سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر


سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر

                تعارف۔ بابا طاہر عریاں ہمدان کے رہنے والے تھے۔ساری زندگی درویشی  میں گزاری اس لئے عمر بھر گوشہ نشین رہے۔ تاریخ ادبیات میں تین لفظ سے جو ان کی شخصیت کو متعارف کراتے ہیں ،،بابا،، سے ظاہر ہے کہ وہ بڑی عمر کو پہنچ چکے ہوںگے جب وہ مشہور ہوئے اور “طاہر” نام تھا۔مکمل نام معلوم  نہیں۔عریاں سے تخلص یا لقب قیاس ہے کہ ظاہری لباس سے بے  پرواہ ہوںگے اور صرف ستر  ڈھانپتے ہوںگے یا یہ کہ وہ دل کی باتیں کہنے میں بےباک ہوںگے یعنی ہر بات اعلامیہ کہتے ہوںگے۔ بعض صوفیائے  کرام کے تذکروں میں البتہ آپ کی ریاضت، درویشی، تقوی اور استغناء کا ذکر آتا ہے اور یہ بھی پتہ چلتاہے کہ 447ھ بمطابق 1055 ئ میں اولین سلجوقی بادشاہ ظفرل بیگ سے آپ کی ملاقات ہوئی تھی۔

                        بے باک  طبیعت کا مالک۔    پروفیسر براؤن ،،راحت الصدور،، کےحوالے سے لکھتے ہیں۔ میں نے سناہے کہ جب سلطان ظفرل بیگ ہمدان آیا تو یہاں تین بزرگ صوفی بابا طاہر، بابا جعفر اور شیخ حمشہ اکھٹے رہتے تھے۔ یہ تینوں ہمدان کی پہاڑی خضر پر کھڑے تھے۔ سلطان کی نظر ان پر پڑی تو فوج کو ٹھرنے کا حکم دیا۔  تعظیما گھوڑے سے اترا،   آگے بڑھ کر ان بزرگوں کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔ بابا طاہر نے کہا ،،اے ترک بادشاہ خدا کے بندوں کے ساتھ  تم کیسا سلوک کروگے ؟  سلطان نے جواب دیا ،،  جو آپ مجھے حکم دیں گے ،،  بابا طاہر نے کہا،،تمہیں وہ کرنا چاہئے جو خدا کا حکم ہو۔بے شک خدا عدل و انصاف اور نیکو کاری کا حکم دیتا ہے ۔  یہ سن کر ظفرل  آبدیدہ ہوگیا اور کہنے لگا، میں اس کے حکم کی پیروی کرونگا ۔بابا طاہر کے ہاتھ میں مٹی کے لوٹے کا ٹوٹا ہوا دستہ تھا۔  ہاتھ اٹھا کر کہا کیا میری طرف سے یہ ﴿ہدیہ ﴾ قبول کروگے؟سلطان نے کہا ،،بسر  و  چشم،، بابا طاہر نے یہ دستہ سلطان ظفرل کی انگلی میں ڈال دیا اور اور کہا بس اسی طرح دنیا کی بادشاہت بھی تیرے ہاتھ آگئی۔ عدل وانصاف سے حکومت کرنا ،،  کہا جاتا ہے کہ ظفرل  اس دستے کو اپنے تعویزوں میں رکھا کرتا اور جب کسی مہم پر جاتا تو یہ دستہ انگلی میں ڈال لیتا ۔

                        طبیعت  کی  حساسیت ۔    بابا طاہر حساس اور درد مند دل رکھتے تھے، ان کی یاد گار چند قطعات ہیں جو رباعیات کے نام سے مشہور ہیں۔  یہ قطعات بابا طاہر کے قلبی سوزوگداز کا پتہ دیتے ہیں اور بہت شیرین اور موثر انداز میں لکھے گئے ہیں ۔

                        مسٹر ہیرن ایلن  کی  نظر  میں بابا  طاہر  کا  مقام۔خفان بابا طاہر ،،کے نام سے انگریزی نثر میں ان کا ترجمعہ کیا ہے جس کے ساتھ   مسز الزبتھ کرٹس برین ٹن کا منظوم ترجمعہ بھی شامل ہیں۔ بابا طاہر کے یہ قطعات مقامی بولی لُری میں لکھے گئے ہیں جو پہلوی زبان سے قریب تر ہے ۔

                        انداز  بیان۔    بابا طاہر کا انداز بیان سادہ ہے، خیالات بھی سادہ ہیں، ان میں فلسفہ یا گہرائی بھی نہیں ہے۔ آپ کے کلام میں بالعموم ان ہی واردات اور کیفیات کا ذکر ہے جن سے ہر صاحب دل کو واسطہ پڑھتا ہے۔ جو شخص ان کے کلام کو پڑھتا ہے وہ  یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے ان کے دل کی ترجمانی کی ہے۔ آپ کے قطعات میں اخلاق و عرفان،  ہجرو فراق، درد و غم میں دینی حالت و کیفیت کا اظہار بہت دلکش انداز میں کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے فقیرانہ اور دلیرانہ زندگی اختیا ر کر رکھی تھی جس کا نقشہ  وہ اپنے اشعار میں بیان کر تا ہے۔ راہ سلوک پر چلنے اور محبوب حقیقی تک جا ملنے کیلیے جو تکالیف اور اذیتیں اٹھانی پڑھتی ہیں، بابا طاہر ان کا نمونہ اپنے اشعار میں یوں بیان کرتا ہے ۔

مو آن رندم کہ نا مم بی قلندر                          نہ خان دیرم نہ مان دیرم نہ لنگر

چو روج آیہ بگر دم گرد کو یت                         چو شو آیہ بہ خشتی و انہم عسس

یہ تو تھی بابا طاہر کی بیرونی کیفیت،  اس کی اندرونی کیفیت یہ تھی کہ وہ آتش عشق میں جل رہے تھے اور دل فراق یا ر میں جھلس رہا تھا۔ ملا حظہ فرمائیں ؛

دلم از دست عشقت کثیرہ ویژہ                 مژہ برہم زنم سیلابہ خیژہ

دل عاشق دربان چوب تربی              سری شورہ سری خو نا بہ ریژہ


About admin

Check Also

کیمیائے سعادت

شاہنامے فردوسی کا تاریخی پس منظر

  شاہنامے فردوسی کی تاریخی اہمیت۔     شاہنامہ فردوسی ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ اس …

Leave a Reply