حکیم عمر خیام کی حالات زندگی یا نظریہ جبر کا پیروکا شاعر عمر خیام


حکیم عمر خیام کی حالات زندگی یا نظریہ جبر کا پیروکا شاعر عمر خیام

                         تعارف۔  عمر خیام کا پورا نام ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشا پوری ہے۔ عمر خیامکے بارے میں متعدد سوانح نگاروں نے اس کا سال پیدائش 408 ھ یا 410 ھ  لکھتا ہے اور سال وفات کے متعلق بھی کوئی  فیصلہ کن بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس نے 526ھ میں وفات پائی ۔ عمر خیام علم ہیت اور علم ریاضی کا بہت بڑا فاضل تھا۔ ان  علوم کے علاوہ شعرو سخن میں بھی اس کا  پایا بہت بلند ہے اس کے علم وفضل کا اعتراف اہل ایران سے بڑھ کر اہل یورپ نے کیا۔

                        علمی فضیلت۔  عمر خیامکو آج کل شاعر کی حیثیت  سے شہرت حاصل ہے لیکن وہ فلسفہ میں بوعلی کا ہمسر اور مذہبی علوم میں امام فن تھا۔ علوم نجوم کا تو وہ ماہر مانا گیا تھا۔بادشاہ وقت خاص خاص تقریبات کی تاریخ مقرر کروانے کیلئے عمر خیام ہی کی طرف رجوع کرتا تھا ۔ایک مرتبہ ملک شاہ  نے شکار کو جانا چاہا ، اس نے عمر خیام سے کہا کہ ایسا دن مقرر کرے کہ دو، تین روز  تک برفباری اور بارش نہ ہو ۔ عمر خیام نے علم نجوم کے حساب سے ایک دن مقرر کیا اور بادشاہ  کو خود سوار کیا لیکن اسی وقت مطلع ابر آلود ہوگیا اور بارش کے آثار نمودار ہوئے۔ لوگ خیام پر ہنسنے لگے ۔ عمر خیامنے بادشاہ  سے مخاطب ہو کر کہا بادل ابھی چھٹ جائیں گے اورمطلع صاف ہوجائے گا  چنانچہ ایساہی ہوا۔ عمر خیام علم طلب  میں بھی بڑی مہارت رکھتا تھا۔ بہیقی لکھتا ہے ملکOmar شاہ کے دربار کا طبیب عمر خیام تھا ۔چنانچہ شہزادہ سنجر مرض چیچک میں مبتلا ہوا تو اس کا علاج عمر خیام ہی نے کیا تھا۔

                        عمر خیام کی آذاد خیالی۔   عمر خیام ایک آزاد خیال فلسفی تھا اور مذہب کے معاملے میں کسی  شدت اور سخت گیری کا قائل نہ تھا، اس لیئے بعض مذہبی علمائ اسے ملحدکہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک ناپسندیدہ اخلاق والا فقیہہ نماز فجر سے پہلے حکیم عمر خیام سے اکتساب فیض کرتا اور جب صبح کے وقت ممبر پر چڑھ کر وعظ کرتا تو حکیم عمر خیام کو ملحد اور بے دین کہتا ۔

                تصنیفات۔   انسا ئیکلوپیڈیا آف  اسلام میں لکھا ہواہے کہ عمر خیام ریاضی میں مہارت رکھتا تھا۔ اس نے عربی زبان میں جبرومقابلہ لکھا  ہےجس کے نسخے لیڈن میں موجود ہیں۔مصادرات پر جو تحقیق عمر خیامنے کی ہے اس کا ترجمعہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔ دنیائے  عرب میں پہلی مرتبہ خیام کی شہرت اس کی ریاضی دانی ہی کی مطلوب ہوئی ۔سید سلمان ندوی نے عمر خیام اور اس کے  سوانح حیات پر نا قدانہ  نظر  میں عمر خیام کی ذیل کی کتابوں کا ذکر کیا ہے ۔

ا۔رسالہ استخراج اضلاع مربعات  وکلعبات۔                 ش۔رباعیات خیام

ب۔رسالہ  جبرو مقابلہ                                        ص۔رسالہ  فی کلیات الوجود

ج۔زیچ ملک شاہی                                              ض۔رسالہ  وصاف ہا رسالہ الوجود

د۔رسالہ شرع ہا اشکل ف مصادرات                      ط۔غرائس النفائس

ذ۔رسالہ مختصر در طبیعات                                  ظ۔نوروز نامہ

ر۔میزان الحکم                                                  ع۔بعض عرب اشعار

ز۔رسالہ سکون والتکلیف                                     غ۔مکالبات خیام فارسی

س۔رسالہ موضوع علم کل موجود

                          وجہ  شہرت ۔مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ اس کی فارسی رباعیات ہیں۔  اس بلند پایہ شاعر کا علمی دنیا سے تعارف کرانے میں اہل یورپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔سب سے پہلے روسی پروفیسر ولنتین ژو کو فسکی نے رباعیات عمر خیام کا ترجمعہ کیا ۔پھر فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی بعض رباعیات کا انگریزی میں ترجمعہ کیا ۔اور بعض اہم مضمون رباعیات کا مفہوم  پیش کرکے کچھ ایسے انداز میں اہل یورپ  کو عمر خیام سے روشناس کرایا کہ اسے زندہ جاوید بنادیا ۔

                رباعیات عمر خیام ۔ عمر خیام جب نجوم ،ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ مسائل سے فارغ ہوتا تو دل اور دماغ  کی تفریحی کے لیئے شعر کی طرف مائل ہوتا۔ عمر خیام کی شاعری کا حاصل صرف اس کی فارسی رباعیات ہیں۔  رباعیوں کی زبان  بڑی سادی ،  سہل  اور روان ہے۔لیکن ان میں فلسفیانہ رموزہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں ۔سب سے پہلے جو چیز عمر خیام کی رباعیوں میں ہمیں  نمایاں نظر آتی ہے وہ  انسانی زندگی  کے آغاز وانجام پر غور وخوص ہے۔اگر چہ انسانی زندگی  مختصر ہے   اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا لیکن دریافت اور جستجو کی ایک امنگ ہے جو انسان کو قانع نہیں رہنے دیتی اور اس کی بدولت وہ اپنے آغاز و انجام  کے متعلق سوچتا رہتا ہے اس کے کانوں میں رہ رہ کر یہ صدا گونجتی ہے ۔

ماز آغاز و انجام جہاں بی خبر یم                      اول وآخر این کہنہ کتاب افتاداست

                        انسان  کی  یہ  بے  خبری، لاعلمی، زندگی کی رفتار اور بے چین روح اسے جستجو اور دریافت  کی راہ  پر لگائے رکھتی ہے ۔

                        ستعراط،افلاطون،ارسطو، عمر خیام ،رازی اور مولانا روم اس  جستجو میں لگے رہے اور تحقیق وتلاش کے راستے تراشتے رہے ۔ عمر خیام کو بھی اسی امنگ نے دریافت اور جستجو میں سر گرم رکھا ۔اس نے یہ جاننا چاہا ہے کہ آنسان کہاں سے آتا ہے؟ اسے کدھر جانا ہے ؟  زندگی کی کشمکش کی وجہ کیا ہے؟  لیکن وہ کوئی ایسا جواب نہیں پاتا جو اس کی بے چین روح کو تسلی دے سکے ۔

آوردبا اضطرار اول بہ وجود                           جزخیرتم ازحیات چیزی نفزود

رفیتم باکراہ و ندانیم چہ بود                            زین آمدن ورفتن وبودن مقصود

                        بے چین روح۔   عمر خیام چاہتا ہے کہ دنیا کے عقدوں کو عقل کے گرہ کستا  ناخن سے کھول  دے لیکن جب وہ اپنی اسی کوشش میں نا امید ہوتا ہے تو وہ فطرت کے مظاہر کی طرف لوٹتا ہے اور ان سے دل بہلا نے لگتا ہے لیکن روح کا فشار اسے دم نہیں لینے دیتا۔دیکھیئے، عمر خیام  اپنے دماغ کو ابر،  باران،  بادہ  ارغوان  سے تازہ کرنا چاہتا ہے لیکن فکراور سوچ کی شدت اسے روکتی ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے ۔

ابر آمد  و   باز برسر سبزہ گریست                      بی بادہ ارغوان نمی باید زیست

این سبزہ کہجزو  تماشہ  است                            تاسبز ہ خاک مان  نمی  بایدیست

                عمر  خیام کے کلام میں حزنیت۔  عمر خیام  ایک  حساس  فلسفی  تھات۔ یہ حساس فلسفی دیکھتا ہے کہ دنیا میں رنج واندوہ کی کوئی حد  نہیں۔ہر شخص کسی نہ کسی رنج میں مبتلا ہے ۔زندگی میں ہر وقت موت کا کھٹکا لگا رہتا ہے اس سے عمر خیام کا دل و دماغ متاثر ہوتا ہے چنانچہ اس کی اکثر رباعیوں میں حزن و ملال (غم) کا اثرات جھلکتے نظر آتے ہیں ۔

پیش ازمن وتو  لیل ونہاری بودہ است                   گردندہ فلک تیز بکاری بودہ است

ز نہار  قدم بہ خاک آہستہ نمی                             کہ ان مرد کہ چشم نگاری بودہ است


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply