Home / Islamic History / حجتہ الوداع پر تفصیلی نوٹ

حجتہ الوداع پر تفصیلی نوٹ


حجتہ الوداع پر تفصیلی نوٹ

          حجتہ الوداع۔  ہجرت کو دس برس گزرچلے تھے کہ آپ ﷺ حج بیت اﷲ کے لئے تشریف لائے اور یہ آپ ﷺ کا آخری حج تھا۔ آپ ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں نسلی امتیازات، گورے کالے، عربی عجمی کے امتیازات کے خاتمے کا اعلان کیا۔ آپ ﷺ نے حجتہ الوداع میں سب مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دے دیا۔ اسی حجتہ الوداع میں خون، عزتوں، مال، دولت کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا۔ مدینہ واپس آنے پر آپ ﷺ کی صحت خراب ہوگئی۔ آپ ﷺ سب ازاوج مطہرات کے گھر ایک ایک رات باری باری رہا کرتے تھے۔ جس دن میمونہ بنت حارث کے گھر تھے طیبعت زیادہ خراب ہو گئی، بالاتفاق آپ  حضرت عا ئشہ صدیقہ کے مکان پر لے       آئے رحلت سے تین پہلے آپ ﷺ نےمسجد نبوی  میں نماز کے لیے جانے کا ارادہ کیا لیکن ضعف کی وجہ سے حرکت نہ کر سکے اور حضرت ابو بکر صدیق کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ، یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ  کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کا خلیفہ کے
wida لیے انتخاب کیا گیا۔

                        ہجرت مدینہ کے بعد جب اسلامی حکومت قائم ہو ئی حضور اکرمﷺ  نے انصار اور مہاجرین کا ایک ایسا بےمثال معاہدہ کرایا جس معاہدہ میں ہر انصار نے ایک مہاجر کو اپنا بھا ئی بنایا اور برابر کا حصہ دیا ۔

خطبتہ الوداع کے نکات ۔  حجتہ الوداع تمام   مسلمانوں  کے  لئے مشعل راہ  ہے۔  حجتہ  الوداع  کے  چیدہ چیدہ نکات  مندرجہ ذیل  ہیں۔

ا۔     جہالت کے تمام دستور  وجہ اسلم میرے پا ؤں کے نیچے ہیں ۔

ب۔      اما نتیں ما لکوں کو لو ٹا دیں ۔

ج۔      سود کو ختم کرنے کا اعلان کیا کیا جا تا ہے ، سب سے پہلے میں اپنے خا ندان میں حضرت عباس  کا سود معاف کرتا ہوں۔

د۔      تمہاری عورتوں پر تمہارے حقوق ہیں ، عورتوں کا فرض ہے کہ وہ تمہاری غیر حا ضری میں تمہارے حقوق کی حفا ظت کر یں اور بے حیا ئی سے باز رہیں ۔

ذ۔       میں دو چیز  یں قرآن اور سنت چھو ڑ کر جا رہا ہوں اگر مضبوطی سے پکڑے رکھوگے تو گمراہ نہیں ہوگے۔

ر۔      غلام کے ساتھ برا بری کا سلوک کرو ، جو خود کھا ؤ اُسے بھی کھلا ؤ ۔

ز۔      نہ تو میرے بعد کو ئی نبی ﷺ آ ئے گا اور نہ کو ئی نئی اُ مت پیدا ہونے والی ہے ۔

wida1س۔      اپنے رب کی عبادت کرو ، پانچ وقت نماز پڑ ھو  ۔

ش۔      میری سنت کی پیر وی کرو ، انشا اﷲ جنت میں جاؤ گے ۔

ص۔      میرا یہ کلام اُ ن لو گوں تک پہنچا دینا جو یہاں مو جود نہیں ، خبردار اپنے اُ وپر ظلم نہ کرنا اور جو مو جود نہیں ہیں وہ زیادہ حفا ظت کرنے والے ہوں گے ۔

ض۔      قیامت کے دن اﷲ میرے بارے میں پو چھے گا تو آپ کیا جواب دیں گے ، لو گوں نے ایک  زبان ہو کر جواب دیا آپ ﷺ  نے اﷲ کا پیغام پہنچا کر اپنا فرض پورا کیا آ پ ﷺ نے نبوت کا حق ادا کر دیا ۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …

Leave a Reply