ہو  جب تک اس میں اثر  نالہ نہ ہوں، دل و دماغ کو متاثر نہیں کر سکتا۔ شاعر جب خود نالہ کر تا ہے تو دوسروں کی آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں۔ سعدی کے اس نالہ کا یہ اثر ہے  کہ خواص نے آپ کے کلام کو رہنما بنایا ہے۔ عوام الناس اس سے فیض یاب ہوتے جارہے ہیں اور آج سات سو سال گزرجانے کے بعد بھی آپ کے کلام کے اثر  میں کسی قسم  کا فرق نہیں آیا ۔

                        وطن کو واپسی۔   سعدی کے وطن سے طویل باہر رہنے کی وجہ یہ بھی ہے  کہ شیراز اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں میں  امن و  امان نہ تھا۔ یہ زمانہ مظفر الدین سعد بن زنگی کی حکومت تھا  ۔1236ء میں سعد فوت ہوا  تو حکومت اس کے بیٹے مظفر الدین ابو بکر بن ابو سعد  بن زنگی نے سنبھالی۔ اس حکمران نے تا تا ریوں سے مصلحت کر کے فارس کو قتل و غارت سے بچایا  اور اہل فارس کو امن و امان نصیب ہوا، جب  دور دور  تک اس کے عدل و انصاف کی  خبریں پہنچ گئی  تو شیخ سعدی کو وطن واپسی کا خیال آیا  اور وطن کی محبت آخر آپ کو شیرا زی لے آئی۔

                        درویشی  کی  طرف  رجوع۔   ان تمان خوبیوں کے باوجود ان میں ایک عجیب چیز یہ تھی  کہ وہ علمائ کی قدر کر تا تھا بلکہ علمائ سے زیا دہ درویش  صفت لو گوں کی قدر کر تا تھا،  اس لیے شیخ سعدی نے علم و فضیلت  کا لباس اتارلیا  اور درو یشانہ زندگی اختیار کی  اور اس لباس میں اصلاحی کارنامے سر انجام دئے۔  گلستان اور بوستان (کتاب)میں جگہ جگہ ایسی حکایتیں ملتی ہیں  جن سے شیخ نے اصلاحی کام لے لیا ہے،  متعدد مقامات پر پہلے تھوڑی سی مدح کے بعد شاہان وقت  کو نصیحت فرمائی ۔

                        جرات  مندی۔     علی بن احمد جنہوں نے شیخ کے کلیات جمع کیے۔ اس نے ایسے مواقع پر لکھا ہے  کہ ہمارے زمانے کے علمائ  و مشائخ ایسی نصیحت  ایک سبزی فروش اور ایک قصاب کو بھی نہیں کر سکتے ہیں،  اس  لیے سلاطین وقت کو دو بدو   اور تصا نیف میں اس قسم کی  نصیحت کر نا جرات مندی  اور حق پسندی  کا عین ثبوت ہے،  اس لیے شیخ  نے گلستان میں لکھا ہے  کہ بادشا ہوں کو نصیحت وہی شخص کر سکتا ہے  جسے نہ اپنے سر کا خوف  ہو اور نہ ہی زر کی امید ہو۔

                        شہرت۔       شیخ کی زبان و بیان اور قوت گویائی کیوجہ سے زمانہ طالب علمی سے  لوگوں میں ہر دل عزیز تھے اور ہر کوئی  اس کو محبت اور شفقت کی نظر سے دیکھتا تھا  اور جب آپ نے تا لیف کی زندگی میں قدم رکھا  تو اس کی سلاست،  زور بیان۔  شسستگی اور بر جستگی   کا چرچا   شیخ کی زندگی میں ہی  دور دور تک پہنچ گیا تھا۔

                        وفات۔     تذکروں سے پتہ چلتا ہے  کہ ہندوستان سے ملتان کے  حاکم نے  قاصد بھیج کر آپ کو ہندوستان آنے  کی دعوت دی  اور زاد راہ بھی بھیجا اس وقت آپ بہت ضغیف ہو چکےتھے  اس لیے مغزرت کی اور اپنی باقی عمر شیراز کی ایک خانقاہ  میں  گوشہ نشینی اختیار کر کے گزاری ، جو شیراز سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر  رکن آباد کے کنارے واقع ہے۔  آپ نے اس خانقاہ کو مرتے دم تک نہیں  چھوڑا  اور آخر 691 ھ میں  خانقاہ میں ہی دفن ہوئے۔آپ کا مزار سعدیہ کے نام سے مشہور ہے  اور زیارت گاہ خاص وعام ہے۔

بعد از وفات تر بت ما در زمیں مجوی         درسینہ ھای مردم  عارف مزار ما است

                        حاکم ملتان کی دعوت سے پتہ چلتا ہے کہ سعدی کی شہرت اس کے زندگی میں دنیا میں پھیل چکی تھی چنانچہ وہ خود بھی گلستان کے دیبا چہ میں سعدی کا ذکرِ جمیل عام لوگوں تک پہنچ چکا ہے اور کلام کی شہرت روئے زمین پر پھیل گئی ہے۔ صاحب ذوق لوگ کلام سے لطف اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے افاقی ہونے کا ذیل اشعار میں ذکر کر کیا ہے۔

کس ننا لید در این عہد چو من بر در دوست               کہ بافاق سخن نہ رود از شیرازم

﴿دوست کے در تک جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ شیراز سے با تیں پھیل کر رہتی دنیا تک جا رہی ہیں ﴾

                         ایک یہ بھی ان کی عظمت کی دلیل ہے کہ آج سا ڑھے سات سو سال کا عرصہ گز ر جانے کے بعد بھی ایران سے باہر کے ملکو ں میں ان  کی تصنیف  کردہ کتاب گلستان   کسی نہ کسی شکل میں نصاب میں شامل ہے ۔



About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply