سامانی دور کا فارسی شاعر رودکی کے سوانح عمری



سامانی  دور  کا  فارسی  شاعر  رودکی  کے  سوانح  عمری 

                        سامانی دور کا مشہور ترین شاعر رودکی ہے عبداکریم بن محمداسمعانی (مورخ) نے رودکی کا پورا نام ابو عبداللہ جعفر بن محمد بن حکیم بن عبدالرحمن بن آدم لکھا ہے۔سمرقند کے علاقہ رودک میں ایک چھوٹا سا قصبہ بنج ہے رودکی یہاں پیدا ہوا اور رودک کی نسبت نے رودکی تخلص رکھا ۔

                ابتدائی حالات۔ رودکی ولادت کہیں نہیں ملتی ۔ مگر رودکی کا سال وفات تذکرہ نویسوں نے304ھ  مطابق 916ء کا ہے جو درست نہیں ہے۔محمدعوفی لکھتا ہے کہ رودکی اس قدر ذکی اور تیز فہیم تھا کہ آٹھ سال کی عمر کلام مجید حفظ کیا اور قرات کا فن بھی سیکھا۔ شعر گوئی  شروع کی تو اس میں کمال حاصل کیا، لوگ اس کی بہت قدر کرتے اور احترام سے  استاد کہہ کر پکارتے تھے۔ آواز بڑی دلکش پائی تھی اس نے شاعری کے ساتھ ساتھ موسیقی کی طرف رجوع کیا بربط خوب بجاتا تھا اس لیئے موسیقی کی وجہ سے بھی اس کی شہرت دور دور پہنچی ۔  امیر نصربن احمد سامانی نے اسے قرب خاص بخشا تھا ۔  رودکی  بصارت سے محروم تھا چنانچہ شعرا نے اس کی طرف اشارے بھی کیئے ہیں ۔

استاد  شہید زندہ بالیستی            وآن شاعر تیرہ چشم روشن بین

تاشاہ مرا مدیح گفتندی             با لفاظ خوش ومعانی رنگین

                     Bio graphy of Rodki   محمد عوفی لکھتا ہے کہ رودکی مادر زاد اندھا تھا لیکن ایک جدید ایرانی تذکرہ نویس بدیع الزمان فروزا نفر لکھتے ہیں کہ رودکی آخر میں بصارت سے محروم ہوا یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ رودکی کے اشعار میں بعض تشبیہات ایسی ہیں جنہیں وہی شخص لکھ سکتا ہے جو بصارت کی دولت سے بہرہ ور رہ چکا ہو ۔

چادر کی دیدم رنگین براد

رنگ بسی گونہ برآن چادر را

                رودکی اندھا کیوں ہوا۔ آقای سعید نفیسی لکھتے ہیں کہ رود کی کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیردی گئی   تھی اس کے لیئے انہوں نے قطعی شہادت تو  پیش نہیں  کی البتہ دو قیاسی صورتیں پیش کی ہیں، اول یہ کہ رودکی کو آنکھوں کا ایک عارضہ لاحق ہوگیا تھا جسے ناخنسہ کہتے ہیں اس عارضے سے آنکھوں  میں جھلی سی آجاتی ہے جس سے رفتہ رفتہ بینائی ذائل ہوجاتی ہے۔ جھلی کو جلانے کے لیئے بعض لوگ آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دیا کرتے تھے لیکن بے احتیاطی کی وجہ سے جھلی  جلاتے جلاتے بینائی بھی جاتی رہتی تھی، ممکن ہے کہ رودکی کے ساتھ ایسا ہوا ہو ۔  دوسری صورت  یہ بیان کرتے ہیں  ابوالفضل بلعمی کو  رودکی  بہت عزیز تھا، اسمعیل بن احمد سامانی نے جب ناراض ہوکر بلعمی کو  معزول کیا تو وہ اور اس کے عزیز واقارب بھی مور دعتاب ہوئے، ان میں رودکی بھی تھا، ممکن ہے عتاب ہی کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی ہو ۔

                رودکی کے مدوحین۔ رودکی کا اولین  ممدوح  نصر بن احمد سامانی ہے جس کےدربار کا وہ شاعر تھا۔ رودکی کے اشعار میں تو نصربن احمد کا نام نہیں آتا لیکن اکثر تذکرہ  نویسوں نے لکھا ہے کہ جب نصر بن احمد ہرات  میں ٹھہرا ہوا تھا اور وہاں سے ہلنے  کا نام نہیں لیتا تھا تو اس وقت رودکی ہی نے ایک قصیدہ کہہ کر اسے وطن  واپس آنے پر ابھارا ۔رودکی کا ایک اور ممدوح امیر ابو جعفر حاکم سیستان تھا جس کا ذکر ذیل کے شعر میں آیا ہے ۔

شادی بو جعفر احمد بن محمد                                 آن مرا  آزاد گان ومفخرا یران

