خلیفہ سوئم حضرت عثمان غنی کے دور خلافت میں تہذیب و تمدن اور کارنامے و فتوحات )24ئ تا 35ئ(


خلیفہ سوئم  حضرت عثمان غنی کے دور خلافت میں تہذیب و تمدن اور کارنامے و فتوحات  )24ئ تا 35ئ(

      حضرت عمر فاروق  نے جب دیکھا کہ ان کی جان خطرے میں ہے اور انکے بچنے کی کوئی امید باقی نہیں تو  آپ نے چھ معتبر صحابہ کی ایک کمیٹی بنائی تاکہ وہ آپس میں بیٹھ کر صلاح مشورے سے کسی ایک کو خلیفہ بنائیں ۔

      انتخاب کمیٹی کے ممبران میں حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت زبیر ، حضرت علی، حضرت عثمان غنی اور  حضرت سعد بن ابی و قاص شامل تھے۔ آپ نے ہدایت دی کہ جس کے حق میں اکثریت رائے ہو،  اسے ان کے انتقال کے بعد تین دن کےاندر خلیفہ منتخب کر لیا جائے لہذا باہمی مشورے سے حضرت عثمان غنی کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔

حضرت عثمان غنی کے کارنامے

     (1 قرآن پاک کے نسخوں کی جمع آوری اورقرآن پاک کی تدوین۔  عرب میں عربی زبان  مختلف لہجوں میں پڑھائی جاتی تھی، اس طرح قرآن پاک مختلف لہجوں میں پڑھا جانے لگا تھا۔ حضرت عثمان غنی  نے سوچا کہیں یہ لہجے بڑھ کر اور کوئی صورت اختیار نہ کر جائیں اور قرآusmanن پاک ایک کی جگہ کئی قرآن پاک نہ بن جائیں، چنانچہ آپ نے حضرت صدیق کے دور میں تیار شدہ قرآن پاک کے نسخے منگوا کر باقی تمام نسخوں کو جلا دینے کا حکم دیا۔ ایک اور وجہ یہ تھی کہ حفاظ کرام  کافی تعداد  میں جنگوں میں شہید ہوگئے تھے اور  آپ  نے تمام قرآن پاک کی جمع آوری  کا ا ہتمام کیا اور تمام ملت اسلامیہ کو ایک ہی لہجے میں قرآن پاک پڑھنے کا حکم صادر کیا تا کہ کسی قسم کے اختلافات پیدا نہ ہوں اور قرآن پاک کا جو نسخہ تیار کرایا ا س کی نقلیں تمام صوبائی حکومتوں میں بھجو اد یں.

2)     افراط زر  اور معاشی اصلاحا ت ۔  آپ کے زمانہ میں مسلمانوں میں خوب دولت بڑھی. آپ نے حضرت عمرفاروق کے قائم کیے ہوئے نظام مال میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ مسلمانوں کو، انکے بچوں کو اور انکی عورتوں کو تنخواہیں بڑی فرض شناسی سے اداکیں، جو حضرت عمر فاروق مقرر کر کے گئے تھے۔ آپ بیت المال سے تنخواہ نہیں لیتے تھے  اور نہ انہوں نے اپنی خوراک اور لباس کے سلسلہ میں بیت المال پر کوئی بوجھ ڈالا تھا۔ وہ ضرورت مند اور مفلس لوگوں کی مدد بغیر حساب کے کرنے کے عادی تھے۔

3)      فوجی اصلاحات۔ حضرت عثمان غنی نے دفاعی اہمیت کے حامل ایم سرحدی اور ساحلی مقام پر فوجی چھاؤنیاں تعمیر  کروائیں۔فوجیوں کی تنخواہ میں اضافہ کیا . مخصوص قبائل پر مشتمل الگ الگ فوجی دستوں کے قیام سے سارے عسکری ڈھانچے کو منظم کیا گیا۔  ہر چھاؤنی میں چاک و چوبند  گھوڑ  سوار  دستے رکھے گئے۔

4)      بحری بیڑے کی تشکیل۔ والی شام حضرت امیرمعاویہ نے حضرت عثمان غنی کی اجازت سے بحری بیڑہ تشکیل دیا۔ سمندری مہمات کا آغاز ہوا۔ رومیوں کو کھلے سمندر میں لڑی جا نے والی جنگوں میں شکست دی۔ مصر اور شام کے ساحلی علاقوں میں بحری جہاز سازی کے کارخانے بنوائے گئے۔

