Home / Islamic History / جزیرة العرب کا محل وقوع اور پیداور

جزیرة العرب کا محل وقوع اور پیداور


جزیر ة العر ب کا محل وقوع اور پیداور

                        جغرافیہ عربستان۔     عربستان ا یک بہت بڑ ا جزیرہ نما ہے۔اس کا ا یک حصہ ریگستان ہے اور اس کی تین طرف سمندر واقع ہے، یعنی مغرب کی طرف بحیرہ احمر، مشرق کی طرف بخیرہ عمان، خلیج فارس ہے، جنوب کی طرف  بحرہند ،مغر ب کی طرف یہ جزیرہ نما ا فر یقہ سے ملا ہواہے اور مشرق کی جانب ایشائ ہے۔ اس کی حدود شمالی اس قدر آسان اور صا ف نہیں۔یعنی یہ حد غزا سے فلسطین کا ایک شہر  جو نہر متوسط پر واقع ہے، ایک خط بحر لوط  تک کھینچا جا ئے و ہا ں سےدمشق  اور د مشق سے دریائے فرات کے کنارے لا کر خلیج فارس میں ملا دیا جائے ۔

             اس جزیرہ نما کا زیادہ سے زیادہ طو ل 1555 میل ہے اور زیادہ سے زیادہ عرض 622 میل ہے۔ اسکا رقبہ سطحی1866000  مر بع میل سے کسی قدر زائد اور ملک فرانس کے رقبہ کا چھ گنا ہے۔  اس جزیرہ نما میں صحرائے افریقہ کی طرح میدانی سطح ہے، جو صحرائے افریقہ کی طرح جابجا سوکھے، ریتلے اور پتھریلے خطے شاداب اور زرخیز خطوں کےساتھ ملے جلے ہیں۔ اس سرزمین میں کئی وادیاں اور کئی پہاڑی حصے ہیں جن میں سینکڑوں گاوں اور شہر آباد ہیں اور جن کے باشندے زراعت پر بسر اوقات کرتے ہیں، ریگستان کے رہنے والے خانہ بدوش ہیں جو ہمیشہ حالت مسافرت میں رہتے ہیں ۔ عربستان کے صحرا بالکل ریگستان ہیں اور ان میں جابجا چشمے اور وادیاں واقع ہیں جہاں کھجور کے درخت اور جانوروں کا چارہ پیدا ہوتاہے۔

جزیرة العرب
جزیرة العرب

       عر بستا ن کی پید اوار۔ عربستان کی مشہور کھجور اور قہو ہ کا ذکر بہت ضروری ہے کھجور تو باشندوں کی بہت بڑی غذا ہے اور قہوہ کی پیداوار تجارتی اور مال دولت حاصل کرنے کا ذ ر یعہ ہے ۔ ان کے علاوہ مخصوص پیداواریں ہیں مثلا لوبان، تیج پات، سنا، بلسان مکی وغیرہ جن کی تجارت قدیم زمانے سے عر بستان سے ہو تی ہے۔ چونکہ اس ملک کی مختلف خطوں کی آب و ہوا مختلف ہے اور اس لیے انکی پیداوار بھی مختلف ہے اس میں گرم اور معتدل ہوا   دونوں  موسموں کی چیز یں پیدا ہوتی ہیں  مثلا  کدکس، انجیر ، ببول ایش کا درخت وغیر ہ ۔ عربستان کے شاداب خطوں میں  خوبانی، شفتالو، با دام، انگور، گیوں، موار، باجرہ اور تمباکو وغیرہ بھی کاشت کی جاتی ہے۔کسی زمانے میں عربستان میں سونا، چاندی ,جواہرات بکثرت پائے جاتےتھے  لیکن اب انکا نام و نشان  بھی نظر نہیں آتا ہے.جانوروں میں عرب کے اونٹ اور گھوڑے مشہور ہیں۔

         ولایات عرب۔ قدیم زمانے کےمورخین عربستا ن کے اندرونی حصوں سے واقف نہیں تھے۔  مشہور جو نانی مورخ ہردوط نے اسے چند لفظوں میں ختم کر دیا ہے۔ استرابو  اور ڈیوڈور کچھ تھوڑا سا حال لکھتے ہیں لیکن وہ ا کثر ا یسی چیزوں کو ہندوستان سے عربستان آ تی  اور وہاں سے باہر بھیجی جاتی ہیں، خود عربستان کی پیداواریں یمن میں ایک سو ستر دیہات اور پا نچ بڑ ے شہر ہیں ۔ جاہلیت کے زمانے میں سارا ملک چھوٹے چھوٹے قبائل میں حکومت کرتا تھا اور اسلام آنے کے بعد ایک قوم بن گئے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں کسی حکو مت کا کوئی نظام نہ تھا اور نہ کوئی قانون تھا ۔لو ٹ مار کا رواج عام تھا۔ بدوی قوم کے دو ہی شغل تھے آپس میں لڑنا اور اونٹ پالنا اور جو دو قیبلوں میں لڑائی ہوجاتی تو ختم نہیں ہو تی تھی۔ سالہا سال جاری رہتی تھی۔ جب لڑتے لڑتے تھک جاتے تھے تو پھر صلح ہوتی تھی اور جان کے بدلے دیت قبول کرتے تھے۔ بدوی خلفائے راشدین کے دورحکومت میں اسلامی فوج کا حصہ بھی رہے تھے اور ملک گیر ی میں بڑی مدد دی ۔

        زمانہ جاہلیت۔

 تورات کے مختلف ابواب میں عربستان کی تجارت اور شہروں کا علی الخصوص سبائے یمن کا ذکر موجود ہے۔  تقریبا چارہزار سال پہلے ہر دو ط   نے یمن کے ملک کو تمام دنیا کے ملکوں سے زیادہ زرخیز لکھا ہے،  وہ لکھتا ہے کہ مارب میں جو زمانہ قدیم میں سبائے تورات کا قائم مقام تھا، بڑ ے بڑے        عالیشان  قصر  تھے جن کی محر ا بیں سنہری تھیں اور ان کے اندر طلائی اور نقرائی ظروف اور بیش بہا پلنگ سونے اور چاندی کے موجود تھے ۔ زمانہ جاہلیت میں مختلف اقوام عرب کے مذاہب میں کچھ اختلاف تھا  لیکن آفتاب اور ستاروں کی پرستش زیادہ تر رائج تھی۔ جن اقوام کے ساتھ عربوں کی تجارتی تعلقات قائم ہوگئے تھے انہی کے دیوتاؤں کو انہوں نے اختیار کر لیا تھا اور انکی تعداد کسی طر ح یونان اور روم کے دیوتاؤں سے کم نہ تھی۔ قد یم الایام  میں عر ب  متعدد خداؤں کو مانتے تھے اور ان کے نام کےمورتیں بھی بنایا کرتے تھے ۔ اگر چہ پرستش متعدد دیوتاؤں کی تھی لیکن ایک معبود اﷲ تعالی کا خیال ہی تھا۔ عربستان میں ایک عبادت گاہ تھی جس کا نام کعبہ تھا اور وہ کعبہ جس کی تعمیر از روئے روایا ت حضرت ابراہیم نے کی تھی۔

             کعبہ حیقیت میں عرب کے دیوتاؤں کا مندر تھا۔ حضورصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کعبہ میں 360 بت تھے اور بقول عرب مورخین کے، ان مورتوں میں حضرت عیسی اور حضرت مریم  کی مورتین بھی شامل تھیں۔ کعبہ کی آرائش کو تمام عرب قوم اپنا فخر سمجھتی تھیں اور یہودیوں کے نزدیک بھی یہ مقام بہت متبر ک تھا۔ کعبہ کی حفاظت قبیلہ قریش کے سپرد تھی اور اس و جہ سے اس قبیلہ کا وقار پورے ملک میں مانا جاتا تھا۔عربستان کے کل دیوتاؤں کے خانہ کعبہ میں جمع ہونے کا اتحاد مذہب کو ممکن بنا دیا تھا اور عرب کے باشندوں کے تمام  ملک کے اعتقادات ا یک تھے اور یہی وہ چیز تھی جسے حضوراکرم صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلم نے سمجھ لیا تھا اور اس کا سمجھ جانا ان کی کامیابی کا باعث ہوا ۔  عربستان کے تمام دیوتاؤں کے خانہ کعبہ میں جمع  ہو نے نے ا مذ ہبی تحاد  کو ممکن کر د یا تھا اور زبان کےاتحاد نے اسے اور بھی آسان کردیاتھا ۔ عربستان  کے لیے وہ  قت آ گیا تھا جب تما م ملک کے ا عتقا د  ا یک ہو جا ئیں۔ جس وقت حضوراکرم صلی اﷲعلیہ و آ لہ و سلم مبعو ث ہوئے ہیں ا یک عا م ر جحا ن ملکی اور مذ ہبی  ا تحا د کی طر ف پید ا ہو چکا تھا ۔


About admin

Check Also

تہذیب و تمدن

تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ

            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور …

Leave a Reply