سامانی دور کا فارسی شاعر رودکی کی تصنیفات اور اسکی خصوصیات پر مختصر نوٹ


سامانی  دور  کا  فارسی  شاعر  رودکی  کی  تصنیفات  اور  اسکی  خصوصیات  پر  مختصر  نوٹ 

                        قصیدہ اور رودکی ۔رودکی اپنے قصائد کی وجہ سے بہت مشہور ہوا، اس کے لیئے قصیدوں میں یہ اہتمام کیا گیا کہ پہلے مطلع آتا اس کے ساتھ ہی تشبیب شروع ہوجاتی ہے۔ تشبیب میں شاعر  عموما اپنے محبوب کے حسن و  جمال   کا ذکر کرتا ہے اس لیئے اسے غزل بھی کہاجاتا ہے۔ شروع میں غزل گوئی جداگانہ صنف سخن نہ تھی بلکہ تشبیب ہی کو غزل کہتے تھے ۔تشبیب کے بعد ممدوح کی تعریف ہوتی ہے پھر ممدوح کے حق میں دعا ہوتی ہے آخر میں شاعر ممدوح کو اپنی ضرورتوں کا احساس دلاتا ہے جس کو طلب یا حسن طلب کہتے ہیں۔ جس شعر میں شاعر اپنا تخلص لاتاہے اس کو قطع کہتے ہیں ۔رودکی قصیدے لکھنے کا جو انداز اختیار کیا تھا وہ آج بھی جوں کا توں ہے ۔

                سبک خراسانی۔قصیدے میں رودکی کا انداز سبک خراسانی کہلاتا ہے۔ سبک خراسانی جب کہا جاتا ہے تو  اس سے ایک مخصوص انداز فکر مراد ہوتا ہے جو خراسان کی قدیم شعرا نے اختیار کیا۔ سبک خراسانی کی خصوصیات یہ ہے ۔

ا۔                 سبک خراسانی کے پیرو  قصیدے لکھتے ہیں، ان کے خیال میں منطقی استدلال پایا جاتا ہے۔

ب۔         قصائد کے الفاظ پرشکوہ ہوتے ہیں۔

ج۔            جن کلام کے لیئے تشبہیں اور استعارہ  استعمال کرتے ہیں جو عموما قدرتی اور فہیم انسانی سے قریب تر ہوتے ہیں ۔

د۔                مضامین میں تسلسل اور ترتیب پائی جاتی ہے۔

ذ۔                مناظر قدرت اور مناظر فطرت ان کے خاص موضوع ہیں ۔رودکی کا کلام سبک خراسانی کا عمدہ نمونہ  ہے بلکہ رودکی کو سبک خراسانی کا persian pastپیش رو  سمجھنا چاہئے ۔

                        تاثیر کلام رودکی۔نظامی عروضی سمر قندی نے شعر کی ایک خصوصیت یہ بتائی ہے کہ اس میں اثر ہونا چاہئے جو دلوں کو متاثر کرکے آمادہ حرکت کرسکے۔،مثال کے طور پر رودکی کا ایک قطعہ پیش کیا ہے اور نصر بن احمد سامانی کا ہرات میں موسم گرما میں موسم گزارنے کے لیئے قیام کیا اور کافی عرصہ وہاں ٹھہرا گیا  امرا  نے تنگ آکر رودکی سے کہا کہ آپ کو 5000 دینار  خدمت میں پیش  کیئے جائیں گے تو رودکی نے ایک قصیدہ لکھا اور صبح صبح نصر بن احمد کی خدمت میں لے گیا رودکی نے عشاق راگ میں قصیدہ اور الاپنا شروع کیا ۔

بووی جوی مولیاں آید ھمی۔ یاد یاد مہربان آید ھمی

ریگ آموی دورشتی ہای او۔زیر پایم پرنیان آیدھمی

اب جیچوں ازنشاط روی دوست۔جنگ تارا تا میدان آیدھمی

میرماہ است و بخارا آسمان ۔ماہ سوی آسمان آیدھی

میر بہرو است وبخارا بوستان ۔سروسوئے بوستان آیدھی

ای بخارا شاہ باش وشادزی۔شاہ سویت مہمان آیدھمی ۔

                        رودکی نے آخری شعر سنایا تو بادشاہ اس قدر متاثر ہوا کہ رات کے لباس میں ہی کوچ کا حکم دیا ۔

                        تصنیفات۔ تذکروں  سے پتہ چلتا ہے کہ کلیہ ودمنہ کو فارسی میں نظم کرنے والے رودکی تھے جسے نوشیرواں عادل کے زمانے میں حکیم بزرجمہیرنے ایک مشہور عالم ابن مقفع سے عربی سے پہلوی میں ترجمہ کرایا تھا یہ منظوم کلیہ ودمنہ  اب  ناپید ہے لیکن اس کے بعض اشعار فرہنگ اسد ی  طوسی میں درج کیئے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس نظم سے ان کو چالیس ہزار درھم انعام میں ملے تھے ۔محمد عوفی  لکھتے ہیں کہ رودکی بہت پرگو شاعر تھے اس نے 100 منظوم کتابیں لکھی ہیں ممکن ہے کہ عوفی کا بیان درست ہو لیکن اب رودکی کے ایک دیوان کے سوائے کوئی یادگار باقی نہیں ۔


About admin

Check Also

کیمیائے سعادت

شاہنامے فردوسی کا تاریخی پس منظر

  شاہنامے فردوسی کی تاریخی اہمیت۔     شاہنامہ فردوسی ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ اس …

Leave a Reply