خلق زخاک وزاب وآتش وبلوند                   دین ملک از آفتاب گوہر ساسان

                رودکی کے ہم عصر شعر ا۔رودکی کے ہم عصر شعرا میں شہید بلخی،  غیرالادی، مرادی ،ابوالعباس،  ابوالمثل بخامائی ،ابو اسحاق جوئیاری ،خبازی نیشا پوری ،ابو ذرا عہ گرگانی ،عمارہ مروزی ہیں ۔

                علم موسیقی ۔ فریدون مرزا لکھتے ہیں کہ  علم موسیقی میں رودکی بار ید  اور نکیسا سے پڑھا ہوا تھا ۔  چنگ وبربط نوازی میں وہ خاص ملکہ  رکھتے تھے، نظامی عروفی سمر قندی لکھتے ہیں کہ نصر بن احمد کو بخارا سے  واپس لانے کے لیئے اس نے اپنا قصیدہ عشاق راگ میں سنایا تھا۔ اپنے علم موسیقی کے متعلق رودکی خود کہتا ہے۔

بحسن  صوت چو بلبل مقید نظمم  ۔ بجرم حسن چو  یوسف اسیر زندانی

                مقبولیت ۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آل سامان کا نام جس شاعر کی بدولت زندہ ہے وہ رودکی ہی ہے۔ رودکی کے اکثر ہم عصر شعر ا  شاعرانہ رقاب رکھنے کے باوجود اس کی شاعرانہ عظمت کے قائل ہیں۔ معمری گرگانی خود اپنے علم وفضل کا دعوی کرتا ہے لیکن جب رودکی کے مقابلے میں آتا ہے تو دبی زبان سے اپنے حریف کی عظمت کا بھی اقرار کرتا ہے ۔

اگربدولت با رودکی نہ ہمسائم                     عجب ممکن از رودکی نہ کم دا نم

                         عنصری جو غزنوی عہدمیں قصید ے کا استاد سمجھا جاتا تھا غزل میں رودکی کی فنکاری کا معترف ہے۔ شعرا کے علاوہ وہ علماء فضلائ بھی اس کی تعریف کرتے ہیں۔ اسماعیل بن سامانی کا وزیر ابوالفضل بلعمی لکھتا ہے کہ  رودکی  پر  امیر نصر بن احمد اکثر انعام واکرام کی بارش برساتا تھا۔وزراء اورامرائ کی طرف سے بھی اسے گراں قدر صلے ملتے تھے ۔نظامی عروفی سمر قندی لکھتا ہے کہ جب وہ امیر نصر کے ہمراہ ھرات سے بخارا کو چلا توتین  سو  اونٹوں پر اس کا سازو سامان لادا گیا تھا۔ عوفی لکھتا ہے کہ اس کے پاس دو سو غلام تھے اس سے رودکی کی سج دھج کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔

                        افکار  رودکی۔      رودکی کا دل بہت حساس ہے اس لیئے دنیا اور حالات دنیا سے اس کا دل متاثر ہے، کسی کے حالات ہمیشہ ساز گار نہیں رہتے اس لیئے رودکی دنیا کو ہیچ سمجھتا ہے چنانچہ کہتا ہے ۔

این جہان پاک خواب کردار است

آن شناسند کہ دلش بیدار است

جب سب کا انجام ایک جیسا ہے تو غم کھانا عبث ہے ۔

زندگانی چہ  گونہ وچہ دراز ۔                 نہ با  آخرم  و   باید   باز

خواہی اندر عنا  و  شدت  زی                   خواہی اند  ر امان بہ نصیحت وناز

                        رودکی افکار  دنیا ہوتے ہوئے قوی اور توانا دل رکھتا ہے اور دوسروں کو بھی صبر وتحمل کی تلقین کرتا ہے۔ ابوالفضل بلعمی کے بیٹے کی وفات پر مرثیہ لکھا ہے جس میں اسے صبرو تحمل کی تلقین کرتا ہے ۔رودکی دنیاوی نغمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیئے تو کہتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی تلقین کرتا ہے کہ ان نعمتوں پر مغرور نہیں ہونا چاہئے ۔دنیا میں بڑے بڑے عظیم المر تبت لوگ آئے لیکن آخر موت کے سامنے سر جھکاتے ہی ہے۔ انہوں نے بڑے بڑے سے محل تیار کیئے لیکن آخر  سپرد خاک ہوئے۔ دنیاوی نغمتیں سب کے سب چھوڑ گئے اور اپنے ساتھ سوائے کفن کے کوئی چیز نہ لے جاسکے ۔رودکی کو اس شخص سے سخت نفرت ہے جس کے دل میں کچھ اور ہے اور زبان پر کچھ اور جس کی زبان حق آگاہ ہے اور دل کفر آشنا ۔


About admin

Check Also

کیمیائے سعادت

شاہنامے فردوسی کا تاریخی پس منظر

  شاہنامے فردوسی کی تاریخی اہمیت۔     شاہنامہ فردوسی ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ اس …