Home / Persian Poets / سبک ہائی شعر فارسی (PERSIAN POETRY)

سبک ہائی شعر فارسی (PERSIAN POETRY)


سبک ہائی شعر فارسی (PERSIAN POETRY

             تعارف۔    سبک اس مخصوص اسلوب نگاری کو کہتے ہیں جس کی پیروی شعراء جماعتی حیثیت میں کرتے ہیں۔ کسی اسلوب نگاری کی پیروی کیلیے ضروری ہے  کہ مضمون  کی  بندش  ایک سی ہو،  ایک جیسی تشبیہوں اور استعاروں  سے  کلام  مزین ہو،  ایک سے انواع شعر پر طبع ازمائی کی جائے  اور انداز فکر بھی ایک جیسا ہو ۔ مختلف سبک ھائی  شعر فارسی درجہ ذیل ہیں۔

الف۔      سبک  عرب

ب۔         سبک  خراسانی

ج۔         فارسی شعر و ادب کی دوبارہ ترویج واشاعت

د۔          سبک  خراسانی کی خصوصیات

ذ۔          سبک  ہندی

ر۔         سبک  ہندی  کے شیدا ئی

ز۔         سبک  ہندی  کی خصوصیات

س۔        خلاصہ

             سبک عرب۔    عرب کے قدیم شعراء  کے  کلام  کےدیکھنے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے  کہ وہ عمو ما ویران مقامات پر انسو بہاتے ہیں۔ دربار محبوب کی مدح سرائی کرتے ہیں، دیار جانان کے اشتیاق میں  کوسوں تک قافلوں میں سفر کر تے ہیں۔  ان کے کام میں راتوں کی تاریکی،  تاروں کی چمک دمک،  بیابانوں  وسحراوں کی وسعت اور  رعدو برق کی کڑک چمک  کا  اکثر ذکر آتا ہے۔  وہ اپنا حسب نسب اور اپنی شجاعانہ   کارنامے بڑے فخر سے بیان کر تے ہیں۔ گھوڑوں اور اونٹوں  کی برق رفتاری  اور تلواروں کی تیز دھاروں کی تعریف کرتے ہیں اور قبیلے کی آن پر کٹ مرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں منطقی استدلال نہیں پایا جاتا اور ایک خیال دوسرے خیال سے مربوط نہیں ہوتا۔  ان کے کلام میں صنائع  تو نہیں لیکن پختگی اور متانت بہت ہوتی ہے۔ اس قسم کے اسلوب نگارش کو  سبک عرب کہتے ہیں۔ اگر کوئی شاعر مندرجہ بالا  ذکر  کیا  گیا  اسلوب کی پیروی کریں تو اس  کو  سبک  عرب  کا  پیروکا ر  یا  سبک  عرب  کا  ہیرو  کہا جائے گا ۔ ایران کا پہلا شاعر منوچیری ہے جس نے سبک عرب کی پیروی کی ہے اور اس پر  فخر بھی کیا ہے۔ اس نے بعض قصائد ایسی بحروں میں  لکھے ہیں جو صرف عربی شاعری کے لیئے موزوں ہیں ۔مثلا ،  اس  کا ایک قصیدہ مطلع ذیل سے شروع ہوتا ہے۔

فعان ازین غراب بین و دائی او                    کہ درنو افگندم آن نوائی او

             اس قصیدے کی بحر فارسی شاعری کے لیئے ہر گز موزوں نہیں  ہے۔ منوچیری نے سبک عرب کی اور روایتوں کی پیروی کے ساتھ یہ  پھر مناسب سمجھا ہے کہ ان کا مخصوص وزن بھی اختیار کرے۔غراب اہل عرب  کے نزدیک  ایک پرندہ  ہے، ان کے اشعار میں غراب اور نوای غراب کا اکثر ذکر آتا  ہے ۔منور چیری نے لفظ  غراب بین  لکھ کر عرب ہی کی پیروی کی ہے۔ حدی  عربوں کا ایک خاص لفظ  جس سے  بیابانوں کی وسعت، قافلوں کا سفر  اور گونجتی ہوئی  بانگ  رمیل کا سماں آنکھوں میں آجاتا ہے۔ یہ لفظ  منو چیری کے کلام میں اکثر آتا ہے۔ اخلاق و دمن، حدیث  قافلہ، منزل، وصف بیابان، صحبت خارمغیلاں، ساربان  اہل عرب کے خاص کلمات  وتراکیب ہیں، منوچیری کے قصائد کے علاوہ امیر معزی کے  قصائد میں بھی ان کا ذکر آتا ہے ۔مثلا

اے ساربان منزل مکن جز در دیار یارمن

 تایک زمان زاری کنم برربع واطلال ودمن

ربع ازد لم پرخون کنم خاک ودمن گلگوں کنم

اطلال راجیحون کنم از آب چشم خویشتن

آن جاکہ بود آن دلستان با دوستان در بوستان

شد گرگ و روبہ زا مکان شدگور و کرگس را وطن

             سبک خراسانی۔   ایران میں عربوں کا  تسلط ہوا تو  ایران کی زبان پہلوی کی جگہ رفتہ رفتہ عربی نے لے لی، لیکن جب بنو عباس کی خلافت 749ئ میں  قائم ہوئی تو ایران  میں حب  الوطنی کی روح بیدار ہوئی اور ایرانی علمائ اور شعرائ  نے فارسی  زبان  پر توجہ دی۔  چنانچہ خراسان کی وسیع اور حسین سرزمین  پر فارسی  زبان و ادب نے دوبارہ  جنم لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے آل طاہر  صفار ،اور آل سامان کی خود مختار  وطنی حکومتیں  یہیں قائم ہوئیں اور یہی سے ایران کی قدیم بنیادیں پھر سے اٹھائی گئیں۔  اور یہاں سے حکمرانوں نے شعرائ وعلمائ کو فارسی  زبان و ادب کی طرف متوجہ کیا۔ ابو سلیک گرگانی، شہید بلخی ، رودکی،  ابوشکور،  بلخی، دقیقی، لسائی مروزی اس زمانے کے مشہورشاعرتھے جنہوں نے فارسی میں قصیدے   کہے۔

             فارسی شعر و ادب کی دوبارہ ترویج واشاعت۔  سامانیوں کی حکومت ختم ہوئی تو 962ئ میں غزنوی دور کا آغاز ہوا جو ایران میں 1032ئ تک قائم رہا۔  غزنوی حکومت کا مرکز بھی خراسان ہی تھا۔  انہوں نے اپنے پیشرو  حکمرانوں کی پیروی کی۔ علمائ اور شعرائ کو سرکاری دربار  میں جگہ ملی اور فارسی شعر و ادب کی ترویج واشاعت ہونے لگی۔ عنصری، فرخی، منو چیری،  فردوسی، مسعود سعد سلمان  جیسے درخشاں ستارے آسمان ادب پر چمکے۔ ان کی سخن سرائیوں سے شعر و ادب کا پایہ  اور بھی بلند ہوا۔ غزنویوں کے آخری تاجدار مودود بن مسعود کو سلجوقیوں نے شکست دے کر غزنوی عہد کا خاتمہ کیا اور سلجوقیہ عہد کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے خراسان کے ساتھ  عراق کو بھی سلوقی حکومت کا مرکز بنایا ۔سلجوتی حکمران اگرچہ بیابان نشین تھےلیکن شعر وادب کی ترقی میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان کی  فیاضیوں کا یہ اثر ہوا کہ ،خیام ،انوری ،ادیب  صابر ،اور امیر معزی ایسے نامور شعرائ نے  شعرو ادب کے سرمائے میں اور اضافہ کیا ۔ان سب شعرائ کا ایک خاص  اسلوب نگارش ہے۔ ایران کے پہلے شاعر رودکی ہیں  جنہوں نے فارسی  تشبیب وقصیدہ میں خاص ادبی روایات قائم کی اور اس طرح ایک خاص سبک شعرو جود میں آیا۔  اس کا بانی خراسان کے سامانی دربار سے وابستہ تھا۔ جو طاہریوں اور صفاریوں کا بھی گہوارہ  تمدن رہ چکا ہے۔ اس لیئے سبک شعر  سبک خراسانی کے نام سے موسوم ہوا۔

             سبک خراسانی کی خصوصیات۔ سبک خراسانی کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔

ا)         سبک خراسانی کے پیرو طویل قصیدے لکھتے ہیں۔ ان کے خیالات میں منطقی استد لال پایا جاتا ہے۔

ب)         قصائد  کے الفاظ پر شکوہ ہوتے ہیں۔

ج)         حسن کلام کے لیئے تشبیہوں اور استعاروں سے کام لیتے ہیں۔ یہ تشبیہیں اور استعارے  عموما قدرتی اور فہم انسانی کے قریب تر ہوتے ہیں۔

د)         مضامین میں تسلسل اور ترتیب پائی جاتی ہے ۔

ذ)         سبک خراسانی کے پیروی کرنے والوں محبوب موضوعات مناظر قدرت  اور مظاہر فطرت ہیں۔ مثال کے طور پر فرخی اور ابو شعیب صالح ہروی کے چند شعر پیش کیئے جاتے ہیں ۔

تاپر ندنیلگوں بر روی پوشد مرغزار

پرنیارا  ہفت رنگ اندر سر آرد کوہسار

سبزہ اندر سبزہ بینی چون سپہر اندر سپہر

خیمہ اندر خیمہ بینی  چو حصار اندر حصار

دوزخی کیشی،بہشتی روی و قد

آہو چشمی، حلقہ زلفی، لالہ خد

لب چنان کز خامہ نقاش چین

 برچکد  بر سیم از شنگرف ھد

             سبک ہندی۔ فارسی شاعری کا ایک اور اسلوب سبک ہندی ہے۔ سبک ہندی، سبک عراقی اور سبک خراسانی  سے بعض  اعتبار سے مختلف  ہے۔ یہ تو اندازہ نہیں لگایاجاسکتا کہ سبک ہندی کا آغاز کہاں ہے، البتہ قرائین سے پتہ چلتا ہے کہ جب فارسی ادب پر ترکی طرز فکر  اثر انداز ہوا تو شاعری کی ایک نئی روایت قائم ہوئی جس نے بعد میں سبک ہندی  کا نام پایا۔

         سبک ہندی کے شیدائی۔  جب ایران میں  1038ئ میں  سلجوقی دور کا آغاز ہوا  تو اس قبیلے کے کچھ لوگ   روم میں بھی پہنچے اور وہاں بھی انہوں نے سلجو قی حکومت قائم کی۔  ایران اور روم کے سلجو قی ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے،  چنانچہ ان کی باہمی روابط و تعلق  کی وجہ سے رومی دربار میں  میں بھی فارسی کا چر چہ  ہوا۔ اس تعلق کی بناء پر  کئی عارف مثلا شہاب الدین سہروردی، نجم الدین  راضی اور مولانا جلال الدین کے والد مولانا بہاو الدین  روم آئے اور  قونیہ میں مستقل سکونت  اختیار کی۔ ان کے آنے سے فارسی زبان و ادب  کی بھی اشاعت ہوئی۔  رفتہ رفتہ ترکی اور فارسی کے امتزاج سے ایک نیا فارسی ادب پیدا ہوا  جس کا بانی مولانا جلال الدین کا بیٹا   سلطان مصنفِ ابتداء نامہہے۔ نئے فارسی ادب میں یہ خصوصیت پیدا ہو ئی  کہ کلمات تراکیب اور اصطلاحات  تو وہی پرانی رہی لیکن  انداز فکر رومی ہو گیا۔  خیال بندی ترکوں کے امتزاج کا خاصہ تھا  جیسا کہ ترکی شاعری سے پتہ چلتا ہے ، اس لیے فارسی شعراء ادب  میں بھی خیال بندی کا   عنصر  شروع ہوا ۔  اس سے رفتہ رفتہ ایران کے  وہ شعراء بھی متاثر ہوگئے جو تیموری اور ترکمان درباروں سے وابستہ تھے۔ خیال بندی کا یہ اسلوب ہی بعد میں سبک ہندی کے نام سے موسوم ہوا۔ یہ نیا انداز تیموری دور کے بادشاہوں کو بہت پسند تھا۔ اخری تیموری بادشاہ سلطان حسین بایقرا اور اس کا وزیر امیر علی شیرنوائی تو اس اسلوب کے شیدائی تھے۔  اس لیے شعرا بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ بابا افغانی نے بھی اس اسلوب کی پیروی کی  چنانچہ ہمیں اس کلام میں  سبک ہندی کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔ خیال بندی کا یہ اسلوب   ہندی ذہنوں سے قریب تر تھا،  اس لیے پاک و ہند کے شعراء نے اس اسلوب  کو ترقی دیکر اس کو ایک عروج تک پہنچایا۔ یہ نئی ادبی صورت ہمیں اس  وقت نظر آتی ہے  جب ایران میں صفوی حکومت  قائم ہوئی اور پاک و ہند میں مغلیہ  حکومت کا علم لہرایا۔  اکبری دور کے کم و بیش تمام شعرء اسی سبک شرر کے  پیرو ہیں،  چنانچہ فیضی، عرفی، نظیری جیسے جلیل القدر شعرائ کا اسلوب بیان اس نئی ادبی روایت یعنی سبک ہندی کا احسان مند ہیں۔ اکبر دور کے بعد جہانگیری اورشا ہ جہان کے عہد  میں طالب،  ابو طالب کلیم،  صائب  اور قدسی مشہدی وغیرہ شامل ہیں۔ اہم شعراء نے  جو نغمے لکھیں ہیں، انکی تان غالب پر آکر ٹوٹی۔  غالب سے پہلے  بیدل  اور ناصر علی سر ہندی ہوئے۔

