خاقانی شیر وانی کی حالات زندگی پر نوٹ


خاقانی شیر وانی کی  حالات  زندگی  پر  نوٹ

                  تعارف۔     افضل الدین علی بن خاقانی شیر وانی 520ھ کو  بمقام  شیر وان  پیدا ہوئے۔  آپ کا شمار اول درجے کے مشہور قصیدہ گو شاعروں میں ہو تاہے۔  ذیل  میں  ایک قطعہ لکھا  جارہا  ہے  جس سے اس کے نام کا پتہ چل جاتا ہے۔

بدل من آمدم اندر جہان سنائی را         بدین دلیل  پدر نام من بدیل نہاد

               شروع  میں  انہوں  نے  خقائقی لقب اختیار کیا۔  اسکے  بعد خا قان اکبر   منو چہربن فریدون  شیر وان شاہ سے انتساب کی مناسبت سے خاقانی تخلص پایا۔ خاقانی  شیروانی  کے  زندگی  کا  احاطہ  مندرجہ  ذیل  میں  کیا  جاتا  ہے۔

الف۔        تعارف

ب۔          ابتدائی  حالات

ج۔           ابتدائی  تعلیم


د۔            بے  قرار  روح  کا  مالک

ڈ۔            فریضہ  حج  کی  ادائیگی

ذ۔            جیل  کے  ایام

ر۔            آزاد  خیالی

ز۔            وفات

س۔           ہم عصر شعرائ

ش۔           تصنیفات

ص۔          خصوصیات

ض۔          سبک  عراقی

ط۔            واقعہ نگاری

ظ۔            جذبات نگاری


ع۔             شاعری اور سبک

غ۔            مشکل پسند قصیدہ گو

ف۔           الفاظ اور ترکیبوں کا بادشاہ

ق۔           کلام  پر  دوسرے  شاعروں  کا  اثر

ک۔              خلاصہ

                ابتدائی  حالات۔     خاقانی شیر وانیکے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے بڑی تنگ دستی میں زندگی بسر کی  ہے۔ شروع  میں اس کی زندگی والد  کی کمائی سے بسر ہوتی تھی۔ والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ  آپ کی گزر بسر کیلیے کام کر  تی رہی۔ ان  کی ماں طباحی اور جلدہی کاپیشہ کر تی تھی, جس سے اپنے اور اپنے بیٹے کا پیٹ پالتی تھی۔  شیروان میں  نہ صرف وہ  تنگ  دستی  سے  دوچار تھا بلکہ کئی مصیبتوں سےبھی دوچار تھے۔  یہاں وہ  اپنے  دوستوں کی صحبت سے بھی محروم رہا۔  اس حالت کا ذکر وہ  کچھ  یوں بیان  کر تا ہے ۔

عمر م ہمہ ناکام شد از بیکا ری           کارم ہمہ  ناساز شد از  پی یاری

khaghaniای یار  مگر  تو کارمن بگزاری            اے چرغ، مگر  تو عمرمن باز آری

ایک  اور  جگہ  فرماتے  ہیں۔

در  ہمہ  شیروان  مرا  حاصل  نیمدفیم  دوست              دوست خود  ناممکن  است  اے  کاش  بودی  آشنا

              ابتدائی  تعلیم۔    خاقانی شیر وانیابھی بچہ  ہی تھا   کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کی تر بیت اس کے چچا مرزا کافی بن عثمان نے کی،  جو خود علم طب اور فلسفہ میں بڑی دسترس  رکھتا تھا ۔ حاقانی نے چچا کی رہنمائی میں عربی، علم طب، ہیت   اور  علم  الہیات  کا مطالعہ کیا  اور شعرو سخن کی تعلیم  ابوالعلا  گنجوی سے پائی۔ ان کی بیٹی سے شادی ہوئی اور ان ہی کی معرفت  سے  خاقان اکبر   منو چہر   بن فریدون  شیروان شاہ کے دربار میں رسائی بھی  حاصل کی ۔

                بے  قرار  روح  کا  مالک۔     خاقانی شیر وانیکا ایک جوان بیٹا رشید الدین بیس سال کی عمر میں فوت ہو گیا  جو آپ کیلیے بہت بڑا صدمہ تھا۔    خاقانی شیر وانیکی زندگی کی مصیبتوں کے علاوہ خود  اس کی طبیعت کی آزادی اور دربار کی عامرانہ خدمت  خوداری کے سبب کچھ ایسی کامیاب نہ تھی۔ آپ کو سفر کرنے اور دنیا والوں کو دیکھنے کا بڑا شوق تھا  لیکن خاقان اسے اجازت نہیں دیتا تھا،  چنانچہ وہ سخت پریشان رہتا تھا۔ آخر اس نے ایک مرتبہ خراسان کی سیاحت کی اجازت چاہی  لیکن  خاقان نے منظور نہ کی،  چنانچہ خاقانی شیر وانینے اپنی آزردگی  کا اظہار ذیل کے  شعر  میں کیا   ۔

چہ سبب سوی خراسان شد یم نگزارد         عندلیبم  بہ گلستان   شد نم نگزار د

                آخر کار خاقانی شیر وانیکو سفر کی اجازت مل گئی  لیکن بد قسمتی سے وہ ری تک ہی پہنچا تھا  کہ خراسان میں ترکوں  کی وحشیانہ   ظلم وستم کی خبر ملی اس لیے وہی سے واپس ہو گیا ۔

               فریضہ  حج  کی  ادائیگی۔    خاقانی شیر وانی1156 ء  میں حج کیلیے روانہ ہوئے۔ حج کی پوری تفصیل اس کی مثنوی تحفتہ    العراقین  میں ملتی ہے۔  صبح کے دوران اس نے مکہ معظمہ کی تعریف  میں ایک قصیدہ لکھا ۔ اس مسافرت میں مدائن جانے کا بھی موقع ملا۔ یہ شہر ساسانی کے بادشاہوں کا پا یہ تخت رہ چکا تھا۔ یہاں طاق کسری کی تباہی  اور ایران قدیم کی مٹی  ہوئی شان و شوکت  دیکھ کر خاقانی شیر وانیبہت متا ثر ہوا،  چنانچہ  ایک مشہور قصیدہ   ایوان مدائن لکھا جو خاقانی شیر وانیکی حب الوطنی کے جزبات  کی ایک عظیم  یادگار ہے، جس کا مطلع یہ ہے۔

ہال دل عبرت بین از دیدہ نظر کن ہاں      ایوان مدائن را آئینہ عبرت دان

                 یہ قصیدہ فارسی شاعری کے شا ہکاروں میں شمار ہوتا ہے۔ واپسی پر خاقانی شیر وانیکا گزر اصفہان سے ہوا۔ اصفہان کے متعلق ایک ہیجو خاقانی کے ایک شاگرد فجیر بیلقانی نے لکھ کر خاقانی کے نام منسوب کر دی تھی اس لیے صفہان کے لوگ خاقانی شیر وانی کے سخت خلاف تھے لیکن خاقانی شیر وانینے اصفہان کی تو صیف میں ایک طویل قصیدہ لکھا اور اس طرح اہل  اصفہان نے اس سلسلے میں خاقانی شیر وانیکی صفا ئی کو قبول کر لیا ۔

           جیل  کے  ایام۔   خاقانی شیر وانیدربار خاقان میں پہنچا ہی تھا کہ اس کے حا سدوں نے مشہور کر دیا کہ خاقانی شیر وانی اس در بار سے مطمن نہیں اور کسی دوسرے ممدوح کے تلاش میں ہے۔ خاقانی شیروان سخت ناراض ہوا اور اسے قلعہ شاہ  بیران میں محبوس کر دیا۔ جہاں اس نے اپنی مشہور نظم  جیلہ لکھی۔  اس کے دو شعر مدرجہ  ذیل  ہیں۔

ملک کثر رو  تراست از خط ترسا                         ما دارد مسلسل  راہب آسا

مرا بعد از پنجاہ سال اسلام                                    نز یبد  چون صلیبی  بند بر پا

          آزاد  خیالی۔    آخر خاقانی شیر وانی کی  ولدہ کی سفارش سے قید سے رہائی حاصل ہوئی ۔ تزکرہ نویس بھی یہ لکھتے ہیں کہ خاقان نے چا ہا تھا کہ خاقانی شیر وانیکو دربار کا کوئی  منصب سپرد کر دے لیکن وہ آزاد منش اور بلند ہمت انسان تھا،عزت نفس رکھتا تھا ، حرص اور طمع سے دور رہنا چاہتاتھا اور  عزت و قناعت پسند کرتا تھا۔ طبعاً اسے مدح سرائی پسند نہ تھی لیکن معا شی مجبوری کی وجہ سے وہ نالائقوں کی بھی تعریف کرنے پر بھی مجبور تھا۔ اسے آپنے فراغت  اور آزادی بہت عز یز تھی جسے وہ دولت اور عالم   کے عوض دینے کو تیار نہ تھا  اس لیے زمہ داری قبول کر نے سے معزرت کی  چنانچہ خود کہتا ہے ؟

 گفتی نکنی خدمت سلطان نکنم                     یک لخطہ فراغت بدو عالم نفرو شم

               وفات۔      خاقانی شیر وانینے آخری آیام تبریز میں گزارے اور 1190 میں فوت ہوئے او ر مقبرہ الشعرائ میں دفن ہوئے ۔

            خاقانی شیر وانی کےہم عصر شعرائ ۔   ابوالعلا گنجوی خاقانی شیر وانیکا استاد تھا ۔اس کے علاوہ رشید الدین طواط، جلال الدین اصفہانی ،اثر الدین ،فلکی شیروانی اور  نظامی گنجوی تھے ۔

            تصنیفات ۔

1)        مثنوی تحفتہ العراقین۔ خاقانی شیر وانیکی مسافرت حج کی پوری سرگزشت اس کی مثنوی تحفتہ العراقین میں ملتی ہے۔ یہ مثنوی پانچ مقالوں میں  محفوظ ہے ۔

2)       دیوان۔     خاقانی شیر وانیکا دیوان بائیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے ۔اس میں قصائد  غزلیات ،ترکیب بند،رباعیات اور  قصائد  عربی  شامل  ہیں۔

3)        ختم الغرائب ۔      ایک نامکمل مثنوی ہے ۔

4)        منشات خاقانی۔      خاقانی شیر وانیکے چند مکتوبات پر مشتمل ہے۔

            خاقانی شیر وانی کی شاعری  نہایت محکم اور استوار ہے اور الفاظ  ومعنی کے  لحاظ سے غیر معمولی اور نہایت بلند ولطیف ہے۔ اس کی شاعری کی بنیادی خوبی  یہ ہے کہ  عام سطح سے بلند اور عام ڈگر سے الگ ہے۔  ایسے دقیق اور گہرے معنی  جو  ہر شخص کے خیال میں نہیں آسکتے ہیں  کوبھی نہایت جامع اور فصیح الفاظ کے لبادہ میں  ادا کرتا ہے۔اس کی شاعری کا بڑا حصہ اس قسم کی شاعری پر مشتمل ہے ۔فارسی زبان کی طرح وہ عربی پر بھی عبور رکھتا ہے ۔

           خصوصیات۔     خاقانی شیر وانی نے عربی زبان، اسلامی تاریخ، علم ہیت اور علم الہیات  کا گہرا  مطالعہ کیا تھا۔ اس کا یہ اثر ہے کہ وہ مختلف علوم کی اصطلاحیں اور تلمیحات بے تکلف  ڈلتا ہے۔ پڑھنے والا جب تک ان علوم میں دستر س نہ رکھتا ہو، آسانی سے خاقانی شیر وانی   کےکلام نہیں سمجھ سکتا۔مثلا  مکہ مغظمہ کی تعریف میں قصیدہ لکھا ہے جس کے چند اشعار درجہ ذیل ہیں ۔

تاخیال کعبہ نفش دیدہ جان دیدہ اند

دیدہ را از شوق کعبہ زم  زم افشاں دیدہ اند

عشق بر گردہ بر مکہ آتشی کز مشرق و غرب

کعبہ را ہر ہفت کردہ ہفت مردان دیدہ اند

              اس قسم  کے اشعار کو سمجھنے کے لیئے ادبیات ایران اور اسلامی تاریخ سے آگاہ ہونا ضروری ہے ۔جیسے شعر پڑھنے والے کو جاننا چاہئے کہ ہفت کردہ سے سات سنگھار اور ہفت مردان سے اصحاب کہف یا عارفون کے سات طبقےمراد ہے۔  عطران حضرت عیسی علیہ السلام کا لقب ہے۔

         سبک  عراقی۔ خاقانی شیر وانی کے اشعار میں بیشتر ترکیبیں ایسی ہیں جو سبک خراسانی میں نظر نہیں آتیں یا اگر ہیں بھی  تو بہت کم ہیں۔ اس کی ترکیبوں کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ خاقانی شیر وانی نے سبک خراسانی سے الگ راہ نکال کر سبک عراقی کی بنیاد رکھی ہے۔

        واقعہ نگاری۔        خاقانی شیر وانی نے اپنے ہم عصروں کے خلاف واقعہ نگاری بھی کی ہے۔ اس نے بعض قصیدے خاص  خاص واقعات  پر لکھے ہیں۔ جہاں واقعات کی تصویر کشی کی ہے وہاں کچھ تخیل کا رنگ بھی آگیا ہے۔ حج کو جاتے ہوئے جب خاقانی کا گزر مدائن سے ہوا اور ایوان کسری کی تباہی کا منظر دیکھا تو اس سے متاثر ہوکر  ایک  نہایت پر سنور اور پر اثر  قصیدہ لکھا جس کے دو شعر مندرجہ ذیل ہیں ۔

ہان اے دل عبرت بین ازدیدہ نظر کن ہان ۔ایوان مدائن را آئینہ عبرت دان

گوید کہ تو ازخاکی  ما  خاک تو  ایم اکنون ۔گامی دوسہ برما  نہ اشکی دوسہ ھم بفشان

            خاقانی شیر وانی کو عیسائیت کا مطالعہ کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔  اصل میں خاقانی شیر وانی اپنی عیسائی ماں کی وجہ سے وہ مسیحی روایات سے آشنا ہوا۔ خاقانی شیر وانی کے کلام میں اس کی علمی فضیلت کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کے قصائد میں مسیحی روایات اور اسلامی تعلیمات کے حوالے عام ملتے ہیں۔ وہ عیسائیوں کی اصطلاحات اور ان کی مذہبی روایات کا بےتکلفی سے ذکر کرتا ہے۔ مثلا ایک قصیدے میں مریم مکہ روح القدس، خاطر آبستن خاص قسم کے الفاظ لاتا ہے جو عیسائیوں کی اصطلاحات  ہیں۔ خاقانی کے اکثر قصائد میں ردیف توہیں لیکن قافیہ نہیں ہیں۔مثال کے طور پر ایوان مدائن اور مکہ مغظمہ کی شان میں جو دو قصیدے لکھے  ہیں ان میں قافیہ نہیں۔ خاقانی قصیدے  کا آغاز  تشبب یا تغزل سے کرتا ہے۔ اس میں عموما جلوہ صبح ، طلوع مہر ، عشق یا وصف طبیعت کا ذکر ہے ۔

              جذبات نگاری۔   خاقانی شیر وانی کی شاعری سے جذبات چھلکتے  ہیں،  جہاں کہیں رنج و اندوہ کا موقعہ آیا تومعلوم ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ میں دل کی غمگین صدائیں بند کی ہوئی ہیں کیونکہ اس کی سازی زندگی غم و اندوہ میں گزری ہے ۔

         شاعری اور سبک۔  خاقانی شیر وانی قصیدہ سرا  کی حیثیت سے زیادہ مشہور ہے کیونکہ اس میں مدحیہ مضامین کے علاوہ دوسرے موضوعات پر  اظہار کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ شروع میں تو  وہ شیروان شاہ کے دربار میں قصیدہ گو  کی حیثیت سے ہی داخل ہوا ہوگا۔ چنانچہ خاقانی شیر وانی کی لیاقت و استعداد  اور علم وفضل کی وجہ سے وہ قابل تعظیم وتکریم ٹھرا اور معتمد  علیہ بنا۔  چنانچہ وہ ایک مرتبہ سلطان اور ارسلان کے پاس ایلچی شیروان کی حیثیت سے بھیجا گیا۔ سلطان کی طرف سے اسے جاریہ انعام میں ملی جس کا شکریہ اس نے ایک نظم میں ادا   کیا ۔

             مشکل پسند قصیدہ گو ۔      خاقانی شیر وانی فخریہ اشعار  کہنے سے نہیں چوکتا تھا، چنانچہ وہ شیروان سے اپنی حیثیت کے مطابق انعام واکرام نہیں پا رہا تھا۔  چنانچہ اس نے دوسرے ممدو حین کی بھی تلاش شروع  کی اور دوسروں کے لیئے بھی قصائد لکھے۔ خاقانی  کو عموما مشکل پسند قصیدہ گو کہا گیا ہے اور یہ بات صحیح بھی ہے وہ علمی فضیلت دکھانے کے لیئے ان تمام علوم وفنون کی اصطلاحات اور تلمیحات استعمال کرتا ہے اور جب قاری یا سامع ان اصطلاحات سے آشنا نہ  ہو تومطالب  ومعانی تک نہیں پہنچ سکتا لیکن خاقانی شیر وانی کے سارے قصائد  مشکل ومبہم نہیں  ہیں، جہاں اسے درد دل اور شکایت زمانہ کہنے کا موقع  ملا جذبات و  ہیجانات بیان کیئے ہیں یا تخریث کا اظہار کیا ہے وہاں اسلوب سادہ ،سہل  اور روان واضح وصریح ہے مثلا   قصائد کے مندرجہ ذیل اشعار سے پتہ چلتا ہے ۔

چہ سبب سوی خراسانی شدنم نگزارند              عندلیم بہ گلستان شد نم نگزار ند

آن مصر مملکت تو دیدی خراب شد                  و  ان نیل مکر مت کہ شنیدی سراب شد

             الفاظ اور ترکیبوں کا بادشاہ ۔   خاقانی شیر وانی فارسی زبان کی طرح  عربی زبان پر بھی کافی عبور رکھتا تھا۔  ان دونوں زبانوں کے الفاظ اور ادبی ترکیبوں پر اتنا حاوی ہے کہ ان کو جس طرح چاہتاہے استعمال کرتا ہے۔ الفاظ اور ترکیبوں کا  گویا وہ بادشاہ ہے۔ خاقانی شیر وانی کے کلام میں ضرب المثال،  اشارات، کنایات، حتی  کہ قرآنی آیات کی کمی نہیں ہے۔ کلام  میں شعر ی صنائع کافی پائے جاتے ہیں لیکن اس کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ ان سب میں وہ ایک تازگی پیدا کردیتا ہے۔ یہی خصوصیت اس کی ترکیبوں میں حتی کہ الفاظ کے انتخاب میں پائی جاتی ہے اور یہ خصوصیت اس کو دوسرے شاعروں سے ممتاز کرتی ہے۔ خاقانی شیر وانی نے عنصری کے متعلق ایک قصیدے میں اس کی خصوصیات کو اس طرح بیان کیا۔

مراشیوہ  خاص تازہ است و  راست                   ہمان شیوہ   عنصری ۔

                خاقانی شیر وانی کی شاعری میں  دوسرے ملکوں کی زبانوں کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ عام طور پر خاقانی شیر وانی کے قصیدے نہایت طویل اور مفصل ہوتے ہیں،  زبان، محاوروں اور ضرب المثال پر کامل عبور حاصل ہے۔

            کلام  پر  دوسرے  شاعروں  کا  اثر۔  خاقانی شیر وانی کے کلام پر بڑے بڑے شاعروں، خاص طور  پر  عنصری اور رودکی کا بہت اثر ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ خاقانی شیر وانی نے ان شاعروں کے کلام کا خوب مطالعہ کیا تھا، خاص طور پر عنصری کے کلام کی اس کی نظر میں بڑی وقصت تھی ۔

                خلاصہ۔      مدحیہ قصیدوں میں خاقانی شیر وانی اپنے ممدوح کو انصاف، سخاوت اور دانش  پروری  کی دعوت دیتا ہے۔ نہ صرف سخاوت اور عدل کی ترغیب دیتا ہے بلکہ مستقل طور پر اخلاقی مضامین پر قطعات  بھی لکھے ہیں۔  خاقانی شیر وانی ہمیں برائی سے بچنے کی دعوت دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں نیکی اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔  خاقانی شیر وانی ظاہر پرستی،  منافقت،  چاپلوسی  سے دور بھاگتا ہے اور ہمیں حق پرستی کی دعوت دیتا ہے ۔

 


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply