Home / Persian Poets / امیر خسرو کے کلام کی خصوصیات کا ایک جائزہ

امیر خسرو کے کلام کی خصوصیات کا ایک جائزہ


امیر  خسرو  کے  کلام  کی  خصوصیات  کا  ایک  جائزہ

           شہرت۔  امیر خسرو ان خوش نصیب شعرائ میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی ہی میں شہرت اور مقبولیت حاصل کرلی اور بیشتر کتابیں اپنی زندگی  ہی میں ترتیب  دیں۔ آپ نے اپنے پانچ دیوانوں میں خاصے طویل دیباچے خود اپنے قلم سے لکھے ہیں۔ اکثر قصائد کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ یہ کب اور کس کی شان  میں کہے گئے ہیں۔ یہ التزام مثنویوں میں بھی قائم رکھا ہے ۔

           امیر خسرو خوش ذوق  فنکار تھے اس لیئے آپ نے مثنویوں  کی ترتیب وتدوین بڑے اہتمام سے کی۔ کتابوں کی ترتیب میں آپ کے  بعض دوستوں نے بھی مدد کی۔مولانا جامی نے آپ کی تصنیفات کی تعداد 99 بتات ئی ہیں، ممکن ہے کہ امیر خسرو نے اس قدر کتابیں تصنیف کی ہوں کیونکہ آپ بہت پر گو شاعر تھے اور زندگی کے آخری لمحے تک شعر کہتے رہے لیکن اب صرف 22 کتابیں دستیاب ہیں مختصر طور پر ذیل کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

قصائد کے دیوان

ا۔          تحفتہ الصغر۔   یہ آپ کے قصائد کا پہلا دیوان ہے جو   1272ئ میں تصنیف ہوا۔  اس میں 16 سے 19 برس کا کلام ہے۔ اس میں کل 35 قصائد،  پانچ
ترجیح بند اور ترکیب بند، متعدد قطعات اور ایک چھوٹی مثنوی ہے۔ شروع میں وہ سلطانی تخلص کرتے تھے ۔

ب۔        وسط الحیات۔یہ تقریبا 1285ئ میں مرتب ہوا۔  ان کے قول کے مطابق اس میں 19 سے 24 سال کی عمر کا کلام موجود ہے لیکن محض ایسے قصائد بھی موجود ہیں جو 32 ،33 سال کی عمر میں کیئے ہیں، اس دیوان میں 78 قصائد،  آٹھ ترجیح بند، متعدد  قطعات اور رباعیات ہیں۔

ج۔         غرہ الکمال۔  یہ دیوان 1294ئ میں مرتب ہوا۔ اس میں وہ نظمیں شامل ہیں جو انہوں نے 34 سال سے 43 سال  کی عمر  تک کہیں ہیں۔اس میں 90 سے ذائد قصائد،   ترجیح بند اور مثنوی مفتاح الفتوح کے علاوہ قطعات، رباعیات اور غزلیں بھی ہیں۔ خسرو نے اس دیوان کے شروع میں ایک طویل دیباچہ لکھا ہے جس میں اپنے سوانح حیات کے علاوہ فن شاعری اس کی خصوصیات،  اس کے اسالیب اور فارسی شاعری کی عربی شاعری یہ فضیلت کے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔

د۔         بقیہ نقیہ ۔  دیوان  1316ئ میں مرتب ہوا جب خسرو 64 سال کی عمر کو پہنچنے تھے۔  اس دیوان میں 63 قصائد،   6 ترجیحات اور 167 بیت مثنوی کے 200 قطعات 570 غزلیں اور 260 رباعیات ہیں۔

ذ۔         نہایت الکمال۔   یہ دیوان 1325 ئ یعنی اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے مرتب کیا اس میں 22 قصائد،  5 ترجیحات،  4 مثنویاں، متعدد قطعات، غزلیات اور رباعیات ہیں ۔

امیر خسرو
امیر خسرو

مثنویاں۔ آپ نے پانچ تاریخی مثنویاں لکھیں ۔

ا۔          قرآن السعدین۔    امیر خسرو  کی پہلی مثنوی ہے جو انہوں نے 6 ماہ کی محنت کے بعد 1982ئ میں مکمل کی۔ اس میں اشعار کی تعداد تقریبا 3944 ہے اور کیقباد  اور بغرا  خان کی ملاقات کا ذکر ہے۔

ب۔        مفتاح الفتوح۔    امیر خسرو  کی دوسری تاریخی مثنوی ہے جو 1291ئ میں پایا تکمیل کو پہنچی، اس میں جلال الدین خلجی کی 4 فتوحات کا ذکر ہے جو اسے ایک سال کے عرصے میں حاصل ہوئیں ۔

ج۔         عشقیہ یا عاشقیہ۔    یہ دو لرانی خضرخان کے نام سے مشہور ہے۔ اس مثنوی کا قصہ یہ  ہے کہ سلطان جلال الدین کا بیٹا خضرخان، گجرات کے راجہ کی بیٹی  دولرانی کے دام محبت کا اسیر ہو گیا اور دونوں کی شادی ہوگئی۔خضر خان نے اپنی رومانی داستان خود  لکھی تھی جسے خسرو نے خضرخان کی فرمائش پر نظم کیا لیکن اس کے سامنے پیش نہ ہوسکی کیونکہ خلجیوں کے سپہ سالار ملک کا فور نے اس کو گوالیار کے قلعہ میں قید کردیا تھا اور قطب الدین مبارک خلجی نے اس کو قتل کرادیا۔خسرو نے ان واقعات کو بھی بعد میں نظم کرکے شامل کردیا ۔

د۔         نہ سپہر ۔   اس میں مبارک شاہ خلجی کے عہد کے واقعات لکھے گئے ہیں۔ اس کے نو باب ہیں ہر  باب کی بحر جدا گانہ ہے۔ اس مثنوی میں جنگوں اور فتوحات کے علاوہ  ہندو کے مذاہب، رسم ورواج،  عقائد اور دہلی کی تاریخ کے متعلق اشعار موجود ہیں۔

ذ۔         تغلق نامہ ۔  یہ بھی امیر خسرو   کی  تاریخی مثنوی ہے۔ انتقال سے کچھ عرصے پہلے لکھی تھی۔ اس میں غیاث الدین تغلق کی لشکر کشی، خسرو خان کی شکست، تغلق شاہ کی دہلی میں فاتخانہ آمد اور تخت نشینی کا ذکر ہے۔

1میر خسرو نے خمسہ نظامی کے جواب میں پانچ مثنوی لکھی  جو نسب علاو الدین خلجی کے نام منسوب ہیں ۔

ا۔          مطلع الا نوار ۔ امیر خسرو کی اس تصنیف کا موضوع پند و نصیحت  اور  اخلاق وتصوف ہے۔ یہ نظامی گنجوی کی مثنوی مخزن  الاسرار  کے جواب میں ہے اور دو ہفتے میں مکمل ہوئی۔ اس کا سال تالیف 1298ءہے۔

ب۔        شیریں خسرو۔   نظامی کی مثنوی خسرو شیریں کے جواب میں لکھی گئی اشعار کی 4134 ہے اور 1298 ئ میں مکمل ہوئی ۔

ج۔         لیلی و مجنوں ۔   نظامی کی مثنوی لیلی ومجنوں کا جواب ہے اور  1299ئ میں لکھی گئی  ہے۔ یہ 2650 اشعار پر مشتمل ہے ۔

د۔         آئینہ سکندری ۔ نظامی کی مثنوی سکندر نامہ کے جواب میں 1299 ئ میں لکھی گئ  ہے۔

ذ۔         ہشت بہشت۔    نظامی کی مثنوی ہفت پیکر کے جواب میں ہے۔  اس  میں  اشعار کی تعداد 3350 ہے اور یہ 1301ء  میں لکھی گئی ۔

امیر خسرو کی نثر کی کتابیں

ا۔          تاریخ علاقائی یا خزائن الفتوح۔ یہ علاؤالدین خلجی کے عہد کی مختصر سی تاریخ ہے۔ اس میں 1295ء سے 1311 ئ تک کے حالات درج ہیں ۔

ب۔        اعجاز خسروی۔     یہ کتاب آپ نے 70 سال کی عمر میں لکھی ہے  اور  یہ  کتاب   1319 ئ میں مکمل  ہوئی۔ اس کتاب کے پانچ حصے ہیں ۔موضوعات، اصول  انشائ،  اسالیب اور نثر فارسی  زبان  میں  ہیں ۔

ج۔         افضل الفوائد ۔   خسرو کے پیرو مرشد حضرت نظام الدین اولیائ کے ملفوظات پر مشتمل ہے ۔

امیر خسرو بحثیت شاعر ۔  امیر خسرو  جامع کمالات  اور شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے ہر رنگ میں  شعر کہے ہیں۔ قصیدہ، مثنوی، غزل، رباعی، ترجیح بند اور ترکیب بند وغیرہ۔ فارسی شاعری کی تاریخ میں ایسی کوئی دوسری شخصیت نظر  نہیں آتی جس نے ہر صنف میں حسن ولطافت،  پختگی اور مہارت سے شعر کہے ہوں۔ خسرو کے اشعار ہر صنف سخن کے استادوں کے ہم سایہ ہیں۔ فردوسی مثنوی سے آگے نہیں بڑھ سکے اور سعدی قصیدہ  گوئی کے میدان میں لاچار نظر آتے ہیں۔  انوری قصیدے کا بادشاہ ہے لیکن وہ غزل، مثنوی اور دوسرا اصناف سخن کے سامنے بے بس ہیں۔ حافظ اور نظیری غزل کے دائرے سے باہر نہیں نکل  پائے لیکن خسرو کا کمال غزل، مثنوی، قصیدہ اور رباعی سب پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے زمانے سے لے کر آج تک دانشوروں اور شاعروں نے ان  کو بلند  مرتبہ دیا ہے۔ غزہ الکمال میں انہوں نے خود نہایت انصاف اور دیانت داری کے ساتھ اپنا مرتبہ مقرر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ شاعروں کے معاملے میں وہ حقیقی استاد ہے جس  کے کلام میں یہ چار شرائط موجود ہوں۔

ا۔          کسی نئی طرز  اسلوب کا موجد  ہو ۔

ب۔         کلام میں آسانی ،  شیرینی ہو اور غلطیوں سے پاک ہو ۔

ج ۔        انداز وا عظوں اور صوفیوں جیسا نہ ہو ۔

د۔          دوسرے شاعروں کی نقل کرکے اپنا قصر شاعری تعمیر نہ کیا ہو ۔

  امیر خسرو کے  شاعری  کی نمایاں پہلو۔    ان شرائط کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ جو کچھ میں نے نصیحت  کے طور پر اخلاق کے بارے میں لکھا ہے اس میں حکیم ثنائی اور خاقانی کی پیروی کی ہے۔ وہ کھلے دل سے کہتے ہیں کہ ان چار شرائط میں سے مجھ میں صرف دو  شرطیں پائی جاتی ہیں۔ اس لیئے میں درحقیقت استاد نہیں ہوں۔  میرا کلام صوفیا اور واعظین جیسا نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ میں چوری نہیں کرتا۔  انصاف اور خودشناسی کی اس سے بہتر مثال شاید یہی کسی نے کبھی پیش کی ہو۔ انہوں نے غزل میں سعدی، مثنوی   میں نظامی گنجوی، اخلاقی شاعری میں ثنائی  اور خاقانی، قصیدے  میں  عرفی، نظیری کو نمونہ بنایا ہے۔  ایشیائی شاعری پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ خاص خاص چیزوں پر اس سے  پہلے اشعار نہیں لکھے گئے مثلاقلم، کاغذ، دریا، کشتی، شمع، صراحی، پھلوں اور پھولوں کے بارے میں اس طرح کی مسلسل نظمیں نہیں ملیں کہ ان کی تصویر  آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔ امیر خسروں نے ایشیائی  شاعری کی اس کمی کو پورا کیا ، مثنوی قرآن السعد ین  میں اکثر اسی قسم کی مثنوی لکھی ہے۔ کشتی کے بارے  میں لکھتے ہیں ۔

ساختہ از حکمت کار  آگہان           خانہ گردندہ بہ گرد جہان

گرچہ با دریا گزرد بیش وکم           آب بدست آرد وباز افگند

ترجمہ۔ لوگوں کی تجربہ کاری اور دانائی سے ایسا گھربن گیا ہے جو چکر لگاتا ہے حالانکہ وہ پانی پر چلتی ہے لیکن  پیٹ تک پانی نہیں آنے دیتی۔جب کشتی دونوں ہاتھ  پانی میں ڈالتی ہے تو پانی آتا ہے اور گرتا ہے۔

             اس قسم کی شاعری کا خسرو نے مناسب نام وصف نگاری یعنی صنف نگاری رکھا ہے ۔

            خسرو کی مثنویاں  بمقابلہ  نظامی۔      اس میں کوئی شک نہیں  کہ خمسہ  نظامی گنجوی کے جواب میں جو خمسہ لکھی  گئی ہے،  ان  میں امیر خسرو کی سب سے بہتر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نظامی  کے مقابلے میں خسرو کا خمسہ کم درجے کا ہے، مثلا خسرو کی مثنوی مطلع الانوار خاص طور پر نظامی کے  مخزن الاسرار کم تر ہے، نظامی کی مثنوی سکندر نامہ کے جواب میں خسرو کی مثنوی آئنہ سکندری بے کیف سی ہے۔ خمسہ نظامی میں تین قسم کی مثنو یاں  ہیں یعنی رزمیہ، عشقیہ اور صوفیانہ۔خسرو نے بھی ان تینوں مثنویوں پر طبع آزنائی کی ہے اور ہر رنگ  میں نظامی کی پیروی کی ہے۔ خسرو کو خود بھی اس بات کا احساس تھا کہ ان کی خمسہ، نظامی کے خمسہ  سے کم تر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خسرو مثنوی کے مرد میدان نہیں تھے۔ وہ سلطان کی فر مائش پر مثنویاں لکھتا تھا۔  چنانچہ خمسہ کی پانچویں  مثنویاں اڈھائی سال  سے کم مدت میں لکھیں۔  مطلع انوار دو ہفتوں مٰیں مکمل کر لی، ان مثنویوں کی تصنیف کے زمانے میں  وہ درباری مصروفیات میں بری طرح مصروف تھے  اور  اسے فر صت  بہت کم ملتی تھی،  جیسا کہ وہ مثنوی مجنون لیلی کے خاتمہ میں کہتے ہیں  کہ نظامی کا شاعری کے سوا کوئی کام نہ تھا ، کسی قسم کی بے اطمینانی نہیں تھی جبکہ میرا یہ حال ہے کہ سخت مشقت کرنے کے بعد  کہیں روزی نصیب ہوتی ہے ۔

شب تا سحر  و صبح تا شام                  درگوشہ غم نہ گیرم آرام

با شم گیر این نفس خود رائی           پیش چہ خودی  ایستا دہ بر پای

ترجمہ۔ صبح  سے شام تک مجھے سکون نہیں، اس کی ایک وجہ خود میرا نفس ہے  جس کی وجہ سے اپنی جیسی ہستی کے سامنے کھڑا رہتا ہوں۔

            خسرو اور قصیدہ۔      امیر خسرو کے قصا ئد، خاقانی،  انوری اور کمال  کی پیر وی اور تقلید میں ہیں۔ آپ کا کوئی خاص انداز نہیں ہے۔  جس استاد کے جواب میں قصیدہ کہتے ہیں،  اس کی پیر وی کر تے ہیں۔  خاقانی کے ایک مشہور قصیدے کے جواب میں خسرو نے ایک طویل قصیدہ لکھا ، اس میں وہی اسلوب، طرز  تحریر  وہی، تشبیہات استفسارات بھی وہی  اور اسی طرح کی تر کیبات بھی استعمال کی ہیں۔  آپ کے قصائد میں مدح عموما پھیکی ہو جاتی ہیں۔  مدحیہ قصائد بے کیف اور بے مزہ ہوتے ہیں ، جس کا بظا ہر سبب  یہ ہے کہ وہ مدح کو پسند نہیں کر تے  تھے۔  اس وجہ سے قصائد میں دل لگا کر  یعنی متوجہ ہو کر  طبع ازمائی نہیں کر تے مثلا تشبیہوں میں بظاہر فطرت  بہار کے منظر اور بارش کے موسم، صبح وشام کی کیفیت  و غیر ہ کےعلاوہ  عشقیہ احوال و  واردات  کے مضامین میں لاتے ہیں،  بعض قصائد میں سراسر   اخلاقی درس،   پند  و  نصیحت ہے ۔

              خسرو کی غزل گوئی ۔      غزل گوئی  میں امیر خسرو کے پیش رو سعدی شیرازی  ہے۔  آپ کی شاعری کا شباب عین اس وقت شروع ہوا  جب سعدی اپنا شباب  گزار چکے تھے۔ سعدی ،   شیرازی میں بیٹھے ہوئے  غزل سرائی کر تے ہیں اور یہاں دہلی میں اہل ذوق  ان کی شعر نوائی سے  لطف اندوز ہوتے ہیں،  چنانچہ خسرو نے بھی  غزل  گوئی   میں شیخ  سعدی کی پیر وی کی۔  اس وجہ سے آپ کو   طوطی ہند کا لقب ملا۔  امیر خسرو صرف   مقلد نہیں تھے۔ انہوں نے غزل میں بعض نئی باتیں  بھی پیدا کی ہیں۔

             سوز  و   گداز۔    سعدی نے غزل کے مزاج کے مطابق اسے زبان دی اور اس کے دامن کو پھیلا یا۔ اس لیئے انہیں غزل کا امام کہا جاتا ہے لیکن ان کے غزلیات میں جزبات کی گرمی اور سوزو گداز کی تڑپ کم ہے۔ امیر خسرو نے اس کمی کو پورا کیا ہے۔  غزل کی روح کیا ہے۔  سوزوگداز، جزبات واحساسات، عشق ومحبت، واردات  قلبی، محبوب کی بے نیازی، ناز آفرینی،  عاشق کی نیاز مندی اور خاکساری، فراق کی اذیتیں، جزبات کی گرمی، احساسات کی شورش، جوش وحرارت جو کہ غزل کی خصوصیات ہیں،  ان کی غزلوں میں موجود ہیں ۔مثال کے طور پر چند شعر ملاحظہ  ہوں ۔

می روی وگریہ می آید مرا ساعتی بنشین کہ باران گزرد

ہردو عالم قیمت خود  گفتہ ای          نرخ بالا کن کہ ارزانی ھننوز

جان زتن بردی و درجانی ہنوز         درد ہا دادی و  درمانی ہنوز

ترجمہ۔             محبوب کے چلے جانے پر عاشق کا آنسو بہانا کوئی نئی بات تو نہیں لیکن دوسرے مصرے میں  کتنی جذبات پیدا کردی ہے۔ عاشق محبوب سے کہتا ہے کہ  میرے پاس بیٹھنا تمہیں ناگوار گزرتا ہے لیکن تھوڑی دیر صبر کرو میری آنکھوں سے جو بارش ہورہی ہے یعنی  برسات کی جو جھڑی لگ رہی ہے اسے تھم  جانے دو۔

           امیر خسرو کی تشبیہات۔    امیر خسرو کی تشبیہات  با لعموم تازہ،  طبع  زاد ہوتی ہیں۔ ان کی کوئی غزل ایسی  نہیں جس کی تشبیہوں میں یہ خصوصیت نہ ہو ۔تشبیہوں کے انتخاب ہندی ماحول سے بھی آپ کو مدد ملتی ہے۔  فارسی شاعری میں عموما رفتار محبوب کو مور  یا چکور کے خرام سے تشبیہہ دی جاتی ہے لیکن خسرو کو کبوتر کی مستانہ چال میں بھی وہی کیف و مستی نظر آتی ہے ۔

خرام آن صنم ناز نین بعیاری           کبوتری بخرام آمدہ است پنداری

غلام نرگس ہستم با مراد دلگاہ          قدم بدست گرفتہ ز خواب بر خیز د

مفہوم۔   میں اس  نرگس مست کا غلام ہوں جو صبح سویرے شراب  کا پیالہ ہاتھ میں لیئے ہوئے خواب سے بیدار ہوتی ہے۔

            منظر کشی ۔ منظر کشی کے لیئے ضروری ہے کہ  شاعر کے دل کو فطرت کےحسن وجمال سے گہرا لگاؤ ہو اور الفاظ  کے  ادائگی  پر  پوری پوری قدرت ہو۔  یہ دونوں صفات امیر خسرو کے پاس  ہیں۔ مثال کے طور پر ۔

بادصبا چو از رخ او   زلف در  ربود                        ابر سیاہ کشادہ  شد و آفتاب کرد

ترجمہ۔   باد صبا کے جھونکے نے اس  محبوب کے چہرے سے زلف کو ہٹا دیا تو گویا بادل ہٹ گئے اور سورج نکل آیا ۔

            معاملہ بندی۔عشق میں جو معاملات پیش  آئے ہیں ان کے بیان کو بقول مولانا شبلی نعمانی اہل لکھنو معاملہ بندی کہتے ہیں۔ مولانا آزاد ، امیر خسروں کو معاملہ بندی کا موجد سمجھتے ہیں ۔

خوش آن زمان کہ بہ رویش نظر خفتہ کنم     چو سوی من نگر د  او  نظر بگردانم

ترجمہ۔   وہ کیا ہی اچھا وقت ہوتا ہے جب میں چوری نظروں سے اسے دیکھتا ہوں لیکن جب وہ میری طرف دیکھتا ہے تو میں نظریں نیچے کرلیتا ہوں ۔

           موسیقی ۔امیر خسرو  موسیقی کے ماہر تھے۔  اس لیئے جہاں ان کی توجہ کلام پر تھی  وہاں حسن صورت پر بھی تھی،  چنانچہ انہوں نے شعوری اور غیر شعوری  طور پر  کوشش کی ہے کہ شعر میں زیادہ سے زیادہ تر نم ونغمہ پیدا کیا جائے۔ ایسے مناسب اور ہم آہنگ الفاظ لاتے ہیں کہ شاعری موسیقی کا قالب اختیار کرلیتی ہے ۔مثال  کے طور پر ۔

از پی جانان جان ہم رفت، جان ہم رفت          جان ہم رفت این ہم رفت، آن ہم رفت

           اس شعر کو اگر تحت الفظ بھی پڑھا  جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی موسیقار  دھن آلاپ رہا ہے ۔ انہوں نے اشعاروں کو چھوٹی بحر میں لکھیں ہیں جن میں ایک طرح کی ترنم اور روانی ہے۔آپ کلاسیکی موسیقی کے بھی استاد تھے۔ کوشش کرتے تھے کہ محبت بھرے اشعار کو اختصار اور سادگی سے ادا کریں ۔

         مضمون آفرینی۔   مضمون آفر ینی  جو سبک ہندی  کی خصوصیت ہے۔کمال اسمعیل کی ایجاد ہے لیکن ان کی مضمون آفرینی  قصائد تک محدود ہے۔غزل میں مضمون آفرینی کا موجد  امیر خسرو ہیں ۔مضمون آفرینی کی ایک مثال یہ بھی ہے۔

زہی عمر دراز عاشقان گر             شب ہجران حساب عمر  گیدند

ترجمہ۔     اگر ہجر  وفراق کی رات کو بھی عاشقوں کی عمر میں شامل کرلیا جائے تو ان کی عمر بہت ہی دراز ہوتی ہے۔مرزا غالب نے یہی مضمون اسطرح باندھا ہے ۔

کب سے ہوں کیا بتاؤں جہاں خراب میں

شب ھای ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

             امیر خسرو کے کلام میں تصوف۔ امیر خسرو نے اپنے کلام کے ذریعے تصوف کا ہمہ گیر اور آفاقی پیغام دیا ہے۔ یہ ان تعلقات کا نتیجہ ہے جو حضرت نظام الدین اولیائ اور امیر خسرو کے مابین پیری اور مریدی کی صورت میں قائم تھے۔  حضرت  نظام الدین اولیا ئ چاہتے تھے کہ لوگوں کے دلوں کو مخاطب کرکے انہیں سیدھے  سادھے تصوف  سے آشنا کریں۔ جس میں کسی قسم کی گہرائی اور پیچیدہ گی نہ ہو۔مگر مشکل یہ تھی کہ ان کا حلقہ اثر کچھ محدود تھا۔انہیں خانقاہ سے نکلنے کے کم مواقع میسر آتے تھے۔ چنانچہ اس کام کے لیئے انہیں ایسی شخصیت کی ضروری تھی جو معاشرے کے مختلف طبقوں تک ان کا پیغام پہنچا سکے۔حسن اتفاق سے امیر خسرو  ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے۔انہوں نے اپنے مرشد کی زبان بن کر صوفیانہ عقائد کی تبلیغ بالکل اس طرح کی جیسے کہ وہ خود چاہتے تھے۔ امیر خسرو لوگوں کو تصوف کی سادہ تعلیم سے روشنا س کرانا چاہتے تھے۔ اس لیئے انہوں نے پیچیدہ اور مشکل اصلاحات سے گریز کیا اور تصوف کی تعلیم کو سادہ اور عام فہم بنادیا۔

             غزل میں عشق مجازی کا غلبہ۔   امیر خسرو کی غزل میں عشق مجازی کا جو غلبہ نظر آتا ہے اس کی ایک وجہ تو یہی مسلکی تصوف کی سادگی ہے۔ دوسرا یہ کہ عشق مجازی چونکہ افراد میں مشترک ہے اور اس کے واردات عام طور  پر  سب  پر گزرتے ہیں۔ اس لیئے اس کے باریک  سے باریک نقطوں کو سمجھنا قارئین کے لیئے مشکل نہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیائ،  ہندوستان کی  غیر مسلم آبادی کی توجہ خدا کی طرف کرنا چاہتے ہیں ۔یعنی وہ اﷲ تعالی کی طرف رجوع کریں۔کیونکہ وہ لوگ مجاز پرستی  کی انتہا کو پہنچ گئے تھے اور ان کے ہر گوشہ دماغ میں ہزاروں صنم خانے آباد تھے، اس لیئے صوفیانہ عقائد کی تبلیغ کا بہتر ذریعہ ہی تھا کہ عشق مجازی کی ترجمانی کی جاتی۔ آپ کی غزلوں میں عشق  مجازی کا رنگ جھلکتا ہے مثال کے طور پر ۔

خرم شدہ است کہ امشب بریار خواہی آمد

سرمن فدای راہی کہ سوار خواہی آمد

بلب آمدہ است، جانم تو بیا کہ زندہ مانم

پس از ان کہ من نمانم بچہ کار خواہی آمد

             غزل میں تسلسل ۔  امیر خسرو کی بعض غزلیں مسلسل ہیں۔ کسی ایک کیفیت میں اتنی شدت اور لہجہ گیری ہوتی ہے کہ اس کے اثر میں پوری  غزل لکھ جاتے ہیں۔آپ کے اسلوب بیان پر ہندی ماحول کا اثر بھی معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ہندی الفاظ کو اتنی موزو نیت کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ وہ فارسی زبان کا جزو معلوم ہوتے ہیں ۔

دوزند قبا بہر قدت ازگل سوری

تاخلعت زیبای تو از لتہ نباشد

             مقبولیت۔   شعرو فکر میں آپ کو اتنا بلند مقام حاصل ہے کہ اکثر شعرائ نے آپ کی عظمت کا اقرار کیا ہے۔ حافظ شیرازی آپ کے بہت معتقد ہیں، چنانچہ اپنی عقیدت اس طرح ظاہر کی کہ خسرو کی منتخب  غزلیات کا ایک قلمی نسخہ تیار کیا۔ جو آج کل تاشقند کی لائبر یری میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ حافظ نے غیاث الدین حاکم بنگال کو جو غزل بھیجی تھی، اس کے ایک شعر میں امیر خسرو کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

شکر شکن شوند ہمہ طوطیان ہند      این قدر پارسی کہ بہ بنگالہ می رود

عرفی لکھتا ہے ۔

بروح خسرو  ازین پارسی شکر دارم                        کہ کام  طوطی ہندوستان شود شیریں


About admin

Check Also

سلجوقی دور کا رباعی گو شاعر بابا طاہر عریاں کی حالات زندگی پر ایک نظر

سلجوقی دور کا  رباعی گو  شاعر  بابا طاہر عریاں  کی  حالات  زندگی  پر  ایک  نظر …

Leave a Reply