persian poets

         سبک ہندی کے خصوصیات۔  سبک ہندی کے خصوصیات مندرجہ زیل ہیں۔

ا)         خیال بندی ۔   سبک ہندی کی نمایاں خصوصیت خیال بندی ہے۔ شاعر ایک خیال سے کچھ اس طرح نکتہ آفرینیاں  بیان کرتا چلا جاتا ہے کہ شعر و فکر کا ایک تار عنکبوت بن کر رہ جاتا ہے۔ عرفی اور غالب کو  اس فن میں کمال حاصل ہے۔  مثال کے طور پر عرفی کے ذیل اشعار  سے خیال مندی کی مثال واضح ہو جاتی ہے۔

آنکہ چون در کتف  چتر ہمایوں

ہم عنان ظفر از راہ  غزا  گردد باز

زہرہ گیسو بکشاید کہ شود  گرد فشان

از رکابش  پزیرفتہ   غبار از  تگ  و تاز

فتح گوید چہ کنی چشم من است این نہ رکاب

سرمہ چشم جہان بین  مر ا پاک مساز

ب)         شاعر کے ممدوح جب مبارک چتر کے سائے میں میدان کارزار  سے لوٹتے ہیں، تو ان کی رکا بیں  گرد آلود ہوتی ہیں۔ عرفی کا خیال بندی دیکھیں  کہ زہرہ اپنی زلفیں کھول دیتی ہے  تاکہ رکا بوں کے گرد جھاڑ دے۔ فتح پکار  اٹھتی ہے تو کیا کر تی ہے۔ اس کی رکابیں نہیں جنہیں تو جھاڑنا چاہتی ہے، یہ تو میری آنکھیں ہیں پھر جیسے تو گرد سمجھ رہی ہے۔یہ سرمہ ہے، جس نے میری نگاہ کو جہان بین بنادیا ہے۔ مجھے اس سے کیوں محروم کر تی ہو ۔

ج)         وجدانی اور ذوقی باتیں۔  سبک ہندی کے پیرو وجدانی اور ذوقی  باتوں کو کچھ اس طرح بیان کر تے ہیں  کہ وہ مجسم ہو کر  سامنے آجاتی ہیں۔ ان کے محبوب  کی ہر ایک ادا دلنشین ہوتی ہے،  لیکن اداوں کا ایک تعلق ذوق اور وجدان سےہے۔ ان کا ذکر نظیری نے اس طرح کیا ہے  کہ گویا وہ مجسم چیز ہے، ان سے بلا ارادہ  فعل بھی سر زد ہوئے ہیں ۔

ز فرق تا  بقدم ہرکجا کہ می نگرم

کرشمہ  امن دل می کشد کہ جا این است

مفوم۔      یعنی محبوب کی ہر ادا میں اتنی تسخیر ہے  کہ دامن دل پکڑ  پکڑ کر کھینچتی ہے  کہ بس یہی کے ہوکے رہو۔

د)         شاعرانہ تھلی۔  شاعرانہ تھلی بھی  سبک ہندی کی خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔ سبک ہندی کے پیرو  اپنی بلند مقام کا بڑے فخر  اور غرور سے ذکر کرتے ہیں مثلا صائب کا شعر ہے ۔

ز صد ہزار  سختور کی در جہان آید                        یکی چو صائب   شور یدہ   حال بر خیزد

                 خلاصہ۔      ایران کے غزل سراوں نے بارہویں صدی ہجری تک سبک ہندی کی پیر وی کی،   لیکن یہ سبک شعر اہل ایران کے مزاج  کے موا فق نہ تھا، اس لیے رفتہ رفتہ  انہوں نے اس کی پیر وی سے ہاتھ اٹھالیا۔   یہاں تک کہ قاچاری دور میں سبک قدیم  کے احیائ کیلیے ایک نئی تحریک چلی جس کیوجہ سے ایرانی شعراء نے  پھر سبک خراسانی  اور سبک عراقی کی طرف رجوع کیا اور سبک ہندی کو قصہ ماضی سمجھ کر بھول گئے۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply