بنو امیہ کی خلافت اور اسلامی تہذیب اور کارنامے (Umayyad Caliphate)


                امیرمعاویہ دمشق سلطنت ( 41ئ تا 60ئ)۔

خلفائے راشدین کے دور خلافت میں خلیفہ عام لوگوں کی طرح سادہ لباس پہنتے تھے اور عام سے مکان میں رہتے تھے جو کہ ایک اسلامی تہذیب تھی۔ بیت المال  سے سوائے روزینے کے جو مجلس شوری نے مقرر کر رکھا تھا کے علاوہ ایک کوڑی زائد نہیں لیتے تھے اور اس کی ساری رقم محتاجوں، یتیموں اور ناداروں پر خرچ ہوتی تھی مگر اموی عہد میں بیت المال خلفائ کا شاہی خزانہ سمجھا جاتا تھا اور وہ اس آمدنی کو ذاتی راحت اور آرام و آرائش کے لیے استعمال کرنے لگے۔ جو اپنی شان و شوکت کے لحاظ سے قیصر و کسری کے محلوں سے کسی طور کم نہ تھا۔ شاہانہ لباس بھی بڑا قیمتی ہوتا تھا،مگر تمام خامیو ں کے باوجود تمام سلاطین امیہ ما سوائے چند ایک کے بڑے پائے کے سیاستدان اور منتظم تھے۔ انہوں نے اسلامی حدود کا ہندوستان اور چین سے لے کر سپین اور فرانس تک پہنچا دیا ۔مفتوحہ علاقوں کا انتظام اس قدر خوش اسلوبی سے کیا کہ ہمسایہ اقوام رشک کرتی تھیں۔ شاہانہ بنوامیہ کے تدبر کا کمال یہ تھا کہ اتنی وسیع سلطنت کو اپنے زیر اقتدار متحد و منظم رکھا اور کسی علاقے کو خود مختار نہ ہونے دیا۔

umayyad

کارنامے

اموی دور خلافت میں بحری فوج اور کشتی سازی۔ امیر معاویہ مشق کے حاکم تھے۔ رومیوں کےساتھ جھڑپیں تو ہوتی رہتی تھیں۔ خشکی میں تو مسلمانوں کا پلہ بھاری رہتا لیکن ساحلی علاقوں  میں رومی بحری بیڑہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاتا تھا۔ امیر نے خلیفہ دوم سے اجازت مانگی کہ بیڑہ بنایا جائے۔ مسلمان دستہ بحیرہ احمر میں ڈوب گیا تھا، جس کی وجہ سے خلیفہ نے اجازت نہ دی لیکن عہدعثمانی میں امیر نے اصرار کرکے بحری بیڑے کے قیام کی اجازت حاصل کرلی اور ساحل شام پر جہاز سازی کے متعدد کارخانے کھول دیئے،  تھوڑے ہی عرصہ میں 200 جہازوں کا ایک چھوٹا سا بیڑہ تیار ہوگیا، جس کی مدد سے رومیوں کو پہلی بار سمندری جنگ میں شکست دی گئی۔

اموی دور خلافت میں فوج کا انتظام۔   بنی امیہ کا عہد فتوحات اور جاہ و حلال کا دور تھا۔ اس زمانہ میں فوج کی تعداد کئی گنا زیادہ ہوگئی۔ امیر معاویہ کا لشکر ایک لاکھ 80 ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا جس میں شامی 60 ہزار، عراقی 80 ہزار، مصری 40 ہزار، تھے۔ اندرونی فسادات کے باوجود متعدد ملک فتح کیئے، جن میں، سندھ، ترکستان، شمالی افریقہ اور اسپانیہ قابل ذکر ہیں۔ واسط اور قیرون میں دو نئی چھاؤنیاں بھی قائم کیں۔

اموی دور خلافت میں  محکمہ انصاف۔  اس محکمہ کو شعبہ قضاء کہتےتھے۔ بنی امیہ کے دور حکومت میں قاضی وقضاء کا کم وبیش نظام ہی رہا۔ صرف فرق اتنا تھا کہ قاضیوں کی تعیناتی خلیفہ کے گورنروں کے حکم سے ہونی لگی۔ قاضیوں کے فیصلے اسلامی شریعت کی رو سے قرار پائے۔ قاضیوں کو بڑی تنخواہیں دی جاتی تھیں تاکہ رشوت اور خیانت کی طرف مائل نہ ہوں۔ انصاف کے علاوہ اوقاف کے مال کی نگرانی بھی ان کے فرائض میں داخل تھی ۔

اموی دور خلافت میں رفاہ عامہ کے کام۔  اموی عہد میں خصوصا حضرت عمر بن عبدالغریز کے زمانہ میں رفاہ عامہ کے کام بہت کیئے گئے۔ مسجد نبوی، جامع مسجد، دمشق اور مسجد  اقصی کو از سر نو تعمیر کرایا گیا، مدینہ میں پانی کی قلت ختم کرنے کے لیئے چشمہ سے نہر نکال کر شہر کے درمیان فوارہ بنا دیا گیا، سڑکیں بنائی گئیں، کنویں اور سرائیں تعمیر کیئے گئے، شفاخانے، محتاج خانے، مہمان خانے کھولے گئے۔ اپاہجوں اور اندھوں کے لیئے وظیفے  مقرر کیئے گئے، متعدد نئے شہر بنائے گئے۔ جن میں قیروان، واسط، بلخ اور رملہ خاص طور پر مشہور ہیں۔ چوری اور ڈاکے کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ یہاں تک اعلان کر رکھا تھا کہ جس کسی کی کو ئی چیز گم ہو جا ئے وہ ہم سے آ کر لے جا ئے۔

اموی دور خلافت میں umayyad1تعلیم۔ اندرونی  شورشوں اور بیرونی فتوحات میں انہماک کے باعث سلاطین بنو امیہ  اشاعت اسلام کی جانب کوئی خاص توجہ مبذول نہ کر سکے مگر اس کے باوجود بھی فقہ، حدیث اور تفسیر کی گئی۔ ایک کتاب لکھی گئی، علمائ نے احادیث نبوی کے کئی مجموعے تیار کیے۔ ولید کے زمانے میں عربی کے حروف پر نقطے اور اعراب لگوائے گئے، جس کی وجہ سے غیر ملکیوں کا عربی پڑھنا آسان ہو گیا۔ امیرمعاویہ نے یمنی عالم سے یمن کی تاریخ مرتب کرائی۔ ہشام نے ایران کی تاریخ کا فارسی سے عربی میں ترجمہ کیا  علوم نجوم میں بھی کتابیں لکھی گئی۔ اس کے علاوہ نصاب میں دین کو مبضوط کرنے کے لیے دینی کتابیں لازمی قرار دی گئیں۔ ریاضی، ھیت، تجوید، تاریخ اور تفسیر یہ کتابیں تھیں۔

اموی دور خلافت میں دیوان البرید۔ یہ مالیاتی شعبہ تھا۔ اس کے ذمے گورنمنٹ کےڈاکخانہ کا محکمہ،  محاصل و مصارف کا حساب رکھنا ہو تا تھا۔

اموی دور خلافت میںدیوان الخاتم۔  یہ محکمہ بادشاہ کے نامزد کردہ احکام کا ریکارڈ رکھتا اور صوبائی حکومتوں کو انکے مطابق ہدایات  روانہ کرتا۔ یہ محکمہ امیرمعاویہ کے عہد میں قائم ہوا کیونکہ ان دنوں بعض ہو شیار لوگوں نے بادشاہ  کی جانب جعلی دستاویزات اور منشورات بنا کر رعایا کو گمراہ کرنا  شروع کر دیا تھا۔ اس شعبہ کے قیام سے جعلسازیاں  بند ہو گئیں کیونکہ ہر ایک فرمان شاہی کی نقول دیوان خانم میں محفو ظ ہو تی تھیں۔

اموی دور خلافت میں عربی زبان کا فروغ۔ خلفائے راشدین کے دور میں مصر، شام اور ایران کے تمام دفاتر ملکی زبانوں میں تھے۔ ایران میں فارسی، شام میں سریانی اور مصر میں قیطی  تھے۔ عرب لوگ ان زبانوں سے واقف نہیں تھے۔ اس لیے تمام دفتری کا روبار  ملک کے مقامی باشندوں کے ہی ہاتھ میں تھا۔ خراج کے دفتروں پر یہودی اور عیسائی مسلط تھے۔ عبدالمالک کے زمانے میں سارا دفتری کام عربی میں ہونے لگا اور ملکی باشندوں کو ہٹا کر عربی لوگ ملازم رکھے گئے۔ نیز ہر جگہ عرب برسراقتدار آنےسے بغاوتوں اور سازشوں سے بہت حد تک نجات مل گئی۔

اموی دور خلافت میں قرآن مجید پر اعراب۔ ولید کے زمانے میں کچھ علاقہ جات ایسےتھے۔ جہاں کے لوگ عربی زبان کو نہیں جانتے تھے اور قرآ ن پاک کو پڑھنے میں بہت غلطیاں ہوتی تھیں اور زیر، زبر اور پیش کی بہت غلطیاں ہوتی تھی۔ خلیفہ وقت نے اس بات کا جائزہ لیا اور قرآن پاک پر نقطےاور اعراب لگائے گئے اور صوبائی حکومتوں میں بھیج دئیے گئے۔

اموی دور خلافت میں حدیث کی جمع آوری۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی زمانے میں باقاعدہ طور پر احادیث شریف کو اکٹھا کر کے  پھر ان میں سے قوی احادیث کو حتمی شکل دے دی گئی۔ ضیعف اور باطل احادیث کو کتابوں سے ختم کیا گیا اور یہ بھی بنوامیہ خاندان میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ خلافت سب سے سنہری ہے۔ آپ نے حضرت عمر فاروق  کے نقش قدم پر چلنا اپنا اشعار بنایا۔ عدل و انصاف کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ خلافت راشدہ کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی۔ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد آپ کے عہد کو خلافت راشدہ کی ایک کڑی سمجھتی ہے۔ آپ کے اس دور خلافت میں خارجی، فرقہ بھی جو بنوامیہ کا جانی دشمن تھا۔ اس نے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز کو تسلیم کر لیا اور شورشوں سے کنارہ کش ہو کر امن کی زندگی بسر کرنے لگے۔ آپ کے دور میں غصب شدہ جاگیروں کی واپسی ہوئی۔ ذمیوں کے ساتھ آپ نے بہت نرمی اور شفقت کا برتاؤ  کیا۔  ر فاہ عامہ  کے کام بہت کیے۔  شراب پر سخت پابندی لگادی۔


About admin

Check Also

مسلمانوں کے زوال کے اسبا ب

مسلمانوں میں قیادت  کا فقدان۔  عباسی خلفائ  کے بعد 1256 ئ  میں  جب  منگو لیوں نے عباسی  …