5)    مذہبی خدمات۔   آپ نے تمام  ملک میں مساجد تعمیر کرا ئیں ان میں پانی کا بندوبست کروایا۔ مسجد            نبوی اور مسجدالحرام  میں توسیع کی گئی۔ پتھر، چونے اور سیسے کے استعمال سے مسجدوں کو               خوبصورت بنایا۔ ہر مسجد میں ایک مؤذن کا انتظام کیا۔

6)     رفاہ عامہ۔ آپ کے دور  خلافت میں پہلے شمار رفاہ عامہ کے کام ہوئے. عمارتیں تعمیر  کی گئیں. سڑکیں اور پل                  تعمیر  کیے گئے. مسافرخانے بنوائے، میٹھے پانی کے کنویں کھدوائے گئے اور مدینہ منورہ کو سیلاب سے بچانے              کے لیے بند بنوایا گیا۔

         فتوحات۔   حضرت عثمان غنی  کے دور خلافت کے پہلے چھ سال میں مملکت اسلامیہ کی سرحدیں ایران، چین اور ہندوستان کے ساتھ جاکر ملیں. شمالی افریقہ میں طرابلس،تیونس، مراکش اور الجزائر کے علاقے فتح ہوئے۔ قبرص کا جزیرہ بھی مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔  کابل اور غزنی کے علاقے بھی حضرت عثمان غنی کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کا حصہ بنے.

1)     سکندریہ پر دوبارہ قبضہ۔  سکندریہ میں رومیوں کی کافی تعداد موجود تھی  لیکن وہ حضرت عمر رضی اللہ کی وجہ سے دبے ہوئے تھے, جونہی حضرت عمر فاروق کا انتقال ہوا تو قیصر روم کی مدد سے سکندریہ کے رومیوں نے بغاوت کردی.حضرت عمر و بن ابی وقاص نے رومی بیڑے کو شکست دے کر مار بھگایا اور سکندریہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا، چونکہ قبطیوں نے رومیوں کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ اس لیے انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

حضرت عثمان غنی
حضرت عثمان غنی

2)    مشرقی صوبوں کی بغاوت اور فتوحات۔ حضرت عمر فاروق کے انتقال کے بعد آرمینیا اور آذر بھائی جان کے صوبوں نے بغاوت شروع کردی۔ حضرت عثمان غنی نےان بغاوت کو کچلنے کے لیے حضرت ولید بن عقبہ کو  بھیجا۔ آپ نے وہاں جا کر امن قائم کیا۔ لوگوں نے اطاعت قبول کرلی۔

3)     طرابلس پر قبضہ۔ حضرت عثمان غنی  نے عبداﷲ بن سرح کو حضرت عمر بن العاص کی جگہ مصر کا گورنر مقرر کیا۔ جو ایک نوجوان اور قابل جرنیل تھا۔ اس نے شمالی افریقہ پر فوج کشی کی، اس کے مدد کےلیے حضرت عثمان غنی نےحضرت عبداﷲ کو روانہ کیا۔ ابن زبیر نےمسلسل حملے کرکے طرابلس کے حاکم ضربیر کو صلح کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے پچیس ہزار درہم سالانہ ادا کرنے کے وعدے پر اطاعت قبول کی۔

         جزیرہ قبرص پر قبضہ۔  یہ جزیرہ شام کے ساحلی علاقے کےقریب واقع ہے۔ حضرت عمر بحر ی جنگوں کے خلاف تھے۔ انہوں نے بحری جنگوں کی اجازت نہیں دی تھی۔ حضرت امیر معاویہ شام کے والی مقرر ہوئے تو انہوں نےحضرت عثمان غنی سے قبرص کے جزیرہ پر حملہ کرنے کی اجازت مانگی جو دے دی گئی۔ حضرت امیرمعاویہ نےایک مضبوط بحری بیڑا  تیار کرکے حملہ کر دیا۔اہم قبرص نے سات سو درہم خراج                    دینے کا وعدہ کرکے صلح کر لی، بعد میں اہل قبرص نے بغاوت کر دی۔ حضرت امیرمعاویہ نے پھر حملہ کرکے قبرص پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں ایران اور فارس پرقبضہ  کر لیا گیا۔ عبداﷲ بن عامر نحارستان اور کرمان کے علاقے فتح کر تا ہوا غزنی اور کابل جاپہنچا۔ان علاقوں پر قبضہ ہو جانے سے مسلمان ہندوستان  کی سرحدوں تک پہنچ گئے۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …