تہذیب و تمدن پر مختصر مگر جامع نوٹ


            حیات انسانی کے دو درخشاں پہلو ہیں۔ ایک روحانی اور دوسرا مادی۔ انسانی شخصیت اس وقت  تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچسکتی جب تک دونوں پہلووں کی نشو و نما نہ پایئں۔مختلف تہذیبوں نے ان دونوں  پہلووں کی نشو  و نما پر بہت کچھ مو اد  دیا ہےمگر اس کے باوجو د  بھی اس کی تکمیل  نہیں ہوئی۔اس کائنات ارضی میں صر ف  ایک ہی تہذیب ہے  جس نے علمی اور عملی طور پر ان دونوں پہلووں کی نشو و نما  کی تکمیل  کی ہے، وہ   ہے اسلا می تہذ یب ۔

            تہذیب کا لفظ  عربی  زبان میں ھذب مادہ  سے باب تفصیل کا مصدر ہے، اس کے لغوی معنی  ہیں۔

                                                          ا۔       کانٹ  چھانٹ کرنا،  اصلاح کرنا،  بہتر  کرنا ۔

ب۔       سنو ارنا اور  ترتیب دینا۔

ج۔       کسی کمرے  کو  سنوارنا۔

د۔       سامان کو قرنیےسے رکھنا اور  سجانا۔

ذ۔       درختوں کی شاح  تراشی اور قطع برید کرنا ۔

ر۔     کسی درخت،مضمون، مسودہ قانون کی کانٹ چھانٹ کرنا رہنمائی کرنا۔کسی چیز  کی اصلاح کرنا۔  نقائص سے پاک کرنا وغیرہ۔

             تہذیب کےلفظ میں بہت و سعت پائی جاتی ہےاور یہ لفظ طرز  زندگی اور رہن سہن کے طریقوں کے لیےبھی استعمال ہوتا ہے۔اصطلاح میں تہذیب سے کسی قوم کے وہ بنیادی افکار اور نظریات مراد ہوتے  ہیں جو اس کے اعمال وافعال کو جنم دیتے ہیں اور ہر قوم ایک مخصوص طرز زندگی اور جداگانہ عادات و اطوار کی حامل ہوتی ہے جو اسے دوسری قوموں سے ممتاز  کرتی ہے۔ اس ظاہری شکل و صورت کو تہذیب کہا جاتا  ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم اس مفہوم کو اس طرح پیش کرسکتے ہیں اور نتائج کے مجموعے کو تہذیب کہا جاتا ہے۔ تہذیب کے لفظی معنی چونکہ کانٹ چھانٹ اور اصطلاح کے ہیں۔ اس کےلغوی معنی کا تقا ضہ یہ ہے کہ یہ لفظ ہمیشہ اچھی تہذیب کےلیے بولا جائے مگرمعنوی وسعت کے پیش نظر اسکا اطلاق اچھی اور  بری دونوں قسم کی تہذیبوں میں کیا جاتاہے۔  اچھی تہذیب وہ ہے جو اسلامی تعلیمات اور طرزحیات کےمطابق ہو  اور بری تہذیب وہ ہے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق نہ ہو ۔

تہذیب و تمدن
تہذیب و تمدن

                تمدن۔ تمدن کا لفظ مدن سے ہے جس کے معنی شہرت کے ہیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل ہیں۔

ا۔              شہر میں سکونت اختیار کرنا ۔

ب۔              شہری لوازمات اختیار کرنا ۔

ج۔              مہذب اور کوشش اخلاق ہونا۔

د۔              شہر بسانا اقامت اختیار کرنا۔

ذ۔              مل جل رہنا۔

۔
تمدن کا اصطلاحی مفہوم۔

تمدن کے اصطلاحی معنی باہمی طور پر عمل کرنے اور حقوق و فرائض کو بجا لانے کے ہیں۔تمدن ضروریات زندگی کی پیداوار ہے۔ ایک معمولی پرزے سے لے کر بھاری مشینوں تک ہر چیز تمدن کی مظہر ہے۔ انسانی زندگی میں جن مادی اشیائ کی ضرورت پڑتی ہے، بعد میں وہ تمدن کو جنم دیتی ہے۔ ضروریات کے تحت انسان شہری قواعد و ضوابط بناتا ہے، سکول اور مدرسےبناتا ہے، حفاظتی اقدامات کرتا ہے اور دوسرے سینکڑوں مسائل حل کرتا ہے، یہ سب تمدن میں شامل ہے۔

تہذیب و تمدن میں فرق۔ تہذیب و تمدن لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تہذیب  کا تعلق نظریات  سے ہے اور تمدن کا تعلق اعمال سے ہے۔ اسی طرح ہر معاشرے کا آپس میں اٹھنا، بیٹھنا، ملنا جلنا، سیرو تفریح، درس و تدریس اور حکومتی انتظامات سب کچھ ان نظریات و عقائد کے مطابق ہوتا ہے  جو وہاں کے لوگ مجموعی طور پر اپناتے ہیں، وہاں کا تمد ن اپنی مخصوص تہذیب کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

            اس لیے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ تہذیب جڑ و بنیاد ہے اور تمدن اس کے شاخ ہے۔شا خیں اگر چہ مختلف سمتوں  میں پھیلی ہوتی ہیں لیکن جڑ  ایک ہونے کی وجہ سے ان میں قریبی مشابہت پائی جاتی ہے اس لیے کہا جاتا ہے  کہ مختلف  علاقوں میں رہنے والوں کی تہذیب ایک جگہ رہنے کے باوجود  ان میں تمدنی       اختلافات موجود ہوتا ہے۔ تہذیب و تمدن کے اس فرق کو اسی طرح واضح کیا جاسکتا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے  ایران، روم اور مصر کے باشندوں نے مادی ضروریات  زندگی کے اعتبار سے جو مقام حاصل کیا وہ     تمدن ہے اس کے برخلاف سلار رسل  نے اپنی تعلیمات کے ذریعے جو ذہنی  انقلاب برپا کیا اس کا نام اسلامی تہذیب ہے۔ اس فرق کے باوجود  بعض اوقات تہذیب و تمدن کے الفاظ کا اطلاق ایک دوسرے پر کیا جاتاہے اور اس فرق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔


About admin

Check Also

مسلمانوں کے زوال کے اسبا ب

مسلمانوں میں قیادت  کا فقدان۔  عباسی خلفائ  کے بعد 1256 ئ  میں  جب  منگو لیوں نے عباسی  …