Home / Islamic History / خلیفہ دوم حضرت عمر کی دور خلافت میں اسلامی تہذیب و تمدن اور انکے کارنامے

خلیفہ دوم حضرت عمر کی دور خلافت میں اسلامی تہذیب و تمدن اور انکے کارنامے


خلیفہ دوم حضرت عمر  کی دور خلافت میں اسلامی تہذیب و تمدن اور انکے کارنامے

      آپ کے اسلام لانے سے مسلمان اپنے آپ کو مضبوط سمجھنےلگے آپ کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں نے آزادانہ خانہ کعبہ میں نماز پڑھی۔آپ حضرت ابوبکرصدیق کے دور خلافت میں مشیر خاص تھے۔

       تبلیغ اسلام۔   حضرت عمرفاروق اسلامی تعلیمات کا نمونہ تھے۔ آپ کے اخلاق اور اسلامی رواداری  سے متاثر ہو کر رومی سفیر  مسلمان ہو گیا تھا۔ آپ کے  دور خلافت میں ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ نے تمام سالاروں کو حکم دے رکھا تھا کہ جنگ سے پہلے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے۔

       سرکاری بیت المال کا قیام۔    حضرت عمر نے حکومت کا ایک سرکاری خزانہ مقرر کیا جسے بیت المال کہتے ہیں۔ مرکزی بیت المال مدینہ منورہ میں قائم کیا گیا۔ تمام صوبائی حکومتوں میں بھی بیت المال قائم کیے گئے۔آمدن تمام سے وصول ہونے والی رقم صوبائی بیت المال میں جمع ہوتی تھی۔ صوبائی اخراجات  سے جو رقم بچ جاتی وہ مرکزی بیت المال میں بھجوا دی جاتی تھی۔ آپ نے اپنے دور خلافت میں ٹیکس لگا کر                آمدن میں بہت اضافہ کر دیا اور بیت المال کے لیے بہت دیانت دار اور نیک سیرت آدمی مقرر کیا گیا ۔

      نظام عدل و انصاف۔     آپ کی ایک بہت بڑی خدمت یہ تھی کہ آپ نے نظام عدلیہ کا ایسا مثالی ڈھانچہ مرتب کیا کہ جس پر ہر شخص کو باآسانی انصاف مہیا ہو سکتا تھا۔ آپ نے قاضی القضاد منصف قائم کیا جو عدلیہ کا سربراہ ہو تا تھا ۔ تمام شہروں اورقصبوں کے قاضی اس کے ماتحت ہوتے تھے اور قاضی آزادی سے قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کے پابند تھے۔ قاضیوں کا تقرر خلیفہ خود کیا کرتا تھا،  انکی تنخواہ بڑی زumarیادہ تھی اور اختیارات بھی بہت وسیع تھے۔ قاضی خلیفہ کو بھی اپنی عدالت میں طلب کر سکتا تھا۔

         محکمہ احتساب۔   یہ ایک ایسا محکمہ تھا جس کے ذمہ لوگوں کے اخلاقیات کی جانچ کا اختیار تھا  پولیس اور جیل کے ادارے بھی محتسب کی زیرنگرانی کام کرتے تھے۔ پولیس کا کام اندرونی امن و امان قائم رکھنا اور مجرموں کو قاضیوں کے عدالتوں سے سزا ہونے کے بعد جیل میں بند کر نا تھا۔

       عسکری نظام۔   حضرت عمر کے دور خلافت سے قبل کوئی باقاعدہ فوج نہ تھی، لو گ رضاکارانہ طور پر جنگ کے وقت فوج میں شامل ہوتے تھے۔ حضرت عمر نے باقاعدہ فوج بھرتی کی اور انکی تربیت کےلیے              چھاؤنیاں تعمیر کرائیں ان فوجیوں کی باقاعدہ تنخواہ کے علاوہ مال وغنیمت سے بھی حصہ دیا جاتا تھا۔

       اسلامی سکوں  کا اجرا۔    پہلے اسلامی ریاست کا کوئی سکہ نہ تھا۔ غیر ملکی اور ایرانی سونے اور چاندی کے سکے استعمال کیے جاتے تھے۔ حضرت عمر نے مدنیہ منورہ میں اسلامی سکے ڈھالنے کے لیے ٹکسال          قائم کی ۔

        محکمہ ڈاک۔    آپ نے ایک مقام سے دوسرے مقام تک خبریں پہنچانے کے لیے دیوان ایرید    کے نام سے محکمہ ڈاک  قائم کیا۔اس مقصد کےلیے جگہ جگہ مناسب فاصلوں پر ڈاک چوکیاں قائم کی، ان میں تیزرفتار گھوڑے اور اونٹ رکھے۔

       اسلامی کیلنڈر ۔ اسلامی کیلنڈر کی ابتدائ مجلس شوری کے مشورے سے سنہ ھجری سے کی۔

      فلاحی کام۔  آپ نے عوام کی خدمت کو مملکت کی بنیاد قرار دیا۔خلیفہ وقت راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے تا کہ معلوم ہو جائے کہ کوئی حاجت مند تو نہیں ہے۔پا نی کی قلت دور کرنے لیے نہریں کھدوایں جن میں نہر معقل اور نہر امیرالمومنین بڑی شہرت رکھتی ہیں. عراق میں آپ نے زرعی اصلاحات نافذ کر کے زراعت کو ترقی دی۔

       حضرت عمر کے دور کی فتوحات۔   خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق  کے دور خلافت میں شام  اور مصر کے علاقے فتح ہوئے  جن کی تفصیل مند ر جہ ذیل ہے۔

       ایرانی فتوحات۔   آپ کا حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں ایران اور روم کی سلطنتوں کے ساتھ تصادم  ہو چکا تھا۔حضرت عمر فاروق نے اس پر خصوصی توجہ دی۔ آپ نے ایک لشکر حضرت ابوعبیدہ  کی قیادت میں حضرت مثنی بن حارث کی مدد کے لیے عراق  کی سرحد کی جانب بھیجوا دیا۔ دوسری جانب شاہ ایران نے مسلمانوں سے نپٹنے کےلیے اپنے دو اہم سالار   نرمی اور جابان کو بھیجوایا۔

1)      معرکہ غارق۔    حضرت ابوعبیدہ ثقفی کے لشکر کا مقابلہ جابان کی فوج سے 634ئ میں غارق کے مقام پر ہوا ۔جابان  بہادری سے لڑا مگر شکست کھائی۔ جابان کو مسلمان سپاہیو ں نے گرفتار کر لیا لیکن جس مسلمان نے جابان کو پکڑا تھا وہ اسے  پہچان نہ سکا تھا۔ دو غلاموں کے عوض رہا کردیا۔

2 )    جنگ کسکر۔    ایرانیوں  کی دوسری فوج کا سالار  نرمی تھا اور کسکر میں مقیم تھا۔ وہ امداد کا انتظار کر رہا تھا۔ حضرت ابوعبیدہ نے  کسکر کا رخ کیا اور اسے شکست د ے کر ایرانی فوج کو تتربتر کر دیا۔

حضرت عمر
حضرت عمر

3)      جنگ حسیر۔        634ئ میں مسلمانوں اور  ایرانیوں کا مقابلہ دریائے فرات کے کنارے  مردان شاہ  جس کے پاس ایرانیوں کا مقدم اور مقدس جھنڈا درفشکاویانی اس کے سر پر سیانہ  فگن تھا مروجہ مقام پر دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا  درمیان  میں دریائے فرات حائل تھا  حضرت ابوعبیدہ ثقفی نوجوان تھے، انہوں نے تجربہ کار جرنیلوں کے مشورے کو نظرانداز کر کے  دریائے فرات پر پل باندھ کر دریا عبور  کیا اور دشمن پر حملہ کر دیا، ایرانیوں نے اس جنگ میں ہاتھی استعمال کیےتھے۔ مسلمان فوج کے گھوڑے ہاتھیوں سے بدک گئے، اس لیے جم کر نہ لڑ سکے۔ حضرت ابوعبیدہ ایک بڑے ہاتھی کے پاؤں تلے روندے گئے اور          افراتفری پھیل گئی۔ حضرت ابوعبیدہ ثقفی نے مسلمانوں کو بھاگنے سے روکنے کےلیے  پل کی رسیاں توڑ دیں۔ مسلمان سپاہیوں نے در یا میں جان ڈال دی اور چھ ہزار سپاہی مسلمان دریائے فرات کی لہروں کی نظر ہوگئے اور حضرت ثقفی تین ہزار سپاہیو ں کو بچ نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔  اس پل کو حسیرعربی کہتے ہیں، اس لیے اس جنگ کا نام حسیر   رکھا گیا ۔

4)      جنگ لویب۔    حضرت عمر کو مسلمانوں کی شکست کا پتہ چلا تو آپ نے جرید بن عبداﷲ  کو امیر مقرر کر کے مدد روانہ کی۔ مثنی نے اپنی فوج میں ایک نیا جوش پیدا کر دیا ۔ ایرانی  سپہ سالار  علی نے ملکہ پورن دخت کےحکم پر مہران ہمدانی کو روانہ  کیا۔ اس دفعہ بھی  دونوں لشکر کے درمیان دریائے فرات حائل تھا۔ اس مر تبہ ایرانیوں نے دریا عبور کیا۔ جیسے ہی ایرانی لشکر نے دریا عبور کیا تو حضرت مثنی نے بھر پور حملہ کر دیا۔  اس جنگ میں مہران مارا گیا۔ مسلمانوں نےپل پر بھاگتے ایرانیوں کا راستہ روک کر ہزاروں ایرانیوں کو قتل کر دیا ۔

5)              جنگ قادسیہ۔     جنگ لویب  میں ایرانیوں کی شکست نے ایران میں ایک تہلکہ مچاد یا ۔  ایرانیوں نے ملکہ آزرمی پورن دخت کو تحت سے اتار کر اس کے بھائی یزدگردبانیردحرد کو ایران کے تحت پر بٹھا دیا۔ رستم سپہ سالار نے فوج کی خود کمان سنبھال لی۔جب ان حالات کا پتہ حضرت عمر کو ہوا تو انہوں نے عام جہاد کا اعلان کر دیا۔ معتبر صحابہ اکرام جن میں حضرت طلحہ، حضرت زبیر ، حضرت عبدالرحمان بن عوف کو جنگ میں شمولیت کی دعوت دی۔ حضر ت  سعد بن ابی وقاص کو سپہ سالار اعلی مقرر کیا گیا۔ خلیفہ کی ہدایت کے       مطا بق  14 آدمیوں کے وفد نے یزدگرد کو تین شرائط  پیش کیں۔

1)         اسلام قبول کرلو         2)    جذیہ دو              3)      جنگ کر و ۔

      یزدگرد نے تیسری شرط قبول کر لی اور سپہ سالاراعلی کو ایک لاکھ فوج دے کر مقابلے کےلیے بھیجا۔حضرت سعد بن ابی وقاص بوجہ عرق النسائ کی بیماری کے ایک ایک پرانے ایرانی محل کی بالائی منزل  میں بیٹھ کر ہدایات لکھ کر حضرت خالد بن عرقعہ کے ذریعے میدان جنگ میں نائب سالاروں کو بھجواتے پہلے دن ایرانیوں کا پلہ بھاری رہا ، دوسرے دن اونٹوں کو کالے نقاب پہنا کر میدان جنگ میں لایا گیا۔ جس کو دیکھ کر ایرانی ہاتھی بدکنے لگے۔  مسلمانوں کا پلہ اسی دن بھاری نظر آنے لگا۔ رستم نے میدان چھوڑ دیا اور بھاگتے ہوئے ا یک نہر میں جا گرا۔  ہلال نامی ایک سپاہی نے اس کا پیچھا کرکے رستم کو نہر سے نکال کر قتل کر دیا  اور ایران کا مخصوص جھنڈا اور خش کادیانی حضرت فرارا بن الخطاب نے ایرانیوں سے چھین لیا۔  اس فیصلہ کن جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور ایرانی بری طر ح شکست کھا گئے ۔

6)      فتح مدائین۔     فتح مدائین کے موقع پر ایرانی بادشاہ  یزدگردحلو ان کی جا نب بھا گ گیا ۔

7)      جنگ جلوید۔   637 ئ  حضرت عمر نے ھاشم بن عتبہ  12 ہزار فوج لے کر قلعہ کا محاصرہ کیا اور   ایرانی فو ج کو شکست دی۔

8)       حلوان پر قبضہ۔    مسلمان سالار ایرانیوں کے تعا قب میں حلوان جا پہنچا۔ ایرانی فوج  نے مقابلہ کیا، لیکن بھاگ گئے۔ عراق جو ایران کی سلطنت کا حصہ تھا قبضہ کر لیا گیا ۔ یزدگرد نے ہرمزان کو مقابلے کےلیے بھیجوایا۔ہز مزان نے شکست کھائی  اور دربار خلافت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا اور خورستان کا علاقہ مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔اس کے بعد جنگ نھاوند 640ئ میں خونریز جنگ ہوئی جس میں حضرت لقمان سپہ سالار تھے اور ایرانی مردان  شاہ کو شکست دی۔اس کے بعد یزدگرد بھا گ نکلا اور خاقان چین کے پاس پناہ لی۔ اس کے بعد عام لشکر کشی کی اور ہمدان، دے طبرستان،  آزر با ئیجان،  آرمنیا،  فارس، کرمان،سیتان اور مکران کے علاقے فتح کر لیے گئے۔

شامی فتوحات

        دمشق کا محاصرہ۔ حضرت خالدبن ولید اور حضرت ابوعبیدہ دونوں نے دمشق کا محاصرہ  کر لیا۔حضرت خالدبن و لید نے دمشق پر قبضہ کر لیالیکن حضرت ابوعبیدہ اس سے قبل شامیوں سےمعاہدہ کرچکے تھے۔  حضرت خالد بن ولید نےمعاہدے کا ا حترام کرتے ہوئے فتوحہ علاقہ ا ہل دمشق کو واپس کر دیا ۔

       جنگ یرموک۔  خلیفہ اول کے حکم پر حضرت خالد بن ولید  عراق کے محاذ سے شا م کے محا ذ پر منتقل ہو گئے تھے۔ارد ن، دمشق کی  فتح کے بعد دریائے یرموک کے کنارے پہلے سے جمع شدہ فوج سے جاملے ان سے قبل  حضرت ابوعبیدہ،  حضرت عمر و بن العاص،  شرجیل بن حسنہ اور یزید بن ابوسفیان وہاں پہنچ چکے تھے۔ باہمی مشورے سے طے پایا کہ اسلامی لشکر ایک قیادت میں جنگ لڑے چنانچہ حضرت خالد بن و لید کو سپہ سالاراعلی تسلیم کر لیا گیا ۔اسلا می لشکر 38 دستوں میں تقسیم کرکے  ا ٹھارہ درمیان دست ،دس دستے  دائیں اور دس دستے با ئیں جانب مقرر کیے گئے۔ ایرانی فوج تقریبا دو لاکھ تھی ایرانیوں کو جنگ میں شکست ہوگئی۔ ا یک لاکھ ایرانی فوج ماری گئی اور شا می کسی محا ذ پر نہ لڑ سکے اور ہر قل رو م یہا ں سے رو م منتقل ہو گیا ۔

مصر کی فتح؛۔642 ئ  میں مصر  کا  علا قہ رو می سلطنت کا ایک حصہ تھا اس کا وا لی مقو قس تھا ۔حضرت  عمروبن العاص نے خلیفہ سے اجازت لے کر چارہزار فوج کے ساتھ مصر کی جانب پیش قدمی کی۔ اس لشکر کی مدد کےلیے خلیفہ نے حضرت زبیر کو دس ہزار فوج کا لشکر دے کر بھیجا۔ مقو قس سات ماہ تک فسطاط کے قلعہ میں محفوظ رہا آخرکار صلح کر لی اور اس طرح مصر اسلا می سلطنت کا حصہ بن گیا ۔

      سکندریہ پر حملہ۔     قیصر روم کو جب ان حالات کا پتہ چلا تو اس نے بحری راستے سے ایک بڑا لشکر روانہ کیا۔ حضرت عمروبن العاص  نے سکندریہ کا محاصرہ کر لیا جو کئی دنوں تک جاری رہا، آخر کار محاصرہ اٹھانا پڑا کیونکہ سکندریہ  کے قبطیوں نے جذیہ دینے کا وعد ہ کر  لیا اس طر ح مسلما ن واپس آ گے ۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …

Leave a Reply