Home / Persian Poets / شاعر حافظ شیرازی کی تصانیف اور کارنامے

شاعر حافظ شیرازی کی تصانیف اور کارنامے


شاعر حافظ شیرازی کی  تصانیف  اور  کارنامے 

                حافظ شیرازی کےتصانیف۔    حافظ شیرازی کی زندہ جاوید یادگار آپ کا دیوان ہے، جو ان کے ایک شاگرد اور دوست محمد گل اندام نے مرتب کیاتھا۔ یہ  دیوان غزلیات، قصائد، قطعات  اور چند رباعیوں پر مشتمل ہے۔

دیوان حافظ

زیای تا بسر کش ہر کجا کہ می نگرم                        کرشمہ دامن دل  میکشد  کہ اینجا ست

                        حافظ شیرازی صاحب کی تمام عمر کا حاصل بس ایک ہی دیوان ہے جو مقبول خاص و عام ہے۔ حافظ شیرازی کی شاعری کا سرمایہ ان سے زیادہ نہیں مگر سرمایہ سے انہوں نے تمام دنیا کی قدر دانی اور قبولیت خریدی ۔  خواجہ صاحب نے کمال ایجاز سے عاشقانہ اور عارفانہ فضائ میں نظم لکھے۔ ان کے ہاں مولانا روم کی حکمت و تصوف اور سعدی کا درس عشق ایک ساتھ نظر آتا ہے۔ حافظ شیرازی کے دیوان میں غزلیں ملتی ہیں۔ دو مختصر مثنویاں  ایک (ساقی نامہ) اور چند قصیدے اس پر بستزاد ہیں (افزوں شدہ) شعری کہ در آخر ہر مصرع آن چند کلمات زیاد از وزن بیا ورندم) حافظ شیرازی نے سعدی اور خواجہ کی پیروی کی۔  دیوان میں کم ازکم تیس غزلیں سعدی کی بحر میں ہیں اور چند خواجہ کے زیر اثر  ہیں  مگر الفاظ، تراکیب، معانی آفرینی اور دل آویزی ہیں آپ کا کلام اول سے آخر تک منفرد ہے۔  دیوان حافظ کی اشاعتوں، ترجم  اور شرحوں کی داستان بے حد طویل ہے۔

                کلام کی شیرنی۔     خواجہ صاحب کا دیوان اتنا ضخیم نہیں مگر حقیقت  یہ ہے کہ خواجہ صاحب کے سوا آپ کی مشہور سے مشہور  شاعروں کا دیوان اٹھائیں، ورق کے ورق دیکھتے جائے، کہیں نہ کہیں دو، دو، چار، چار شعر ایسےملیں گے جن کو آپ اپنی بیاض میں جگہ دینے کو تیار ہونگے، باقی معمولی قسم کے شعر ہونگے جن کو آپ پڑھنے کی تکلیف بھی گوارہ نہیں فرمائیں گے اور اس کے برعکس خواجہ صاحب کا دیوان دیکھے جن شعر پر آپ نظر ڈالیں گے  نزاکت و  لطافت، ضائع و بدائع اور حسن و  ادا کا ایک اعلی نمونہ پائیں  گے۔ اس سے اگلا شعر پڑھے وہ اس سے بھی عمدہ ہوگا۔ بسم اﷲ (شروع)سے تمت بالخیر )آخر(تک ایک شعر بھی آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا جو دلفریب نہ ہو، دلکش نہ ہو۔ یاد کرنے کو جی نہ چاہے۔

خسد چی مبری اے ست نظم بر حافظ۔              قبول خاطر و لطف سخن خدا داد است

                کلام کی خوبی۔  حافظ شیرازی کے کلام میں یہ قوت بدرجہ کمال موجود ہیں کہ اپنی جذبات، تخیلات اور تصورات کو ایک ایسے روhafiz2شن، درخشندہ اور واضح جامہ پہناتے ہیں کہ تصویر کا ایک خدوخال سامنے آجاتا ہے کہ خواجہ صاحب سلطنت غزل کے بادشاہوں میں شہنشاہی کا درجہ رکھتے ہیں اور سب سے خراج تحسین وصول کر تے ہیں۔

                شہنشاہ غزل۔    حافظ شیرازی نے غزل کو اس مقام تک پہنچایا ہے جس سے انچا مقام تصور میں نہیں آتا۔ آپ کی زبان اس قدر شتہ ہے کہ اج تک پورے دیوان کا ایک لفظ بھی متروک نہیں مانا گیا۔ واقعی ان کی شا عری کو دیکھ کر خداداد نعمتیں دعوت نظارہ کر تی ہیں۔ شیخ سعدی صرف اس لحاظ سے کہ وہ  پہلے ایرانی شاعر ہیں جنہوں نے غزل کو ایک رتبے تک پہچایا ہے۔ وہ غزل کی ثبوت کا دروازہ بند نہیں کر گئے تھے۔ اس نے اور حافظ شیرازی نے غزل کو عروج کمال تک پہنچا یا ہے اور ان کی غزلیں شیخ کی غزل سے بہتریں اور افضل ہے۔ آج تک غزل کے میدان میں خوجہ سے شعر گوئی میں کوئی سبقت تو لے ہی نہیں سکتا۔ مولانا جامی نے خواجہ کو لسان الغیب اور ترجمان الاسرار کہتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کے کلام  تصوف سے پاک ہیں گویا یہ امار تائید اسمانی اور امداد غیبی کے  سوا حا صل نہیں ہو سکتی ہے ۔

                ہردل عزیز۔  حافظ شیرازی کے دیوان  میں ہر کوئی  اپنے ذوق کے مطابق مضامین پاتا ہے ۔ہر کوئی اسے دوست سمجھتا ہے اس کے لیئے دیوان حافظ ایک ایسا بے  پایاں سمندر ہے کہ پڑھنے والے کی پیاس کو بجھانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔آپ سرزمین ایران کے وہ شاعر ہیں جنہوں نے شعروفکر کے امتزاج سے فارسی شاعری کو ایسی بلندیوں تک پہنچایا کہ کوئی انہیں چھو بھی نہ سکا۔ آپ کے شاعرانہ افکار نے مشرق ومغرب دونوں سے خراج تحسین وصول کیا ہے۔ جرمن شاعر گوئٹے  تو آپ کو تقلید میں جرمنی زبان میں غزلیں کہیں ۔

                حافظ کا تغزل ۔خواجہ کرمانی نے جزبہ اور فکر کے امتزاج سے جو جدت غزل میں پیدا کی اس پر ہر حافظ نے کلام کی بنیاد رکھی۔ اس لحاظ سے گویا حافظ شیرازی نے بھی سبک عراقی کی  پیروی کی ۔ضائع بداع جنہیں محسنات شعری کہا جاتا ہے،سبک عراقی کا خاصہ ہیں۔ حافظ نے بھی اپنے کلام  کو محسنات شعری سے زینت دی ہے لیکن ضائع وبدایع سے کچھ اس انداز  میں کام لیا ہے کہ جزبات ، واردات  کے اظہار کو اس سے زیادہ مدد ملی اس وجہ سے ایران کے جدید محقیقین  نے حافظ شیرازی کے سبک شعری کیلئے ،،سبک فارسی ،،کی نئی اصطلاح واضع کی ہے جو صرف انہی کے لیئے

Persian poet Hafiz Shirazi
Hafiz Shirazi

مخصوص ہے ۔

حافظ کے کلام کی خصوصیات۔   حافظ شیرازی کے کلام کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔

الف۔     امید پسندی ۔ حافظ شیرازی کے غزل کی سب سے بڑی خوبی امید پسندی ہے۔ ایران کے اکثر بڑے شعرائ کے کلام میں جا بجا حزنیت یعنی  غم  نظر آتی ہے، یہ شعرائ زمانہ حال سے غیر مطمئن اور مستقبل سے مایوس ہیں، ان کی زندگی نا کامیوں کا مرقع  ہے لیکن اس کے برعکس حافظ عموما نا موافق حالات میں بھی ہمت نہیں ہارتے، انہیں بھی دوسرے شعرائ کی طرح ہجر کی تاریک وطویل رات کا سامنا تو ہے لیکن وہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ رات ختم ہوگی اور صبح درخشاں  اس کی جگہ لے گی جو پیام مسرت لائے گی اور غمکدہ  گلستان طرب بن جائے گا ۔

یوسف گم گشتہ باز آید بہ کنعان غم مخور

کلیہ اخران شود روزی گلستان غم مخور

دور گردوں گردد روزی برمراد ما نرفت

دائما یکساں نباشد حال دوراں غم مخور

ب۔        سعی وکوشش۔ حافظ شیرازی کے نزدیک فضیلت وکمال حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان ہنر مند اور علم ودانش سے آراستہ ہو۔ یہ چیزیں سعی وکوشش کے بغیر حاصل نہیں ہوتیں۔

روندگان  طریقت بہ نیم جو نخرند                  قبای اطلس آنکس کہ از ہنرنماریست

سعی ناکردہ دریں راہ بجای نرسی                فردا گرمی طلبی طاعت استاد ببر

ج ۔        بلند ہمتی۔    حافظ شیرازی کے غزل  کی ایک دوسری امتیازی خصوصیت بلند ہمتی اور فراخ حوصلگی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انسان کو ہر گز نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ گردش فلک کے اسیر  ہیں بلکہ ناموافق گردش کرنے والے افلاک کو ایک مجاہد بر ہم بھی کرسکتا ہے ۔

چرخ برہم زغم ازغیر مرادم گردد                 من نہ آئم کہ زبونی کشم از چرخ فلک

د۔         آزادی روی۔ حافظ شیرازی علائق دنیا سے آزاد تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حکمرانوں کے قصیدے بہت کم کہے ہیں، اگر کہے ہیں تو ان میں بے جاخوش آمد نہیں ۔ وہ ایسے انسان  کے قابل قدر سمجھتے ہیں جو علایق دنیا سے آزاد ہیں ۔

غلام ہمت آئم کہ زیر چرخ کبود                   زہر چہ رنگ تعلق پزیدد  آزاد  است

ذ۔         زندگی سے فرار۔ آل فطفر عہد آخر میں ایران میدان داروگیر بنا ہوا تھا۔ حکومتیں قائم ہوتیں اور ضعف  وخلل کا شکار ہوکر رہ جاتی تھیں ۔ظلم وستم کا دور دورہ تھا، خانہ جنگی شروع تھی، عوام قحط سے دو چار تھے۔ ملک کا امن وامان غارت ہوچکا تھا۔حافظ جیسے انسان  کا ان حالات سے متاثر ہونا قدرتی بات ہے۔ انہیں جب انسانی مصائب کا کوئی  مداوا نظر نہیں آتا تو وہ رنج واندوہ کی دنیا میں ایک ایسا خیالی گوشہ بنالیتے ہیں جہاں انہیں اطمینان نصیب ہوجاتا ہے، گویا وہ زندگی سے ایک طرح سمجوتہ کرلیتے ہیں۔ اسی سمجھوتے کو فلسفیانہ اصطلاح میں  فرار کہا جاتا ہے ۔

من این مقام بدنیا  و آخرت  ندہم        اگر  در پیہم افتند ہر دم انجمنی

ہر آن کہ کنج قناعت بگنج دنیا داد                   فروخت یوسف مصری بکمترین ثمنی

ر۔         ذکر شراب۔ حافظ شیرازی شراب کو رنج والم کا مداوا خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف یہی ایک چیز ہے جس سے زندگی کی تلخیوں کو بھلایا جاسکتا ہے ۔

ساقیا  برخیز ودردہ جام را             خاک برسرکن غم ایام را

                        حافظ شیرازی کی سرمستی اور سرشاری اس لیئے نہیں ہےکہ حواس کچھ عرصے کے لیئے معطل ہوجائیں بلکہ اس لیئے کہ حواس بیدار تر ہوجائیں۔ اس حالت میں اگر محبوب ان کا ساتھ دے تو وہ اپنے میں یہ صلاحیت بھی پاتے ہیں کہ ناموافق ماحول بدل کر اسے اپنی منشائ کے مطابق بنائیں چنانچہ اپنی مستی وسرشاری کی کیفیت کو ذیل کے شعر میں پیش کرتے ہیں ۔

بیا تاگل افشانیم ومےدر نمراندازیم     فلک را سقف  بشگا فیم وطرح نودرانداز یم

شراب پی کر انسان گناہ کاتو مرتکب ہوتا ہے لیکن حافظ شیرازی کے نزدیک شراب پینا بہر حال وقف شدہ مال کھانے سے سے بہتر ہے ۔

                ترنم ونغمہ۔   حافظ شیرازی کی غزلیات میں ترنم اور نغمے کا پہلو بھی بہت نمایاں ہے۔ترنم عموما حروف علت کی تکرار سے پیدا ہوتا ہے لیکن حروف علت کے ساتھ  جب حروف کی ہم آہنگی شا مل ہو جاتی ہے تو نغمہ کی سی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ صورت اور نغمہ کا حسین امتزاج حافظ شیرازی کی غزلوں میں اکثر نظر آتا ہے ۔

غلام نرگس مست تو تاجدار نند        خراب بادہ لعل تو ہو شیار ا نند

بفرم تو بہ سحر گفتم اشخارہ کنم     بہار تو بہ شکن می رسد چہ چارہ کنم

                ذکر صوفی۔  حافظ شیرازی کے اشعار میں جہاں کہیں لفظ صوفی آیا ہے اس کا مہفوم بہت مختلف ہے اس کی وجہ غالباّ اس زمانے کے صفیائ کا کردار ہے۔ یہ صو فیائ مختلف گروہوں میں بٹے ہوے تھے ہر گروہ کا مسلک جدا تھا ایک گروہ دوسرے گروہ کو برا کہتا ۔ہر گروہ چاہتا تھا کہ حکمران کا زیادہ سے زیا دہ قرب حاصل کرے چنانچہ مبارزالدین جو بہت سخت گیر اور تنک نظر شخص تھا ،جب مذہب کے نام پر سخت کڑی قیود کرنا چاہتا تو وہ صوفیائ سے باآسانی جواز کی سند لے لیتا ۔ان لوگوں کی قول و قرار میں بہت زیادہ فرق آگیا تھا۔خلو ص کی جگہ ریا کاری نے لے لی تھی۔ حافظ کو بھی ان کی منافقت کی وجہ سے طرح طرح کی اذیت اٹھانی پڑتی۔ اس لیے جہاں وہ صوفی اورواعظ کا ذکر کرتے ہیں اس میں کچھ انتقامی جزبے کا بھی رنگ ہوتا ہے اور جہاں کا بھی کہیں رندوں کا ذکر ہوتا ہے اس سے عارف اور صوفی صافی مراد لیتے ہیں ۔

صوفی نہاد دام و سر حقہ باز کرد                                   بنیاد کرد بافلک حصہ باز کرد

ای کیک خوش خرام کجامی روی نیاز            نمرہ مشو کہ گربہ زاہد نماز کرد

حافظ مکن ملامت رندان کہ درازل               ما را خدا زہد دریابی نیاز کرد ۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply