تیموریہ دور کا شاعر حافظ شیرازی یا حافظ شیرازی کے حالات زندگی


تیموریہ دور کا شاعر حافظ شیرازی یا  حافظ  شیرازی کے حالات  زندگی 

         تعارف۔    حافظ  شیرازی  کا  نام محمد،لقب شمس الدین اور حافظ  تخلص ہے۔ آپ شیراز میں پیدا ہوئے ۔سال پیدائش کسی تذکرے میں نہیں آتا،مورخین کا خیال ہے کہ آپ کی پیدائش 724ھ سے 729ھ کے مابین ہوئی ۔آپ کے والد  بہاوالدین اصفہان کے تاجر  تھے ۔وہ تجارت کی غرض سے اصفہان چھوڑ کر شیراز آئے۔

         ابتدائی  حالات۔    حافظ  شیرازی ابھی عالم طفلی میں ہی تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا، دوسرے بھائی الگ ہوگئے۔ حافظ اور والدہ اکیلے رہ گئے۔ حافظ خمیر گیری سے نام ونفقہ مہیا کرتے  تھے۔  خواجہ صاحب اگرچہ کسب معاش میں بہت مصروف رہتے تھے لیکن علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا ۔دکان کے پاس ہی ایک مکتب تھا۔ کام سے کچھ  فراغت ہوتی تو مکتب آجاتے ۔یہاں قرآن پاک  حفظ کیا اور تفسیر اور علم حکمت کی تعلیم پائی، جب کہ ایک شعر سے ظاہر ہوتا ہے ۔

زحافظان جہان کس چو بندہ جمع نکرد           لطائف حکمی  با نکات قرآنی

         کلام  میں  تاثیر  کی  وجہ۔    حافظ قرآن ہونے کی نسبت سے آپ نے اپنا حافظ تخلص رکھا۔ آپ کے کلام میں جو تاثیر پائی جاتی ہے ،وہ اسے قرآن خوانی ہی کا فیض بتاتے ہیں ۔

ندیدیم خوشتراز   شعر تو حافظ      بہ قرآنی کہ اندر سینہ  داری

         حافظ  کا  دور۔    حافظ  شیرازی کا زمانہ انقلاب اور خونریزی کا زمانہ تھا لیکن اس کے باوجود اس زمانہ میں علمائ وفضلائ، صوفیائ اور اولیائ، شعرائ و  ادباء فارسی میں بکثرت موجود تھے۔ آپ نے اساتذہ سے مختلف علوم حاصل کیئے۔تفصیر،  فقہ،حکمت والہیات کا مطالعہ کیا ۔حکمت وفلسفہ کی تعلیم مستند علمائ سے پائی۔تفسیر کے علم میں مہارت رکھتے تھے ۔

         راست  گو۔    حافظ  شیرازی نے ابو اسحاق کی حکومت کی زوال پر بہت سارے درد ناک شعر لکھے۔ اسی طرح حافظ نے ایران اور اس کے بادشاہوں کے نام اپنے کلام میں لائے ہیں۔ حافظ  شیرازی کا دوسرا سر پرست شاہ شجاع تھا جس کی مدح میں اس نے متعدد قصیدے کhafiz1ہے ہیں۔ شاہ شجاع خود بھی ادبی ذوق رکھتا تھا اور شاعروں کی صحبت کو بہت پسند کر تا تھا۔   اس کے زمانے میں وہ تمام معاشرتی پابندیاں جو اس کے باپ نے لگائی تھی ختم ہو گئی۔ یہ مژدہ حافظ نے سنا تو اشعار کہے ،جن میں سے  ایک یہ ہے۔

سحر ز عاتف غیبم رسید مژدہ بگوش                        کہ دور شاہ شجاع است می دلیر بنوش

         حساس  طبیعت۔ حافظ  شیرازی ایک حساس طبیعت  کےشاعر تھے۔ وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے ، اگر چہ انہوں نے اپنے عہد کے سلاطین، وزرائ کی مدح میں کہیں نہ کہیں شعر لکھے ہیں لیکن وہ اپنے زمانے سے قبل اور خود اپنے زمانے کے وزرائ کی ہوس کاریوں، خود غرضیوں اور اخلاقی برائیوں سے واقف تھے۔ اس طرح حافظ  شیرازی نے اپنی ایک غزل میں اس طرح کی ایک شر و فساد کا نقشہ کھینچا ہے۔

این چہ شور یست کہ در دور قمرمی بینم                  ھمہ افاق پر از فتنہ و شر می بینم

ھیچ رحمی نہ برادر بہ برادر دارد                           ھیچ شفقت  نہ پدر را بہ پسر  می بینم

ابہان را ھمہ شربت ز گلاب و قند است        خوت دانا ھمہ از خون جگر می بینم

hafiz3

         نڈر۔    سلاطین و افراد کے علاوہ علمائ، فقہائ,  قضاء،  شیوخ اور محتسب تک ریا کار تھے۔  بظاہر علم اور  زاہد و تقوی کا اظہار کرتے تھے لیکن باطن میں بد نیت اور بد کردار تھے۔ حافظ  شیرازی نے ایک کلام میں ان کا راز افشائ لکھا ہے ۔

واعظان کین جلوہ بہ  محراب و منبر می  کنند                          چون بہ خلوت می روند آن کا ر دیگر می کنند

        حافظ  شیرازی کو اس امر کی بھی شکایت ہے کہ اس کے معاشرے میں علم و فضل کی قدر نہیں ہے۔ درباروں میں قصیدہ گو شعرائ کا کچھ منزلت ہے  اور  دوسرے شعرائ  کا  کچھ۔ اس کی طرف یوں اشا رہ کیا ہے۔

کسی کہ فاضل است امر و  ز   در دھر            نمی بیند  ز غم  یک دم رسائی

ایک اور  جگہ فرمایا ہے ،

سخن سرائی و خوش خوانی نمی ورزند  در شیراز      

بیا حافظ کہ تا خود ر ا  بہ ملک دیگر انداز یم

         صلح  کے  داعی۔        حافظ  شیرازی صلح کے داعی ہے۔ وہ اس  بات  کی نصیحت کر تے ہیں کہ دشمنی کو ترک کر دو، دوستی کا

Persian poet Hafiz Shirazi
Hafiz Shirazi

درخت لگاؤ، صلح  و آشتی سے رہو، جنگ اور خون ریزی سے بچو۔

آسائش دو گیتی تفسیر این دو حرف است

با دوستان    مر وت     با دشما  نان مدا وا

      شیراز سے محبت۔    سعدی کے برخلاف حافظ  شیرازی نے لمبی لمبی شعریں کہے۔ حافظ  شیرازی کو شیراز سے بےحد محبت تھی اسی وجہ سے شیراز کو چھوڑ کرر کہیں بھی جانا نہیں چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ ایران کے حکمران سلطان احمد جلائر نے بغداد آنے کی دعوت دی تو حافظ نے معزرت کر لی اور کہیں نکلے بھی تو نزدیک کا سفر کر کے واپس آگئے۔ اسی طرح سلطان محمود شاہ بہنمی والی(گورنر)  دکن نے آپ کو دکن آنے کی دعوت دی  اور انہوں نے زاد راہ بھی بھیجا، انہوں نے ہندوستان جانے کی تیاری   کرلی چنانچہ بندرگاہ سے سمندری جہاز پر سوار بھی ہوئے لیکن سمندر میں  طلاطم دیکھا تو جہاز سے اتر آئے اور سفر کا ارادہ ترک کر دیا۔ ایک غزل لکھ کر سلطان محمود کی خدمت میں بھیج دی، جس کا مطلع یہ ہے۔

و می باغم بسر بردن جہاں یکسر   نمی ارزد  

بہ می بفروش  دلق ما کزیں بہتر  نہ  می ارزد

         حافظ  شیرازی نے ساری عمر شیراز میں بسر کی اور مصلی کی باد نسیم اور رکن آباد کے چشمے کی سیر کو زندگی کا بہترین مصرف سمجھا۔جیسا کہ فرمایا،،

نمی دہند اجازت مرا بہ سیرو سفر                           نسیم باد مصلی و آب رکنا باد

         وفات۔    حفظ شیرازی کی وفات 971ھ بمطابق 1338 ئ میں ہوئی اور ا پنی محبوب سیر گاہ مصلی میں دفن ہوگئے۔


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply